ہر ممتاز فنکار ،ادیب اور فلمی شخصیت کے سکینڈل ۔۔۔ چھٹی قسط

ہر ممتاز فنکار ،ادیب اور فلمی شخصیت کے سکینڈل ۔۔۔ چھٹی قسط
ہر ممتاز فنکار ،ادیب اور فلمی شخصیت کے سکینڈل ۔۔۔ چھٹی قسط

  

اس زمانے میں پاکستان میں برائے نام ہی فلمیں بنتی تھیں اس لئے ’’فلم کوآپریٹو ‘‘کی وجہ سے خاصی چہل پہل ہو گئی اور بہت سے لوگوں کو روزگار مل گیا۔ احمد صاحب کا پروگرام تھا کہ ایک سال میں چھ فلمیں بنائی جائیں گی اور ہر ایک کا ڈائریکٹر مختلف ہو گا۔بعد میں یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔اس ادارے کی بنائی ہوئی صرف ایک فلم ’’روحی ‘‘ریلیز ہوئی۔باقی فلمیں نامکمل ہی رہ گئیں یا شروع ہی نہ ہو سکیں۔

ہر ممتاز فنکار ،ادیب اور فلمی شخصیت کے سکینڈل ۔۔۔ پانچویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس زمانے کے دلچسپ واقعات بھی آپ کوسنائیں گے۔پاکستان کے فلم والوں سے ہمارا تعارف اور جان پہچان صحیح معنوں میں اسی زمانے میں ہوئی تھی۔احمد صاحب اور سیف صاحب سے ارادت مندی اورتعلقات کابھی اسی زمانے میںآغاز ہوا۔ یہ دونوں حضرات بلا کے باتونی اوردنیا بھر کے موضوعات پرحاوی تھے۔ہوتا یہ تھا کہ شام کے وقت ہم احمد صاحب کی کوٹھی پر جاتے۔ سیف صاحب بھی موجود ہوا کرتے تھے۔شام کی چائے اور رات کے کھانے کے بعد کافی کا دورچلتا رہتا۔شعرو ادب اور دنیا بھر کی فلموں کی باتیں ہوتی رہتیں یہاں تک کہ صبح ہو جاتی۔کار اس زمانے میں نہ ہمارے پاس تھی اور نہ سیف صاحب کے پاس۔چنانچہ فرید احمد کو جگایا جاتا جو ڈرائنگ روم ہی میں کسی صوفے پر سوئے ہوئے پائے جاتے تھے۔سخت سردی کا موسم‘اس پر رات کا اندھیرا۔احمد صاحب فرید کوآواز دیتے ’’سنی‘اٹھو بھئی۔ان لوگوں کو چھوڑنے جاناہے۔‘‘ سنی ان کا گھریلو نام تھا۔یہ وہی فرید احمد ہیں جو بعد میں ہدایت کا ر بنے۔جان پہچان‘عندلیب‘ بندگی جیسی یادگار فلمیں بنائیں اور پھر کینیڈا چلے گئے تھے۔چند ماہ قبل وطن واپس آ گئے تھے کیونکہ کینیڈا میں ڈاکٹروں نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ ان کا کینسر اب لا علاج ہو چکا ہے‘وہ تین ماہ سے زیادہ زندہ نہ رہ سکیں گے اس لئے تمام پرہیز اور علاج چھوڑ دیں اور جو جی میں آئے کریں‘جس شخص کی زندگی کی میعاد ہی صرف تین ماہ باقی رہ گئی ہو اسے کسی بھی پابندی میں جکڑنا بے معنی تھا۔ چنانچہ فرید احمد سب کچھ چھور چھاڑ کر لاہو ر آ گئے۔اپنے پرانے دوستوں اورپرانے رشتے داروں سے ملے۔ زندگی کے آخری لمحات اپنے والد کے بیڈ روم میں گزارے اور ڈاکٹروں کی پیش گوئی کے مطابق ٹھیک تین ماہ اور ایک دن بعد چپکے سے سوتے سوتے ہی اﷲ کو پیارے ہو گئے۔ان فرید احمد کی اور بھی بہت سی کہانیاں ہیں جو آگے چل کر سنائی جائیں گی۔

اس زمانے میں یہ صرف سنی تھے اور گورنمنٹ کالج سے تازہ تازہ گریجویٹ بن کر نکلے تھے۔تھیٹر اور فلم ان کا شوق تھا۔احمد صاحب انہیں گہری نیند سے جگاتے اورہم لوگوں کو کار میں ڈراپ کرنے کے لئے کہتے کیونکہ اس قدر کڑاکے کی سردی میں صبح کے چار بجے کوئی اور ڈرائیور یہ خدمت انجام نہیں دے سکتا تھا۔ وہ بے چارے خاموشی سے آنکھیں ملتے ہوئے اٹھتے‘ احمد صاحب باہر کار تک آکر ہم سب کو خدا حافظ کہتے ۔

فلم کو آپر یٹو میں ہم نے جن قابل ذکر شخصیات کو دیکھا ان میں اداکارہ ’’نینا ‘‘بھی تھیں۔یہ ڈبلیو زیڈ احمد صاحب کی بیگم تھیں۔ان کا اصلی نام شاہدہ تھا۔علی گڑھ کے ایک انتہائی اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور بی اے پاس تھیں۔محسن عبداﷲ سے ان کی شادی ہوئی تھی جو بمبئی کی ایک لیبارٹری میں کام کرتے تھے۔ڈبلیو زیڈ احمد اس زمانے میں بمبئی میں فلمیں بنانے کا پروگرام بنا رہے تھے۔شالیمار پکچرز کے نام سے انہوں نے پونا میں ایک فلم اسٹودیو بنایا تھااور ہندوستان کا کوئی قابل ذکر ادیب اور شاعر ایسا نہ تھا جسے انہوں نے شالیمار کمپنی میں ملازم نہ رکھا ہو۔یہاں تک کہ شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی بھی ان کے سٹوڈیو میں ملازم تھے۔

بمبئی میں احمد صاحب نے شاہدہ بیگم کو دیکھا تو فلم میں کام کرنے کی پیش کش کی جو انہوں نے پس و پیش کے بعد قبول کر لی۔ ’’ایک رات،من کی جیت ‘‘جیسی فلموں میں کام کرنے کے بعد وہ ہندوستان کی صف اول کی ہیروئن بن گئی تھیں۔اسی دوران میں محسن عبداﷲ سے علیحدگی ہو گئی اور انہوں نے ڈبلیو زیڈ احمد سے شادی کر لی۔ان کی یاد گار فلموں میں ’’میرا بائی ‘‘ بھی شامل ہے۔کہتے ہیں کہ ان کے پاکیزہ حسن اور فطری اداکاری کے باعث ہندوؤں نے انہیں پوجنا شروع کر دیا تھا۔اخباروں نے تبصروں میں لکھا کہ ’’میرا بائی ‘‘ا س سے بڑھ کر کیا ہو گی ؟اپنے حسن و جمال‘ بے ساختہ اور سادہ اداکاری کے باعث انہوں نے ہندوستان کی بڑی بڑی ہیروئینوں کے چراغ گل کر دیئے تھے۔وہ کرشن جنم پر ایک فلم میں کام کر رہی تھیں کہ پاکستان قائم ہو گیا۔ فسادات کی آگ نے بمبئی اور پونا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔احمد صاحب کے تمام رشتے دار پاکستان میں تھے۔وہ خود بھی کٹر پاکستانی تھے اس لئے پاکستان چلے آئے۔پاکستان آ کر ’’نینا‘‘ نے صرف ایک فلم ’’اکیلی ‘‘میں کام کیا تھا جو سید عطاء اﷲ شاہ ہاشمی نے بنائی تھی۔اس کے بعد وہ اداکاری سے کنارہ کش ہو گئیں۔البتہ فلم کوآپریٹو میں اور احمد صاحب کی فلموں میں ڈیکو ریشن اور ملبوسات کے بارے میں وہ مشورہ دیتی رہتی تھیں۔

چند سال قبل طویل علالت کے بعد ان کا انتقال ہو گیا تو احمد صاحب نے اپنے اسٹوڈیو کے احاطے میں ہی ان کو دفن کر دیا۔ احمد صاحب ان کا تذکرہ یوں کرتے جیسے وہ ابھی تک زندہ سلامت ہوں۔وہ ’’بیگم صاحب ‘‘کہہ کر ان کانام لیتے تھے۔ ہم آج تک یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ وہ ایک عظیم اداکارہ تھیں یا عظیم خاتون ؟یہ فیصلہ کرنا آسان بھی نہیں ہے۔ہم نے ان کی زبان سے کبھی فلمی زمانے کا کوئی تذ کرہ نہیں سنا تھا۔کبھی محسوس ہی نہیں ہوا کہ ہمارے سامنے جو شفیق اور پر وقار خاتون بیٹھی بے تکلفی سے باتیں کررہی ہیں کسی زمانے میں ہندوستان کی چوٹی کی ہیروئن تھیں۔

’’روحی ‘‘کی ہیروئن شمی سے ہماری پہلے بھی ملاقات ہو چکی تھی۔وہ بونے سے قد اور دلکش شکل وصورت رکھنے والی خاموشی پسند خاتون تھیں۔ہر ایک سے بے تکلف بھی نہیں ہوتی تھیں۔اس زمانے میں وہ اور صبیحہ خانم ہی دو بڑی ہیروئنیں تصور کی جاتی تھیں۔تھورے عرصے بعد ہی انہوں نے اداکار سدھیر سے شادی کر کے اداکاری سے منہ موڑلیا۔شادی کے بعد انہوں نے سدھیر صاحب کی ایک فلم ’’ساحل ‘‘میں ہیروئن کا کردار اد اکیا تھا۔پھر چند سال بعد سدھیر صاحب ہی کی ایک اور فلم ’’بغاوت ‘‘میں بھی ہیروئن کا رول اد اکیا اور اس کے بعد فلمی کیمرے نے کبھی ان کی جھلک تک نہیں دیکھی۔ شادی کے بعد شمی نے فلمی تقریبات میں شرکت کرنا بھی چھوڑ دیاتھا۔

پاکستان میں چھوٹے پیمانے پر صنعت فلم سازی دوبارہ قائم ہونے لگی تھی اگرچہ مشہور بھارتی فلمیں بھی سینما گھروں میں دکھائی جاتی تھیں لیکن پاکستان میں بننے والی فلموں کی تعداد میں بھی رفتہ رفتہ اضافہ ہونے لگا تھا۔شاہ نور اسٹوڈیو میں اب تین فلور بن چکے تھے۔سازو سامان بھی مل گیا تھا۔کچھ شوکت حسین رضوی صاحب نے خود ہی تیار کر لیا تھا۔اسکرین اینڈ ساؤنڈ اسٹوڈیو کے علاوہ پنچولی اسٹوڈیو اور ملکہ اسٹوڈیو میں بھی فلمیں بننے لگی تھیں۔بڑی غربت اور بے سروسامانی کا عالم تھا مگر پھر بھی لوگ نئے اور روشن مستقبل کی امید میں کاموں میں لگے ہوئے تھے۔ پاکستان میں فلمی میگزین بھی نکل رہے تھے مگر ان کی تعداد بہت کم تھی۔ ’’ڈائریکٹر ‘‘کے مدیر شباب کیرانوی تھے۔’’فلم لائٹ ‘‘ کے مالک و مدیرعیسیٰ غزنوی تھے۔ ’’تیرو نشتر ‘‘کے مالک و مدیر خوا جہ خادم حسین تھے۔یہ لاہور کے فلمی پرچے تھے۔لاہور ہی سے انگریزی کا میگزین ’’فلم ورلڈ ‘‘اور ’’مووی فلیش‘‘ نکلتے تھے۔کراچی سے ہفت روزہ ’’نگار ‘‘شائع ہوتا تھا اور فلمی حلقوں میں ا س کا بہت اثر تھا۔یہ اخباری سائز پر تھا۔اخباری سائز پر ہی ایک اور ہفتہ روزہ ’’کردار‘‘بھی شائع ہوتا تھا جس کے مالک و مدیر خواجہ بقااﷲ تھے۔ بعد میں کراچی سے‘جب ایسٹرن فلم اسٹوڈیو بنا تو ایک انگریزی میگزین ’’ایسٹرن فلمز ‘‘بھی اسی ادارے کے زیر اہتمام شائع ہونے لگا۔فلمی پرچوں ہی کی اس زمانے میں قدروقیمت ہوا کرتی تھی۔بڑے بڑے اداکار اور فلم ساز و ہدایت کار ان کی خوشنودی حاصل کرنے میں لگے رہتے تھے۔میگزین کے سر ورق پر جو رنگین تصویر شائع ہوتی تھی یہ بھی ایک اعزاز سمجھا جاتا تھا جس کے لئے ہیروئنوں میں مقابلہ جاری رہتا تھا۔اس سر ورق کے اخراجات عام طور پر خود ہیروئن یا فلم ساز ادا کرتا تھا۔

ہم 1952ء میں روز نامہ ’’آفاق ‘‘سے وابستہ ہو گئے تھے۔اس زمانے کے بڑے ناموراور ممتاز صحافی اس اخبار میں کام کرتے تھے اور اس کی اشاعت بھی بہت زیادہ تھی۔کچھ عرصے بعد سنڈے ایڈیشن بھی ہمارے ذمے کر دیا گیا۔اسی زمانے میں ہماری شناسائی سارے قابل ذکر شاعروں‘ ادیبوں اور افسانہ نگاروں سے ہوئی کیونکہ ’’آفاق ‘ ‘ کاسنڈے ایڈیشن ایک مؤقر اشاعت سمجھی جاتی تھی۔ہر ایک اس میں اپنی تحریریں شائع کرانا چاہتا تھا۔سب سے بڑھ کر یہ کہ ’’آفاق ‘‘لکھنے والوں کو معاوضے بھی دیا کرتا تھا۔ غزل یانظم کا معاوضہ دس روپے تھا۔نثری مضمون یا افسانے کامعاوضہ پندرہ روپے مقرر تھا۔اس زمانے میں یہ بھی خاصی رقم تھی۔خصوصاً ایسے حالات میں جب کہ ’’امروز ‘‘ کے سوا کوئی دوسر ااخبا ر لکھنے والوں کو معاوضہ ہی نہیں ادا کرتا تھا۔ سعادت حسن منٹو صاحب کے لئے خصوصی طور پر پچیس روپے معاوضہ مقرر تھا۔ہاں‘ہم یہ بتانا بھول گئے کہ فلمی ماہنامہ ’’ڈائریکٹر ‘‘بھی لکھنے والوں کو معاوضہ ادا کرتا تھا۔اس وقت کے ممتاز اور اہل قلم اس میں لکھا کرتے تھے اور وہاں ان کی آمدورفت بھی تھی۔ شباب کیرانوی اسی زمانے میں لاہور کے علمی و ادبی حلقوں میں معروف اور مقبول ہو چکے تھے۔

’’آفاق ‘‘میں بھی نئے اور پرانے لکھنے والوں کا جمگھٹا لگا رہتا تھا۔سبھی سے ہماری دوستی ہو گئی تھی۔ ابراہیم جلیس کراچی سے آتے تو ہمارے دفتر ضرور آتے۔گپ شپ بھی ہو جاتی اور آمدنی بھی۔کبھی وہ منیر نیازی کے ساتھ گھومتے ہوئے آجاتے۔منیر نیازی کہتے ’’یار آفاقی۔ یہ شکرا، کراچی سے آیا ہوا ہے۔اس کی خاطر مدارت بھی کرنی ہے۔‘‘

وہ ایک غزل یا نظم لکھ کر دیتے اور ابراہیم جلیس کے ساتھ قہقہے لگاتے ہوئے رخصت ہو جاتے۔وہ بڑے عجیب اور خوب صورت انسان تھے۔

بمبئی اور دلی سے شائع ہونے والے اردو‘انگریزی فلمی پرچے بھی کھلے عام بازار میں فروخت ہوا کرتے تھے۔’’فلم فیئر ‘‘بہت خوب صورت پرچہ تھا۔اس کی قیمت صرف آٹھ آنے تھی۔ اسی زمانے میں بمبئی سے اخباری سائز پر ایک اور اچھافلم میگزین شائع ہونے لگا‘اس کا نام ’’اسکرین ‘‘تھا۔اس کی قیمت صرف چار آنے تھی حالانکہ کافی ضخیم پرچہ تھا اور اس میں خبریں اور تبصرے بھی زیادہ ہوا کرتے تھے۔

اسی زمانے میں لاہور میں ایک ایسا ہنگامہ خیزفلمی واقعہ رونما ہواجس نے پاکستان کی ننھی منی سی فلمی دنیا میں ہلچل مچا دی۔معلوم ہوا کہ ہالی ووڈ کی ایک مشہورفلم ساز کمپنی نے اپنی فلم ’’بھوانی جنکشن ‘‘کی فلم بندی لاہور میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔لاہور والوں کی تو جیسے عیدہوگئی۔ہالی ووڈ کی فلم کا یونٹ لاہور آنے والا تھا۔جس میں اس دور کے سپر اسٹار ایوا گارڈنر اور اسٹیورٹ گرینجر مرکزی ادا کر رہے تھے۔ایوا گارڈنر اپنے حسن وجمال اور اسکینڈلز کے باعث دنیا بھر میں مشہور تھیں۔اسٹیورٹ گرینجر کی بہت سی فلموں نے دھومیں مچا دی تھیں۔وہ اس زمانے کی ایک مشہور ہیروئن جین سمنز کے شوہر بھی تھے۔اس فلم کے ہدایت کار جارج کیوکر تھے جو ہالی ووڈ کے صف اول کے ہدایت کاروں میں شمار کیے جاتے تھے۔پاکستان کے روز نامے اس زمانے میں فلموں کی خبریں شائع نہیں کرتے تھے مگر ہالی ووڈ کی فلم کی تو بات ہی او ر تھی۔’’ڈان ‘‘سے لے کر ’’پاکستان ٹائمز ‘‘ اور ’’امروز ‘‘ سے لے کر ’’جنگ‘نوائے وقت اور آفاق ‘‘اخبارات میں بھی ’’بھوانی جنکشن ‘‘کے حوالے سے خبریں شائع ہونے لگیں۔

جاری ہے۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید :

فلمی الف لیلیٰ -