حکومت نے مختلف سرچارجز لگا کر بجلی چوری اور سبسڈی کا تمام بوجھ صارفین پر ڈال دیا

حکومت نے مختلف سرچارجز لگا کر بجلی چوری اور سبسڈی کا تمام بوجھ صارفین پر ڈال ...
حکومت نے مختلف سرچارجز لگا کر بجلی چوری اور سبسڈی کا تمام بوجھ صارفین پر ڈال دیا

  

اسلام آباد (آن لائن) حکومت نے مختلف سرچارجز لگا کر بجلی چوری اور اس پر سبسڈی کا تمام بوجھ صارفین پر ڈال دیا۔ یہ انکشاف گزشتہ ہفتے ہونیوالی اقتصادی رابطہ کمیٹی میں کیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق وزارت پانی و بجلی نے اجلاس کے دوران بتایا کہ ٹیرف آپریشنلائزیشن کا چارج لگا کر سبسڈی عوام سے بلوں میں وصول کر لی گئی اور بجٹ میں سے کچھ بھی نہیں دیا جا رہا اور یہ بھی بتایا کہ پاور سیکٹر کے نقصانات سالانہ 2سو ارب سے زائد تھے۔ جن کا بوجھ ماضی میں قومی خزانے پر پڑتا تھا لیکن گزشتہ دو مالی سال2014-15ء اور 2015-16ء میں اس کا بوجھ قومی خزانے پر نہیں ڈالا گیا بلکہ یہ نقصان بھی مختلف سرچارجز کی مد میں عوام سے وصول کئے گئے ۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد حکومت نے عوام کو مکمل ریلیف نہیں دیاجبکہ دو مختلف قسم کے سر چارجز لگائے گئے جس میں ٹیرف1آپریشنلائزیشن 2فنانشل کاسٹ سرچارجز شامل ہیں یہ سرچارجز لگا کر نا صرف ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے قرضے ادا کئے گئے بلکہ سبسڈی اور بجلی چوری کا بوجھ بھی عوام پر ڈالا گیا 5000روپے بجلی کے بل پر 1500روپے مختلف سرچارجز کی مد میں حاصل کئے جاتے ہیں جبکہ500روپے بجلی کے بل پر بھی 200سے زائد کے سرچارج وصول کئے جاتے ہیں۔ وزارت پانی و بجلی اور حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دور حکومت ملک میں کام کرنیوالی تمام ڈسکوز کے لائن لاسز میں خاصی کمی ہوئی ہے اور ریکوری کا حجم بھی بڑھا ہے۔ 2013ء میں ریکوری 88فیصد تھی جو بڑھ کر اب93اور99فیصد تک پہنچ چکی ہے جو کہ حکومت کا مثبت قدم ہے اور2015-16ء میں5.77بلین روپے کا منافع بھی کمایا گیا اور گردشی قرضہ میں بھی خاطر خواہ کمی لائی گئی۔ واضح رہے کہ موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے ایک سال بعد360ارب روپے گردشی قرضے ادا کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا لیکن اس کے باوجود آج گردشی قرضہ 600ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے جبکہ لوڈ شیڈنگ میں کمی اور بجلی کی پیداواری میں خاطر خواہ اضافہ کے حوالے سے حکومتی دعووؤں کا حالیہ نیپرا کی رپورٹ نے قلعی کھول دی ۔ ذرائع کے مطابق حکومت بجلی پر کسی قسم کی کوئی بھی سبسڈی نہیں دے رہے اور جن علاقوں میں غریب صارفین زیادہ ہیں وہاں لوڈ شیڈنگ بھی زیادہ لائی جاتی ہے تاکہ بجلی کے بل کم آئیں اگر لوڈشیڈنگ کم ہو گی تو بجلی کے بل آسمانوں سے باتیں کریں گے اور حکومت کے بجلی کے نرخوں میں کمی کا یوں بھی عوام کے سامنے کھل جائیگا حکومت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا خود تو فائدہ اٹھا رہی ہے لیکن اس حوالے سے عوام کو کسی قسم کا کوئی ریلیف فراہم ہیں کیا جا رہا ہے۔۔

مزید :

بزنس -