A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

سیہون بم دھاکہ، حفیظ بروہی گروپ کے ملوث ہونے کا انکشاف ،قانون نافذکر نیو الے اداروں کو عبدالحفیظ پندرانی کی تلاش

سیہون بم دھاکہ، حفیظ بروہی گروپ کے ملوث ہونے کا انکشاف ،قانون نافذکر نیو الے اداروں کو عبدالحفیظ پندرانی کی تلاش

Feb 19, 2017 | 15:37:PM

سیہون (این این آئی)سیہون بم دھاکے کا مبینہ سہولت کار خیرپور کے نواحی علاقے سے گرفتار کرلیا گیا جس سے تفتیش جاری ہے۔ذرائع کے مطابق ملزم سے تفتیش کے دوران سیہون دھماکے میں شکارپور سے تعلق رکھنے والے حفیظ بروہی گروپ کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ شبہ ہے کہ عبدالحفیظ پندرانی نے اس حملے کے لیے سہولت کار کا کردار اداکیا ، عبدالحفیظ پندرانی کا نام سندھ کی انتہائی مطلوب دہشت گردوں پر مشتمل ریڈ بک کے صفحہ نمبر 57 پر درج ہے،پندرانی عرف علی شیر کی عمر تقریبا 35 سال ہے ٗ شکارپورکے عبدالخالق پندرانی گوٹھ کا رہائشی اور دہشتگرد آصف چھوٹوکا قریبی ساتھی ہے۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے مطابق حفیظ بروہی گروپ لشکرجھنگوی چھوڑ کر داعش کے ساتھ منسلک چکا ہے،یہ گروپ شکارپور بم دھماکوں میں بھی ملوث رہا ہے،خودکش بمبار افغانی تھا، جس کا جہادی نام تبدیل کیا گیا، دھماکے کے لیے خودکش جیکٹ بھی شکارپور میں تیار کی گئی۔ابتدائی تحقیقات میں سہولت کار نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں دھماکوں کے لیے افغانیوں کا استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ افغانستان میں بم دھماکوں کے لیے پاکستانیوں کو خودکش بمبار بنایا جاتا ہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرسکھر میں ہونے والے دھماکے میں جو کار استعمال ہوئی وہ بھی شکارپور میں تیار ہوئی تھی۔ذرائع کے مطابق شکارپور بم دھماکوں میں ملوث ملزمان کے نام سامنے آچکے ہیں،جن دہشت گردوں کے نام سامنے آئے انہیں اب تک نہ گرفتار کیاجاسکا نہ ان کے ناموں کو ریڈ بک میں ڈالا گیا۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ انتہائی خطرناک دہشت گردوں کے نام سامنے آنے کے باوجود گرفتاری پر کوئی انعام بھی مقرر نہیں کیاگیا۔

دوسری طرف سانحہ سہون شریف کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک ایسے شخص کی تلاش میں انتہائی سرگرم ہیں جس پر سانحہ لال شہباز قلندر میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ اس انتہائی مطلوب دہشت گرد کا نام عبدالحفیظ پندرانی ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شبہ ہے کہ عبدالحفیظ پندرانی نے ہی خود کش حملہ آورکے سہولت کار کا کردار ادا کیا ہوگا ۔ مختلف واقعات اور مشتبہ افراد سے کی جانے والی تفتیش میں وقتاً فوقتاً عبدالحفیظ پندرانی کا نام سامنے آتا رہا ہے ۔عبدالحفیظ پندرانی رواں سال 18 جنوری کو شیخوپورہ میں مارے گئے لشکر جھنگوی کے سربراہ آصف چھوٹو کا اہم ترین ساتھی ہے ۔ عبدالحفیظ پندرانی کا نام سی ٹی ڈی سندھ کی انتہائی مطلوب دہشت گردوں پر مشتمل ریڈ بک کے صفحہ نمبر 57 پر درج ہے ۔سی ٹی ڈی سندھ کی ریڈ بک کے مطابق عبدالحفیظ پندرانی عرف علی شیر کی عمر تقریبا 35 سال ہے اور وہ ضلع شکارپورکے عبدالخالق پندرانی گوٹھ کا رہائشی ہے ۔ اس کا آبائی تعلق بلوچستان کے علاقے مستونگ سے ہے تاہم کافی عرصے تک خان پور کے قریب واقع ایک علاقے میں رہائش پذیررہا ،عبدالحفیظ پندرانی کا تعلق کالعدم لشکر جھنگوی بلوچستان سے ہے ۔ عبدالحفیظ پندرانی اندرون سندھ دہشت گردی کی بڑی وارداتوں میں آصف چھوٹوکے ساتھ شامل رہا ہے۔31 جنوری 2015 کو شکارپور کی کربلا معلی میں جمعے کی نماز کے دوران خود کش حملہ کیا گیا جس میں 60 سے زائد لوگ جاں بحق ہوگئے تھے۔ اس حملے کا ماسٹر مائنڈ بھی کالعدم لشکر جھنگوی کا آصف چھوٹو تھا جسے مقامی طور پر عبدالحفیظ بروہی نامی شخص نے مکمل معاونت فراہم کی تھی۔اس واقعے میں ملوث خلیل احمد نامی شخص کو سی ٹی ڈی نے حراست میں لیا تھا جو اس وقت جیل میں ہے ۔ خلیل احمد کی انٹیروگیشن رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ اس کی ملاقات عبدالحفیظ پندرانی سے 2009 میں افغانستان میں ہوئی۔ عبدالحفیظ پندرانی نے ہی شکارپورکی امام بارگاہ کربلا معلی کی معلومات اکھٹی کرنے کا کام اسے سونپا تھا اور اس کے لئے آلو کا ٹھیلا بھی فراہم کیا تھا۔ کربلا معلی میں خود کش حملہ کرنے والے الیاس کو بھی عبدالحفیظ نے ہی عبدالخالق پندرانی گوٹھ میں ٹہرایا تھا ۔عبد الحفیظ کے ایک بھائی پیر بخش نے اندرون سندھ کی تاریخ میں پہلا خود کش حملہ کرنے کی کوشش کی تھی ۔ یہ ناکام خود کش حملہ عاشورہ کے جلوس پر19دسمبر2010 کو شکارپورکے گاوں نیپئرآبادمیں کیا گیاتھا تاہم پولیس کی فائرنگ سے خود کش حملہ آور پیر بخش مارا گیا تھا۔ فوری طور پر خود کش حملہ آور کی شناخت نہ ہوسکی تھی۔

مزیدخبریں