پنجاب میں تمام کالعدم تنظیموں کے خلاف بے رحمانہ آپریشن، دہشت گردی کیخلاف رینجرز کی خدمات لینے کا فیصلہ

پنجاب میں تمام کالعدم تنظیموں کے خلاف بے رحمانہ آپریشن، دہشت گردی کیخلاف ...
پنجاب میں تمام کالعدم تنظیموں کے خلاف بے رحمانہ آپریشن، دہشت گردی کیخلاف رینجرز کی خدمات لینے کا فیصلہ

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب حکومت نے صوبے میں  دہشت گردوں سے نمٹنے  اور تمام کالعدم تنظیموں کے خلاف آپریشن کرنے کیلئے رینجرز کی خدمات لینے کا فیصلہ کر لیا ہے ،دہشت گردوں ،کالعدم تنظیموں ،سہولت کاروں اور مالی امداد کرنے والوں کے خلاف بے رحمانہ آپریشن ہو گا ،سرحدی اضلاع کی کڑی نگرانی اور انٹیلی جنس تعاون بہتر بنانے سمیت اہم فیصلے ۔

شادی کے سیزن میں اس چیز سے بال دھونے سے ان میں ایسی چمک آئے گی کہ سب آپ کی تعریف کرنے پر مجبور ہوجائیں گے

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبا شریف کی زیر صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں  دہشت گردی، عسکریت پسندی،ا نتہاپسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے نیشنل ایکشن پلان کے تحت کئے جانے والے اقدامات پر پیش رفت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ ،کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل صادق علی،صوبائی وزیر انسداد دہشت گردی کرنل (ر) محمد ایوب ،ڈی جی رینجرز پنجاب میجر جنرل اظہر نوید حیات، جنرل آفیسر کمانڈنگ 10 ڈویژن میجر جنرل سردار طارق امان، چیف سیکرٹری کیپٹن (ر) زاہد سعید، انسپکٹر جنرل پولیس مشتاق احمد سکھیرا، سیکرٹری داخلہ میجر (ر) اعظم سلیمان خان اور اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ایک ہزار 238 دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ 233 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔ مختلف کارروائیوں کے دوران 870 افراد کو فرقہ واریت پھیلانے پر گرفتار کیا گیا جبکہ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والی 219 کتابوں پر پابندی بھی عائد کی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ حالیہ دہشت گردی کے واقعات کرنے والوں کا نیٹ ورک افغانستان سے آپریٹ ہو رہا تھا جس کے 3 سہولت کاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردوں سے نمٹنے کی کوششوں میں رینجرز کا تعاون حاصل کیا جائے گا، اس تعاون کی نوعیت اور حد کیا ہوگی ؟ اس کا فیصلہ بعد میں طے کیا جائے گا ،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بے رحمانہ آپریشن ہو گا اور ان کے خلاف بلا امتیاز اور بلا تفریق کارروائی ہو گی، دہشت گردوں ، سہولت کاروں اور ان کو پناہ دینے والوں کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا، کالعدم تنظیموں کے خلاف بلاامتیاز ہر جگہ کارروائی ہوگی اور    بین تنظیموں کے تمام چھوٹے بڑے کارندوں کو گرفتار اور  مالی معاونت کے تمام ذرائع بھی  بند کئے جائیں گے۔اجلاس میں افغان مہاجرین کی غیر قانونی نقل و حرکت روکنے کے لئے سخت اقدامات کا بھی فیصلہ کیا گیا جبکہ پنجاب کے سرحدی اضلاع کی کڑی نگرانی پر بھی زور دیا گیا۔اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اندرونی و بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے تمام انیٹلی جنس اداروں کے درمیان تعاون مزید بہتر بنایا جائے گا جبکہ صوبائی انٹیلی جنس کمیٹی کااجلاس باقاعدگی سے منعقد ہوگا۔

اجلاس میں لاہور دھماکے کے ذمہ داروں کی گرفتاری اوردہشت گرد نیٹ ورک کا سراغ لگانے کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی جبکہ  لاہور دھماکے کیلئے افغان سرزمین کے استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ،اجلاس میں لاہور دھماکے کے خودکش بمبار کے سہولت کار اور دیگر دہشت گردوں کی گرفتاری پر اطمینان کا اظہار جبکہ محکمہ انسداد دہشت گردی کی کارکردگی کو بھی سراہا گیا۔

TapMad نے ہمہ وقت سرگرم رہنے والوں کے لئے انٹرٹینمنٹ کی نئی دنیا متعارف کروادی

ذرائع کے مطابق اجلاس میں پنجاب میں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے مطابق رینجرز کی خدمات حاصل کرنے کے فیصلے کے حکومت کی مرضی سے مخصوص علاقوں میں رینجرز آپریشن کرے گی۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -