’اس ملک کے لوگوں کو بغیر ویزا روس آنے دو‘ روسی صدر پیوٹن نے ایسا اعلان کردیا کہ تمام مغربی ممالک کو شدید پریشان کردیا کیونکہ۔۔۔

’اس ملک کے لوگوں کو بغیر ویزا روس آنے دو‘ روسی صدر پیوٹن نے ایسا اعلان کردیا ...
’اس ملک کے لوگوں کو بغیر ویزا روس آنے دو‘ روسی صدر پیوٹن نے ایسا اعلان کردیا کہ تمام مغربی ممالک کو شدید پریشان کردیا کیونکہ۔۔۔

  

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ اور روس کے مابین یوکرین اور کریمیا کے معاملے پر کشیدگی پائی جاتی ہے جس میں ڈونلڈٹرمپ کے آنے پر کمی کے امکانات روشن ہو گئے تھے تاہم اب یہ کشیدگی ایک بار پھر مزید واضح ہو کر سامنے آ گئی ہے اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیئے ہیں جس کے تحت یوکرین سے علیحدہ ہو جانے والی مشرقی ریاستوں کے شہریوں کو روس میں ویزہ فری داخلے کی اجازت دے دی گئی ہے اور ان ریاستوں کی رضاکار افواج کی جاری کردہ دستاویزات کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔ یہ حکم نامہ لاگو ہونے کے بعد اب ان ریاستوں کے شہریوں کو روسی شہریوں کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے اور ملیشیاز کی طرف سے جاری ان کے برتھ سرٹیفکیٹ، میرج اور ڈیتھ سرٹیفکیٹس، شناختی و تعلیمی دستاویزات، گاڑیوں کی رجسٹریشن و دیگر کاغذات اب روس میں بھی تسلیم کیے جائیں گے۔

دہشت گردوں کے خلاف چینی بھی میدان میں آگئے، ہزاروں لوگوں نے مل کر حافظ سعید والا کام کردیا

برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف کا کہنا ہے کہ ”یوکرین سے علیحدہ ہونے والی ریاست ڈونباس (Donbass)کے ہزاروں شہری پناہ کی تلاش میں روس کا رخ کر رہے ہیں اور ان کی بڑی تعداد بارڈر پر پھنسی ہوئی ہے۔ اس حکم نامے کے بعد یہ لوگ قانونی طور پر بغیر ویزے کے روس میں داخل ہو سکیں گے جہاں انہیں تمام شہری حقوق میسر ہوں گے۔“ولادی میر پیوٹن کی طرف سے اس حکم نامے پر امریکی نائب صدر کی طرف سے یہ بیان آنے کے چند گھنٹے بعد کیے گئے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ”روس سے اس کے اقدامات پر بازپرس کی جائے گی۔“

اپنی انتخابی مہم کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ولادی میر پیوٹن کے متعلق انتہائی گرمجوشی دکھاتے رہے لیکن اب یوکرین کے معاملے پر عالمی دباﺅ بڑھنے کے باعث روس کے متعلق ان کا رویہ جارحانہ ہوتا جا رہا ہے۔گزشتہ دنوں انہوں نے روس پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”روس کریمیا پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے طاقت کا استعمال کر رہا ہے۔“ڈونلڈٹرمپ کے اس الزام کے جواب میں روسی وزارت خارجہ نے بیان جاری کیا تھا کہ ”بحراسود میں موجود جزیرہ نما کریمیا ہماری ملکیت ہے اور یہ کسی صورت یوکرین کو واپس نہیں کیا جائے گا۔“

مزید :

بین الاقوامی -