سانحہ مال روڈ میں شہید ہونے والا ،علی رضا تین کمسن بچوں کا باپ ،گھر کا واحد کفیل اور کرکٹ کا بہترین کھلاڑی تھا

سانحہ مال روڈ میں شہید ہونے والا ،علی رضا تین کمسن بچوں کا باپ ،گھر کا واحد ...

  

لاہور( لیاقت کھرل، تصاویر ندیم احمد) سانحہ چیئرنگ کراس میں شہید ہونے والا 27 سالہ علی رضا تین کم سن بچوں کا باپ، گھر کا واحد کفیل اور کرکٹ کا بہترین کھلاڑی تھا۔ علی رضا کی موت پرجہاں گھر والے اس کو یاد کر کے زاروقطار رو پڑتے ہیں وہاں پورے علاقے میں ہر آنکھ اشکبار اور سوگ کا سماں ہے۔ ’’پاکستان‘‘ کی ٹیم نے سانحہ چیئرنگ کراس میں شدید زخمی ہونے کے بعد گنگا رام ہسپتال میں دم توڑنے والے سلامت پورہ کے رہائشی 27 سالہ علی رضا کے گھر پہنچنے پر معلوم ہوا کہ علی رضا تین کم سن بچوں کا باپ اور گھر کا واحد کفیل تھا۔ علی رضا کا والد اور والدہ کئی سالوں سے بیمار رہتے ہیں۔ دو مرلہ کے مکان میں رہائش پذیر ہیں۔ علی رضا اپنے علاقہ میں کرکٹ ٹیم کا کپتان اور کرکٹ کا بہترین کھلاڑی تھا۔ علی رضا کی اچانک موت پر اس کی والدہ اور جواں سالہ بہنوں سمیت بیوہ غم سے نڈھال ہیں اور علی رضا کی جب یاد آتی ہے تو زاروقطار رو پڑتی ہیں جبکہ والدہ اور بیوہ پر غشی کے دورے پڑ رہے ہیں۔ اس موقع پر پورے علاقہ میں سوگ کا سماں تھا اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔ علی رضا کے بیمار والد سلامت علی اور گردے کے عارضہ میں مبتلا رہتا ہے۔ والدہ نے ’’پاکستان‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے 10 ، 12 سال قبل لوہاری کے علاقہ میں ایک میڈیکل سٹور پر چار ہزار روپے پر ملازمت شروع کی تھی اب 12 ہزار روپے تنخواہ لے رہا تھا اور ان کے بیماری میں مبتلا ہونے پر میڈیکل سٹور سے دوائیں بھی لے آتا تھا، والد سلامت علی نے بتایا کہ وہ شوگر کا مریض ہے اور محنت مزدوری کرتا تھا اب اس کا بیٹا علی رضا اس دنیا میں نہیں رہا اس کی دوائی کون لائے گا، والدہ نے زاروقطار روتے ہوئے بتایا کہ مہنگائی کے اس دور میں اتنی آمدنی بھی نہیں کہ دوائیوں کا خرچہ اور گھر چلا سکیں۔ علی رضا گھر کا واحد سہارا تھا، کیمسٹوں نے اپنی حکومت کے ساتھ جاری لڑائی میں اس کا بیٹا چھین لیا ہے۔ اب وہ علی رضا کے میڈیکل سٹور سے آنے کے وقت کو دیکھ دیکھ کر زاروقطار روتی رہتی ہیں۔ اس موقع پر علی رضا کے تین کمسن بچوں 5 سالہ امان فاطمہ، تین سالہ بیٹی مسکان اور ڈیڑھ سالہ بیٹے احمد علی کو علی رضا کی والدہ گود میں لے کر ایک طرف پیار کرتی تو دوسری طرف اس کے آنسو چھلک پڑتے۔ والدہ اور جواں سالہ بہنیں جہاں علی رضا کو یاد کر کے زاروقطار رو پڑتی ہیں وہاں پورے علاقے میں بھی سوگ کا سماں تھا اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔ علی رضا کی کمسن بڑی بیٹی امان فاطمہ سے ’’پاکستان‘‘ کی ٹیم نے جب یہ پوچھا کہ تمہارے پاپا سیر کے لئے کہاں لے کر جاتے تھے وہ کمسن امان فاطمہ نے روتے ہوئے کہا پاپا ہر اتوار کو سیر کیلئے لے جاتے اور شوارما اور آئس کریم کھلاتے تھے۔ رات کو پاپا گولیاں اور ٹافیاں بھی لاتے تھے۔ پچھلے چھ دن سے پاپا گھر نہیں آئے تھے اور زخمی ہونے پر ہسپتال میں بھی پاپا نے کوئی بات نہیں کی ، اب وہ قبر میں چلے گئے ہیں۔ اسے کون سیر کیلئے لے جائے گا اور آئس کریم اور شوارما کون لے کر دے گا۔ یہ کمسن بچی کے سوالات جن کے جوابات کسی کے پاس تو نہیں البتہ جو سنتا وہ زاروقطار رو پڑتا۔ علی رضا کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ انتہائی قابل اور محنتی تھا ، علاقہ میں کرکٹ کا بہترین کھلاڑی اور علاقہ میں کرکٹ ٹیم کا کپتان تھا اور اس کے ساتھ ساتھ سوشل ورکر بھی تھا جس پر عزیز و اقارب اور اہل علاقہ جن میں محمد عمران، محمد صدیق، محمد آصف چیمہ، نور احمد، بابا حکمت علی اور دیگر نے بتایا کہ علی رضا محلے کی آنکھ کا تارا تھا اور کیمسٹوں کے احتجاج کے دوران موت اسے کھینچ کر چیئرنگ کراس لے گئی۔ اب محلے کا ہر مرد اور عورت علی رضا کے سوشل کاموں کو یاد کر کے رورہے ہیں۔

علی رضا

مزید :

صفحہ اول -