دہشت گردی کیوں جاری ہے؟

دہشت گردی کیوں جاری ہے؟
دہشت گردی کیوں جاری ہے؟

  

پاک فوج نے افغانستان میں ایک طرح سے سرجیکل سٹرائل کرکے دہشت گردوں کے ٹھکانون کو تباہ کردیا ہے لیکن یہ کام بہت پہلے ہوجانے چاہیں تھے۔حالیہ دہشت گردی کی لہر کی وجہ یہ نظر آرہی ہے کہ دہشت گردوں سے ہمارے قانون ساز ادارے اور قانون نافذ کرنے والے بروقت نہیں نبٹتے ۔2سال تک تومسلسل فوجی عدالتیں تیزی سے خصوصی مقدمات کا فیصلہ کرتی رہی ہیں اورشہیدوں کے خاندان کے سپوت جنرل راحیل شریف کے دور میں دہشت گردی کا خاتمہ ہوتا نظر آرہا تھا مگر جونہی فوجی عدالتوں کی میعاد مدت ختم ہوئی توملک دشمنوں کو خوف دور ہوتا نظر آیا جس کا ثبوت یہ ہے کہ اب دہشت گردی دوبارہ زور پکڑ رہی ہے اور دہشت گرد دوبارہ اپنی زیر زمین بلوں سے نکل کر وارداتیں کرنے لگے ہیں۔

حال ہی میں خیبر ایجنسی میں افغانستان سے ہماری بارڈر پوسٹ پر حملہ کیا گیا جس سے ہمارے دو جوان شہادت پاگئے فوری جواب دیکر ان کے تین افراد جہنم واصل کیے گئے اس وقوعہ سے12گھنٹے قبل دربار لعل شہباز قلندر سیون شریف پر ایک برقعہ پوش دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑا لیاجس سے اب تک 90بچے خواتین اور مرد شہید ہو چکے ہیں اور اڑھائی سو سے زائدشدید زخمی ہیں علاج معالجہ کی سہولتوں کی کمی کی وجہ سے سخت پریشانی کا سامنا ہے ۔یہ دھماکہ تو بقول بلاول بھٹو علاقائی ثقافت تہذیب و تمدن پر حملہ ہے ۔

لاہور میں حالیہ بزدلانہ حملے سے ابھی چودہ شہداء کے جنازے ہی اٹھ رہے تھے اور ان کا کفن دفن جاری تھاکہ پشاور کے علاقہ حیات آباد میں بارودی دھماکہ کرڈالا گیا جس کا ٹارگٹ اعلیٰ عدالتوں کے جج تھے جنہوں نے غالباً ان دہشت گردوں یا ان کے لواحقین کے خلاف فیصلہ سنا کر کارروائی کا حکم دیا ہو گا اس طرح دو بڑے صوبوں کے ہیڈ کوارٹرز کے عوام کورلا ڈالا گیا۔بعد ازاں مہمند ایجنسی اورڈیرہ اسماعیل خاں میں بھی سیکورٹی اداروں پر حملے کرکے انھیں شہید کرڈالا گیا۔

بڑے شہروں میں تو ہر چوک اور گلی کے موڑ پر تو پولیس موجود رہتی ہی ہے مگر پھر بھی دہشت گرد اپنی مذموم کاروائیاں اور وارداتیں کر گئے حکومتی اداروں اور اہم انتظامی افرادکو دو ہفتے قبل ہی انٹیلی جنس اداروں نے بتا دیا تھا کہ دہشت گرد اپنے مخصوص اسلحہ و دھماکہ خیز مواد کے ساتھ داخل ہو چکے ہیں۔ لاہور کے واقعہ کے شہید ڈی آئی جی تو ہڑتالی ادویات فروشوں کے ساتھ مذاکرات کرتے ہوئے بار بار کہہ رہے تھے کہ ٹریفک کو چلتا رہنے دیں و گرنہ دہشت گردی کا امکان ہو سکتا ہے اور وہی ہواکہ چند منٹ بعد ہی دہشت گرد نے پولیس وین کے قریب ہی اپنے آپ کودھماکے سے اڑا لیا۔جس میں ڈی آئی جی خود ایک ایس ایس پی اور دیگر ایک درجن افراد لقمہ اجل بن گئے اور ان کی روحیں جنت الفردوس کو سدھار گئیں۔

آج تک عوام کے لیے سوالیہ نشان موجود ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں قبل ازوقت بتا دیتی ہیں کہ فلاں علاقے میں دہشتگرد بمعہ اسلحہ کے داخل ہوچکے مگر وہ ان دہشت گردوں کو شاید جانتے بوجھتے ہوئے بھی مزید معلومات کیوں نہیں دیتے۔ ان کی نشاند ہی ان کے حلیہ اور جس علاقہ میں وہ"آرام "فرما رہے ہوتے ہیں ان کی جگہ وقوعہ بتانے میں کیا حرج ہے ؟دوسرا سوال یہ کہ انتظامی افسران اور ہماری پولیس ورینجرز اطلاعات ملنے پر بھی کیوں موثر حفاظتی اقدامات نہیں کرتیں؟کیا ایسا کرنا ان کے فرائض منصبی میں نہیں آتا ؟در اصل قوم پر سستی کی جو لہر آئی ہوئی ہے اس سے محنت نہ کرنے اور یوں کام چوری کی عادت پڑ گئی ہے۔نشہ آور ادویات نے بھی انسانوں کے اجسام کو آرام طلبی پر لگا دیا ہے بیشتر افراد رات کو نیند آور گولیاں کھا کر سوتے ہیں۔

9/11کے بعد امریکہ نے عالم اسلام کے ممالک پر بغیر کسی مخصوص وجہ کے، حملوں کے سلسلے شروع کردیے۔القاعدہ کی تلاش میں افغانستان کو مکمل بھسم کر ڈالنے کا پرو گرام بنایا جس کے لیے ہمارے کمانڈو جنرل مشرف انھیں ایک ہی فون کال پر "مکمل مہیا ہو گئے" اور افغانستان میں طالبان کی وہ بنی بنائی حکومت جسے پاکستان نے بھی تسلیم کر لیا تھا کو تہس نہس کرڈالا گیا ۔یہ تو شکر ہے کہ آج تک اس ملک کے عوام ہی اتنے جری اور خوددارنکلے کہ اب تو وہ بیرونی سامراجی فوجوں کا مقابلہ کرکے کوشاں ہیں کہ انہیں واپس بھگا ڈالیں اور امریکہ بھی فوجوں کو نکالنے اور واپسی کے لیے تیار ہو چکا ہے ۔پاکستان کے اندر بھی مشرف کے دور میں ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا بظاہر تو وہ دہشت گردوں کے خاتمہ کے لیے حملے کرتے تھے مگر گہیوں کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے کی طرح کئی معصوم افراد بچے بچیاں اور خواتین بھی جو کہ قطعاً مجرم نہ تھے وہ بھی ہلاک کیے جاتے رہے شرح میں کیا شرم۔۔۔ جو معصوم افراد ڈرون حملوں کی زد میں آئے ان کے لواحقین بہن بھائیوں کے اندر سخت رد عمل نے جنم لیا اور بدلہ لینے کے لیے وہ انتہا پسند تنظیموں کا رخ کر گئے۔یہیں سے دہشت گرد بمباروں نے جنم لیا۔ جلتی پر پٹرول مشرف نے ڈال دیا اسلا م آباد کی لال مسجد پر زہریلی گیسوں سے سینکڑوں حفاظ بچیوں کو بھسم کر ڈالا گیا ور ان کے جلے ہوئے اعضاء و ہڈیاں تک گٹروں میں بہا ڈالے۔ ان کے لواحقین اور عزیز و اقارب بھی بدلہ کی غرض سے انتہا پسند بن گئے ہوں گے۔ بلوچستان میں بھی امن عامہ کا مسئلہ بنا رہا اور بلوچستانیوں کے دلوں میں نفرتوں کی چنگاریاں بھر ڈالی گئیں۔ یوں ادلوں سے بدلوں اور بیرونی پاکستان دشمن ملکوں کے فنڈز سے یہ سلسلہ اب رکنے کا نام نہیں لے ۔رہا فوجی عدالتیں جلداز جلد سزا ئیں دے ڈالتی تھیں تو دہشت گرد چھپ کر اپنی زندگیاں بسر کر رہے تھے۔ اب دوبارہ فوجی عدالتوں کی بحالی کے لیے ہمارے نام نہاد سیاستدانوں کا کئی میٹنگوں کے بعد بھی اتفاق نہیں ہو سکااور لوگ دوبارہ دہشت گردوں کی ہٹ پر آگئے ہیں۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں ، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -