ڈاکٹر عاصم کو گیس پیداوار بڑھانے کی سزا دی جارہی ہے،تاج حیدر

ڈاکٹر عاصم کو گیس پیداوار بڑھانے کی سزا دی جارہی ہے،تاج حیدر

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سینیٹ میں پاکستان پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر تاج حیدر نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے صدر ڈاکٹر عاصم حسین کو ملک کی مجموعی گیس پیداوار میں 10فیصد اضافہ کرنے کے لیے کنڑ پساکھی گیس فیلڈپر کام کا آغاز کرنے کی سزا کے طور پر قید کیا گیا ہے،کنڑ پساکھی گیس فیلڈ میں تقریبا 400ایم ایم سی ایف پیداوار ہونے کے باوجود بھی پیوری فکیشن اور ڈی ہائیڈریشن کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے یہ فیلڈ 1997سے بند ہے،ہفتہ کو نیب عدالت میں ڈاکٹر عاصم حسین کیس کی سماعت کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ تعجب کی بات ہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین کو گیس پیداوار بڑھانے کی سزا دی جارہی ہے جبکہ قطر سے مشکوک طریقے سے ایل این جی خرید کرنے پر تمام اداروں نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے، حالانکہ کسی کو بھی اس بات کا علم نہیں کہ یہ گیس کتنے دام پر خریدی گئی ہے یا یہ معاہدہ کیسے ہوا ہے، سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم حسین ہی تھے جنہوں نے گیس کی کمی اور اس کی درآمدات کوکم کرنے کے لیے ہی کنڑ پساکھی گیس فیلڈ سے جلد پیداوار حاصل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے، کنڑ فیلڈ کے مکمل آپریشنل ہونے سے سینکڑوں ٹیکسٹائل ملز کو بند ہونے سے بچایا جا سکات تھا اور ہماری بڑے پیمانے پر گیس درآمد کو بھی کم کیا جا سکتا تھا، سینیٹر تاج حیدر نے مزید کہا کہ ایل این جی بغیر ٹینڈر درآمد کی جارہی ہے، پورا پاکستان اس کے دام سے بے خبر ہے، اس سے ظاہر ہوا کہ ملک ایک اور بڑے معاشی اسکینڈل کا شکار ہو رہا ہے لیکن ڈاکٹر عاصم حسین کو نشانہ بنانے والے نیب اور دوسرے ادارے پتا نہیں کس وجہ سے خاموش ہیں، پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم حسین جیسے لوگوں کو ملک کی خدمت کے بدلے سزا دی جاری ہے لیکن جو لوگ قومی خزانے کی لوٹ مار کررہے ہیں ان کو ہاتھ بھی نہیں لگایا جاتا،سینیٹر تاج حیدر نے خبردار کیا کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ایک ملک میں دو قانون رائج ہیں، اگر ملک کی خدمت کرنے والوں سے یہ سزاں کا صلہ جاری رہا تو پاکستان میں جو اب تک کچھ ماہر کام کر رہے ہیں وہ بھی باہر جانے پر مجبور ہو جائیں گے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -