مہمندایجنسی ،غلنئی خودکش حملہ میں تنگی کا تاج عالم بھی شہید ہوگیا

مہمندایجنسی ،غلنئی خودکش حملہ میں تنگی کا تاج عالم بھی شہید ہوگیا

  

تنگی (نمائندہ پاکستان )دہشت گردی نے کئی سہاگ اجاڑے تو کوئی بن سہرا سجائے دنیا سے چلا گیا ایسا ہی ایک شہید جسکا تعلق ضلع چارسدہ کے تحصیل تنگی کے پسماندہ علاقہ سنگا پور شکورسے ہے ۔ شہید نے چار سال پہلے قوم وطن کے حفاظت کی نیت سے خاصہ دار فورس میں سپاہی کے حیثیت سے ملازمت اختیار کی تھی ۔شہید کا تعلق نہائت غریب گھرانے سے تھا ۔ شہید ماں باپ اور تین بہنیں اور سات بھائی سوگواران میں چھوڑ گئے۔ شہید کے ماموں طاہر سنگا پور کا کہنا تھا کہ انکے بھانجے کے زندگی کی سب سے بڑی خواہش نیلی آنکھوں والی لڑکی سے شادی کرنا تھی اور ہم نے اسکی خواہش کو دیکھ کر بڑی مشکل سے کئی جرگوں کیذریعے پڑوس میں شہید تاج عالم کی منگنی ایک نیلی آنکھوں والی لڑ کی سے کرائی او ر ایک ماہ بعد اسکی شادی ہو نے والی تھی جسکے لئے تیاریاں عروج پر تھی اسی اثنا ء ظالمان نے تاج عالم کو ہم سے ہمیشہ کیلئے جدا کرکے خوشیوں والا گھر کو ماتم کدہ میں تبدیل کر دیا ۔شہید تاج عالم کے بہنوئی کا کہنا تھا کہ ٖغلنئی ہیڈکوارٹر پر جس وقت دہشت گرد حملہ آوار ہو رہے تھے اس وقت شہید تاج عالم ڈیوٹی سے واپس اپنے کمرے جاکر گھر میں اپنے بہن سے باتیں کر رہے تھے کہ اسی اثناء شہید نے فائرنگ کی آ واز پر اپنا بندوق اٹھا کر کمرے سے باہر چلے گئے اور جو ہی دہشت گرودوں کو دیکھا تو انہوں نے خود کش حملہ آور کو للکارا اور ان پر فائرنگ کی جس سے ایک خود کش حملہ آوار اسکے فائرنگ کا نشانہ بن گیا اور زمین پر گر کر اپنے انجام تک پہنچ گیا اس موقع پر دہشت گرد کا دوسرا ساتھی خود کش حملہ آور نے خود کو اڑا دیا جس کے نتیجے میں بہادر سپاہی تاج عالم بھی شہید ہوگئے اور یہ ساری کاروائی شہید کی بہن موبائیل فون پر سن رہی تھی ۔ شہید کی بہنوئی کا کہنا تھا کہ شہید تاج عالم کی بہن نے ٹیلی فون اپنے بھائی کہ یہ آخری الفاظ سنیں کہ وہ اپنے دوستوں سے کہ رہے تھے کہ شہید نے دونوں دہشت گردوں واصل جہنم کیا اور وہ خود شدید زخمی ہے اندازکیجئے کہ اس وقت شہید کی بہن پر کیا گزری ہوتی جب اسکا بھائی بے رحم دہشت گردووں کے ساتھ لڑ رہاتھا اور اخر کار انہوں نے جام شہادت نوش کیا ۔شہید کی والدہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کے سر پر شادی کا سہرہ سجانا چاہتی تھی مگر ان کی میت پر سہرہ رکھ بھی خو شی محسوس کر رہی ہو کیونکہ ان کے بیٹے نے ملک و قوم کیلئے قربانی دی ہے۔ شہید تاج عالم جب آخری بار گھر سے ڈیوٹی کیلئے جارہے تھے تو وہ بہت اداس نظر آرہے تھے ہم نے اس سے پوچھا کہ بیٹے آپ کیو اداس ہوں تو انہوں نے جواب میں کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں اور اگر میری وطن کو میری خون کی ضرورت پڑی تو میں اپنی خون کی قربانی د ینے سے گریز نہیں کرونگا ۔شہید کے والد لعل قادر کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے بیٹے کی جدائی کا دکھ ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر بھی ہے کہ انہوں نے اپنی خون کی قربانی دیکر سینکڑوں لوگوں کی زندگیاں بچائی او رانکے باقی بیٹے وہ خود بھی ملک وقوم کی خاطر ہر قسم قربانی کیلئے تیا ہیں ۔شہید کی بہادری پر انکے لوحقین کو گورنزر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا نے تیس لاکھ روپے کا چیک دیا جبکہ چیف آف آرمی سٹاف باجوہ اور پولیٹیکل ایجنٹ مہمند ایجنسی نے دس دس لاکھ روپے دینے کا اعلان بھی کیا اور شہید کے خاندان کے فرد کیلئے ایک نوکری بھی دینے کا اعلان کیا گیا ۔اہل علاقہ اور شہید کے لوحقین نے گورنر خیبر پختونخوا اور چیف آف آرمی سٹاف سے شہید کی لازوال قربانی اوربہادری پر اس کیلئے تمغہ امتیاز دینے کا مطالبہ کیا

مزید :

کراچی صفحہ اول -