پاک فوج کی دوسرے روز بھی افغانستان میں سرجیکل سٹرائیک کابل میں پاکستانی سفیر کی طلبی ،ملکی دفاع کیلئے تیار ہیں ،افغان آرمی چیف

پاک فوج کی دوسرے روز بھی افغانستان میں سرجیکل سٹرائیک کابل میں پاکستانی ...

  

خیبر ایجنسی،کابل (مانیٹرنگ ڈیسک،اے این این ) ملک میں سرحد پار سے آئے ہوئے دہشت گردوں کے حالیہ خود کش حملوں کے بعد پاک فوج کی جانب سے شدید رد عمل کا سلسلہ جاری ہے پاک فوج نے دوسرے روز بھی افغانستان کے اندر گھس کر رینا کے علاقے میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی،جس کے نتیجے میں 14دہشت گرد ہلاک اور 10ٹھکانے تباہ ہوگئے جبکہ کابل میں پاکستانی سفیر کو طلب کر کے افغان حکومت کی جانب سے ان کارروائیوں کیخلاف احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق پاک فوج نے آپریشن سے پہلے مقامی افراد سے علاقہ خالی کرالیا تھا اور سو کے قریب خاندان علاقے کو خالی کردیا تھا ۔ادھر افغان آرمی چیف نے کہاہے کہ دہشت گردوں کی فہرست پر کام کرنے کیلئے تیار ہیں ،انتہا پسندوں کی فہرست پاکستان کے علاوہ دوسرے ذرائع سے بھی موصول ہوئی ہے ، کسی کوافغان سرزمین پرحملے یا آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے،شیلنگ کے جواب میں ملکی دفاع کے لیے پوری طرح تیارہیں۔تفصیلات کے مطابق افغان آرمی چیف کا کہناتھا کہ افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی سرگرمیاں روکنے کیلئے کوشاں ہیں ،افغانستان نے بھی پاکستان کو دہشت گردوں کی فہرست اور نام مہیا کیے ہیں ،پاکستان سے بھی دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کی امید کرتے ہیں۔ان کا کہناتھا کہ کسی کو بھی افغان سرزمین پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے ،ضرورت پڑنے پر مزید معلومات کا مطالبہ بھی کریں گے۔ افغانستان میں بمباری کے حوالے سے پاک افغان حکام نے تحفظات سے ایک دوسرے کوآگاہ کیا ہے۔دوسری طرف افغان وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق کابل میں پاکستانی سفیر ابرار حسین کو وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا جہاں افغانستان کے نائب وزیر خارجہ حکمت خیل کرزئی نے ان سے ملاقات کی اور افغانستان کے صوبوں کنڑ اور ننگرہار میں پاک فضائیہ کی بمباری پر تشویش کا اظہار کیا ۔افغان وزیر نے پاکستان میں ہونے والے خود کش حملوں کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی ۔انھوں نے صوبہ ننگر ہار کے ضلع لال پور اور صوبہ کنڑ کے ضلع سرکانو میں بمباری کی مذمت کی ۔حکمت خیل نے طورخم اور چمن سے پاک افغان سرحد کھولنے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ گرفتار150افغانوں کو رہا کیا جائے۔ افغانستان میں تعینات پاکستانی سفیر سید ابرار حسین نے کہا ہے کہ افغانستان کیساتھ سرحد پر پاک فوج پر حملے ہو رہے ہیں۔ پاکستانی فورسز بھی جواب دینے کا حق محفوظ رکھتی ہے اسلئے کسی بھی اشتعال انگیزی کا موثر جواب دیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز شام کے وقت پاکستانی سفیر سید ابرار حسین کو افغان دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور احتجاجی مراسلہ حوالے کیا گیا ۔ دفتر خارجہ نے موقف اختیار کیا کہ پاکستان سے افغان سرحد پر گولہ باری کی جا رہی ہے جس میں افغان فوجی بھی مارے گئے ہیں۔ پاکستانی سفیر نے جواب دیا کہ گزشتہ پانچ دنوں میں پاکستان میں 8 دھماکے ہوئے ہیں اور ان تمام حملوں کے تانے بانے افغانستان میں ملے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی میں افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے، افغانستان اپنی ذمہ داری پوری کرے اور دہشت گردی کے سدباب کیلئے تعاون بڑھائے۔ سید ابرار حسین نے افغان حکام سے مزید کہا کہ پاک، افغان سرحد پر ہماری فورسز پر حملے ہو رہے ہیں۔پاکستانی فورسز ان حملوں کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتی ہیں، اس لئے کسی بھی اشتعال انگیزی کا موثر جواب دیا جائے گا۔ادھر افغان حکومت نے لعل شہباز کے مزار پر دھماکے میں افغان سر زمین استعمال ہونے کو مسترد کر دیا ۔افغان صدر کے ترجما ن کا کہنا ہے کہ پاکستان الزام لگانے کے بجائے اپنے ملک سے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم کرے ۔افغانستا ن میں دہشت گردوں کے لیے محفوظ ٹھکانے نہیں ہیں ،پاکستان کو اپنی سر زمین پر موجود دہشت گردوں سے نمٹنا چاہیے ۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان صدر کے ترجمان شاہ حسین مرتضوی نے کہا ہے کہ لعل شہباز قلندر کے مزار پر دھماکے میں افغان سرزمین استعمال نہیں ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں اپنی صاف نیت ثابت کردی ہے اور اب پاکستان کی باری ہے کہ اپنی سر زمین سے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرے ۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اپنی سرزمین ہمسائے ممالک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دے گا اور ہمیں امید ہے کہ دوسرے ممالک بھی اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم کریں گے ۔ شاہ حسین نے کہا کہ پاکستان الزام لگانے کے بجائے اپنے ملک سے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرے ۔افغانستان کی نیشنل ڈائریکٹو ریٹ آف سیکیورٹی کے سابق سربراہ امیر اللہ صالح نے الزام عائد کیا کہ لعل شہباز کے مزار پر دہشت گردی کا حملہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کو سپورٹ کرنے کا نتیجہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خود ہی اپنی سر زمین پر دہشت گردوں کے لیے محفوظ ٹھکانے بنائے ۔ان کا کہنا تھا کہ لعل شہباز قلندر کے مزار پر دھماکے کے پیچھے افغانستان کا کوئی ہاتھ نہیں اس لیے ہمیں کوئی وضاحت کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔

سرجیکل سٹرائیک

مزید :

صفحہ اول -