گزشتہ ماہ کرغزستان میں ترکش ائیرلائنز کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا، حادثے کی تحقیقات کی گئیں تو یہ طیارہ دراصل کس کا نکلا اور اس میں کون سوار تھا؟ ایسا تہلکہ خیز انکشاف کہ پوری دنیا حیران پریشان رہ گئی، کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ اس طرح۔۔۔

گزشتہ ماہ کرغزستان میں ترکش ائیرلائنز کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا، حادثے کی ...
گزشتہ ماہ کرغزستان میں ترکش ائیرلائنز کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا، حادثے کی تحقیقات کی گئیں تو یہ طیارہ دراصل کس کا نکلا اور اس میں کون سوار تھا؟ ایسا تہلکہ خیز انکشاف کہ پوری دنیا حیران پریشان رہ گئی، کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ اس طرح۔۔۔

  

بشکیک(مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ ماہ ترکی کا مال بردار طیارہ ہانگ کانگ سے استنبول جاتے ہوئے کرغزستان کے شہر بشکیک سے کچھ فاصلے پر ایک گاﺅں میں گر کر تباہ ہو گیا جس میں عملے کے 4اراکین سمیت 32افراد جاں بحق ہوئے۔ اس حادثے کی تحقیقات میں حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے کہ اس پرواز کے ذریعے سمگلنگ کی جا رہی تھی۔ دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ کے مطابق ابتداءمیں بتایا گیا کہ طیارہ ایندھن لینے کے لیے بشکیک ایئرپورٹ پر اترنے لگا لیکن بلندی زیادہ ہونے کے باعث رن وے سے آگے نکل گیا اور ایئرپورٹ کے جنگلے سے ٹکراتا ہوا کچھ فاصلے پر واقع آبادی میں گر کر تباہ ہو گیا۔

داعش کا انتہائی اہم لیڈر ماراگیا لیکن موت سے پہلے اپنے آخری آڈیو پیغام میں کیا کہہ گیا؟ سن کر پوری دنیا دنگ رہ گئی، کسی کو توقع نہ تھی کہ۔۔۔

اس جہاز میں سگریٹ، موبائل فون اور دیگر اشیاءموجود تھیں۔ جائے حادثہ سے مقامی لوگوں اور پولیس کو موبائل فونز کے ایسے مینوئل ملے ہیں جو کرغز زبان میں ہیں، حالانکہ یہ سامان ہانگ کانگ سے ترکی جا رہا تھا اور ترکی میں فروخت ہونے والے موبائل فونز کے مینوئلز پرکرغز زبان کی موجودگی نے شکوک و شبہات کو جنم دیا۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اور کرغز پارلیمان کے رکن عمربیک تکی بےف کا کہنا تھا کہ ”جہاز کے ملبے سے کئی ایسی چیزیں ملی ہیں جن سے یہ شک پختہ ہوتا ہے کہ بشکیک ایئرپورٹ پر ترک ایئرلائنز اے سی ٹی کا یہ طیارہ ایندھن لینے کے لیے نہیں بلکہ سمگلنگ کا سامان اتارنے کے لیے اتر رہا تھا۔ بشکیک ایئرپورٹ انتظامیہ اور اے ٹی سی ایئرلائنز کی طرف سے جاری بیانات میں بھی تضاد پایا جاتا ہے جس سے سمگلنگ کے شبے کو مزید تقویت ملتی ہے۔“

مزید :

بین الاقوامی -