افغانستان میں متعین پاکستانی سفیر کی طلبی، جواب بھی ٹھوس دیا گیا

افغانستان میں متعین پاکستانی سفیر کی طلبی، جواب بھی ٹھوس دیا گیا
افغانستان میں متعین پاکستانی سفیر کی طلبی، جواب بھی ٹھوس دیا گیا

  

تجزیہ : چودھری خادم حسین:

پاک فوج کی طرف سے جماعت الاحرار کے تربیتی مرکز کو تباہ کرنے سے بھارت پر بوکھلاہٹ طاری ہوگئی ہے اور افغانستان میں متعین بھارتی سفیر نے افغان حکومت کو مجبور کرکے احتجاج پر آمادہ کیا۔ معلوم ہوا ہے کہ بھارتی سفیر افغان وزارت خارجہ میں چار گھنٹے تک بیٹھا رہا جہاں پاکستانی سفیر کو بلا کر احتجاج کیا گیا۔ پاکستانی سفیر سے سخت لہجے میں گفتگو کی گئی تو انہوں نے مہذب انداز میں ٹھوس جواب دیا کہ یہ کام خود افغان حکومت کو کرنا چاہیئے تھا، اگر پاکستان کا عزم ہے کہ ملک کی سرزمین کسی دوسرے ملک میں مداخلت کے لئے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی تو افغان حکومت کو بھی اپنے وعدے کا لحاظ ہونا چاہیئے کہ یہاں تو افغانستان میں تربیتی کیمپ بنے ہوئے ہیں، جہاں تک بھارتی سفیر کے اس اقدام کا تعلق ہے تو اس کی نفسیاتی وجہ ہے جو یہ کہ بھارتی فوج نے کنٹرول لائن کے اس پار سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ کیا جو جھوٹا ثابت ہوا لیکن پاک فوج نے تو تربیتی مرکز تباہ کر دیا۔ یوں بھی اگر نیٹو کے ڈرون پاکستانی حدود میں کارروائی کا حق رکھتے ہیں تو پاکستان کو دہشت گردی مراکز پر کارروائی کا اختیار کیوں نہیں؟ پاکستان میں نہ صرف جماعت الاحرار بلکہ داعش نے بھی مسلسل دھماکے کئے، جو چاروں صوبوں اور فاٹا میں کئے گئے اور پورے ملک کو دکھ اور افسوس میں مبتلا کیا، ان میں سینکڑوں افراد شہید اور زخمی ہوئے جو سب کے سب معصوم تھے۔

جہاں تک سیاسی اور عسکری قیادت کے متفقہ فیصلے کے تحت دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا تعلق ہے تو عوام میں بہت پذیرائی اور اطمینان ہوا کہ اب سخت اقدامات کئے گئے ہیں اور مناسب جواب دیا گیا ہے۔ عوام یہی توقعات رکھتے ہیں۔ تاہم ایک بات کہی جا رہی ہے کہ واردات ہو جانے کے بعد ردعمل اپنی جگہ، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ انٹیلی جنس اور سکیورٹی اداروں کے درمیان اتنا مربوط تعاون ہو کہ مجرم واردات سے پہلے قابو کرلئے جائیں اور ان کے سہولت کار بھی پکڑے جائیں، اب صورت حال یہ ہے کہ حالیہ متفقہ فیصلوں کے بعد جنوبی پنجاب سمیت ان تمام علاقوں میں کارروائی ہو رہی ہے، جن کے اندر دہشت گردوں یا سہولت کاروں کی موجودگی کا یقین ہے۔

جہاں تک مال روڈ کے خودکش حملہ کے سہولت کاروں کی گرفتاری کا تعلق ہے تو یہ بھی اطمینان بخش اور بہتر کارروائی اور کارکردگی ہے، عوام کو توقع ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا اور یہ بھی امید ہے کہ ہمارے دینی رہنما اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے، دوسری طرف حکومت کے فرائض میں بھی بہت کچھ شامل ہے۔ اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری ہے، اگر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کی تجویز ہے تو صائب ہے لیکن ضروری امر ہے کہ پہلے اس کے لئے زمین ہموار کی جائے۔ قوم کا مطالبہ ہے کہ تحریک انصاف بھی اپنے رویے دہشت گردی کی حد تک تبدیل کرے، زبانی بیان کی بجائے عملی تعاون کرے، حکومت کو اب تیز تر ہونا ہوگا۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو اس کی طرف سے افغانستان میں متعین نیٹو کے امریکی جنرل نکلسن سے کیا گیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کریں، یہ بھی درست اقدام ہے، ہم نے بھی یہی تجویز دی تھی، اب بہتری کی دعا ہے۔

مزید :

تجزیہ -