حکومتی دعوؤں کے باوجود گنے کے کاشتکاروں کا استحصال جاری ہے،میاں مقصود احمد

حکومتی دعوؤں کے باوجود گنے کے کاشتکاروں کا استحصال جاری ہے،میاں مقصود احمد

  

ملتان (سٹی رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصوداحمد نے کہاہے کہ حکومتی دعوؤں کے باوجود شوگر مل مالکان کی جانب سے (بقیہ نمبر31صفحہ7پر )

گنے کے کاشت کاروں کا استحصال کاسلسلہ جاری ہے۔65فیصد کاشت کاروں نے حکومتی رویے، شوگرمل مالکان کی بے حسی اور پانی کی بروقت عدم دستیابی کی وجہ سے گنے کی کاشت کم کردی ہے جوکہ تشویش ناک اور شوگر بحران کوجنم دے سکتی ہے۔دنیاکے دیگر زرعی ممالک میں کاشت کاروں کو ان کی محنت کاصلہ بروقت اداکیاجاتا ہے مگر پاکستان میں مقررکردہ ریٹ پر عمل درآمد تودرکنار کئی کئی ماہ تک ادائیگیاں ہی نہیں کی جاتیں۔انہوں نے کہاکہ گنے کاریٹ 180روپے فی من مقررہے مگر مل مالکان کی جانب سے کہیں بھی پوری ادائیگی نہیں کی جاتی۔بڑے بڑے سرمایہ دار اور مل مالکان حکومتی اور اپوزیشن کی صفوں میں موجود ہیں۔آپس کی ملی بھگت کے باعث کسانوں کو اصل اخراجات کاریٹ بھی نہیں مل پارہا۔رہی سہی کسر مڈل مینوں نے پوری کردی ہے۔کسانوں کی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اونے پونے نرخوں پر فصلیں خرید لی جاتی ہیں اور آگے مہنگے داموں فروخت کرکے اصل کمائی آڑھتیوں کے ہاتھ چلی جاتی ہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ حکمرانوں کی ساری توجہ سڑکیں بنانے پر مرکوز ہوکر رہ گئی ہے جبکہ زراعت ملکی معیشت میں70فیصد ریونیورکھتا ہے مگر بدقسمتی سے حکمرانوں کی ترجیحات میں یہ شعبہ شامل نہیں۔کسانوں کو درپیش مسائل ان کی دہلیز پر حل کیے جائیں ۔حکومت گنے کے کاشت کاروں کو بروقت ادائیگیوں کویقینی بناتے ہوئے گنے کے کسانوں کو ریلیف دے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -