خدا کی قسم وہ لڑکی تھی

خدا کی قسم وہ لڑکی تھی
خدا کی قسم وہ لڑکی تھی

  

تحریر: نظام الدولہ

میں نے ہمیشہ پُراسرار قسم کی کہانیوں کو بکواس ہی سمجھا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ یہ کمزور ذہن رکھنے والوں کی خیالی اور وہمی کہانیاں ہوتی ہیں جو انہیں زندگی گزارنے کا ایک بہانہ فراہم کرتی ہیں ۔ہر انسان کسی نہ کسی ذہنی تسکین کا شکار ہوتا ہے اور وہ اس سے ہرگز باہر نہیں نکلنا چاہتا پس میں بھی ایک ایسا ہی لڑکا ہوں جسے ان باتوں کو جھٹک کر سکون ملتا ہے۔مجھے جب بھی کوئی دوست ایسا واقعہ سناتا تو میں ہا ہا ہا ہو ہو ہو کا قہقہ لگا کر اسکا مذاق اڑادیا کرتا اور باقاعدہ”توّا“ لگاتا ۔

لیکن ایک واقعہ نے مجھے ششدر کردیا اور مجھے بھی انسانوں کے علاو ہ پراسرار وجود رکھنے والی روحوں کے ہونے کا یقین کرنا پڑا۔

یہ واقعہ کچھ یوں ہے۔ان دنوں کالج میں ایک ہفتہ کی چھٹیاں تھیں اور میں اپنے انکل کے پاس گیا ہوا تھا۔وہاں پرانے دوستوں کے ساتھ میں سڑک کے کنارے گراونڈ میں کرکٹ کھیلتا تو میری پوزیشن عموماً باونڈری پر ہوتی جو سڑک کے کے کنارے تک دراز تھی۔

اس دن جب میں باونڈری پر کھڑا تھا تو ایک انتہائی خوبصورت لڑکی جس نے بلیک جین اور میرون شرٹ پہنی ہوئی تھی ، سڑک کے دوسرے کنارے سے گزری۔ا سنے مجھے مسکرا کر دیکھا اور آہستہ آہستہ اگے بڑھتی رہی۔میں بھی اسکی جانب متوجہ ہوا ۔ظاہر ہے ایک حسین لڑکی آپ کو متوجہ کرنی چاہ رہی ہو تو لڑکے بالے اسکو اپنی خوش نصیبی ہی سمجھتے ہیں۔

لڑکی نے چلتے ہوئے تین سے چار بار مجھے مڑ کر دیکھا تو میرے دل میں اتھل پتھل ہونے لگا۔وہ پلٹ کر میری جانب آنے لگی ،دھیرے دھیرے لبوں پر مسکان لئے۔

میں بے اختیارسا ہوگیااور باو نڈری سے باہر نکل کر اسکی جانب بڑھا اور چند سیکنڈ میں وہ میرے پاس بالکل سامنے آکھڑی ہوئی۔اسکے بدن سے انتہائی مسحور کن مہک آرہی تھی۔ اس سے قبل کہ میں اس سے ہمکلام ہوتا کپتان زور سے چلایا” سنی گیند پکڑو“ .... لیکن میرا دھیان گیند کی بجائے اس لڑکی کے چہرے پر مرکوز رہا۔

مین نے دوبارہ اس سے بات کرنا چاہی تو اس دوران کپتان میرے پیچھے آکھڑا ہوا” سنی کیا ہوگیا ہے تمہیں ،کہاں کھوئے ہو....؟“

میں چونک کر پلٹا ” مم میں ....“ میں نے اسکو کچھ بتانے کے انداز میں اس لڑکی کی جانب دیکھا تو وہ غائب تھی۔میں ہڑبڑا کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔دور سڑک تک کوئی انسانی وجود نہیں تھا ۔” وہ کہاں گئی“؟

کپتان میری اضطراری حرکت دیکھ کر پریشان ہوگیا”کون؟“

میں نے اسے لڑکی کے بارے میں بتایا تو اس نے قہقہ لگایا” پاگل ہوگئے کیا۔ خیالی لڑکی کے چکر میں چوکا لگوا کر ان کو جتوا دیا ہے تو نے۔لگتا ہے دن کے وقت بھی سہانے خواب دیکھنےلگےہو۔“

” ناں ناں خدا کی قسم کی وہ اصلی اور حقیقی لڑکی تھی ۔ابھی ادھر میرے پاس کھڑی تھی“ میں نے اسکو باور کرانا چاہا لیکن وہ میری کہاں سنتا تھا۔ اس نے باقی دوستوں کو بھی میری اس حرکت اور واقعہ سے آگاہ کیا ۔تو سب میرا مذاق اڑانے لگے۔بالکل اسی طرح جس طرح میں سب کا مذاق اڑایا اور انکی عقلوں پر ماتم کیاکرتاتھا ۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

مافوق الفطرت -