سیہون شریف ،گندگی کے ڈھیر اور نالیوں میں انسانی اعضاء ملنے پر وزیراعلیٰ سندھ برہم

سیہون شریف ،گندگی کے ڈھیر اور نالیوں میں انسانی اعضاء ملنے پر وزیراعلیٰ ...

  

کراچی(خصوصی رپورٹ) مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے؟ ایک دھماکے نے دیکھتے ہی دیکھتے انسانی لاشوں کے انبار لگا دیئے۔ لاشیں اور اعضاء بکھر گئے۔ لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر اپنے دکھوں اور تکلیفوں کے مداوے کیلئے آنیوالے دہشت گردوں کا نشانہ بن کر جانوں سے ہی ہاتھ دھوبیٹھے۔ ان شہیدوں کیلئے پوری قوم نہ صرف دکھی ہے بلکہ ہر آنکھ اشکبار ہے۔ انسانوں کی سکیورٹی میں غفلت نے ان درندوں کو اپنا کام کرنے کی مہلت دی۔مگر جان سے جانے کے بعد بھی ان معصوم شہداء کے اعضاء اور باقیات کی مناسب طریقے سے تدفین نہ کی گئی۔ درگاہ کے قریب کچرے کے ڈھیر سے تعفن اْٹھنے لگا۔ جانور تک پھرتے رہے۔ معاملہ میڈیا پر آنے سے انتظامیہ کو بھی ہوش آگیا اور اس غفلت کو بھی چھپانے کیلئے صفائی کر دی۔ واقعہ کاوزیر اعلیٰ سندھ نے بھی نوٹس لے لیا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا سیہون شریف کی نالیوں میں انسانی اعضاء ملنے پر سخت برہمی کا اظہارکرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کوسخت ناراضگی دکھائی اور کمشنر کو انکوائری کا حکم دیدیااور کہا کہ جس کی بھی غفلت ہے اسے قرار واقعی سزا ملنی چاہیے ۔انہوں نے ان اعضاء کو جمع کر کے دفن کرنے کی ہدایت کی وزیراعلیٰ سندھ نے ضلعی انتظامیہ جامشور و کو واضح ہدایت کی کہ میرا دل بہت دکھا ہوا ہے مجھے مزید تکلیف نہ دیں ورنہ آپ لو گ تکلیف میں آجائینگے۔درگاہ کے سجادہ نشین اور ماسلامی سکالر مفتی نعیم نے بھی دنیا نیوز سے بات کرتے ہوئے انتظامیہ کی اس نااہلی کی شدید مذمت کی ہے۔

انسانی اعضاء

مزید :

صفحہ اول -