حصول تعلیم کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں ، گلابی ساڑھی میں ملبوس ایسی طالبات جن کی عمریں جان کر آپ کے منہ بھی کھلے کہ کھلے رہ جائیں گے

حصول تعلیم کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں ، گلابی ساڑھی میں ملبوس ایسی طالبات جن ...
حصول تعلیم کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں ، گلابی ساڑھی میں ملبوس ایسی طالبات جن کی عمریں جان کر آپ کے منہ بھی کھلے کہ کھلے رہ جائیں گے

  

نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن )ماضی کے پاکستان میں’’ نئی روشنی سکول ‘‘کے نام سے حکومت نے سرکاری سطح پر’’ تعلیم بالغاں ‘‘ کا انتظام کیا اور اس کا خوب چرچا بھی ہوا لیکن نامعلوم وجوہات کی بناء پر یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی ،لیکن بھارت میں ایک سکول ٹیچر نے اپنے گاؤں میں ایسا ہی ایک انوکھا سکول کھول رکھا ہے جہاں 60سے لیکر 90سال کی بزرگ بوڑھی خواتین کو ابتدائی طور پر لکھنا پڑھنا سکھایا جاتا ہے ،پنک کلر کایونیفارم پہنے ،ہاتھوں میں کالے رنگ کی سلیٹ اور سفید چاک تھامے ’’پڑھائی کے شوق ‘‘ میں صبح سویرے لاٹھیوں کے سہارے اس انوکھے سکول میں پہنچتی ہیں ۔

بھارتی نجی چینل ’’این ڈی ٹی وی ‘‘ کے مطابق پھاگے گاؤں کے ایک پرائمری سکول ٹیچر بانگڑ نے اپنے گاؤں کی انتہائی ضیعف اور بوڑھی خواتین کو ’’زیور تعلیم ‘‘ سے آراستہ کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہوا ہے ،اس کام کے لئے استاد بانگڑ نے ایک مقامی این جی او ’’موتی رام خیراتی ٹرسٹ ‘‘ کی مدد سے ایک ایسا انوکھا سکول کھول رکھا ہے جہاںصرف ان  بوڑھی خواتین کو داخلہ ملتا ہے جن کی عمریں 60سال سے زیادہ اور 90سال سے کم ہوں ،یہ سکول بھی دیگر روائتی سکولوں کی طرح صبح سویرے کھلتا ہے اور اس سکول میں زیر تعلیم 29طالبات کا یونیفارم ’’پنک رنگ کی ساڑھی‘‘ہے جو استاد بانگڑ کی طرف سے مہیا  کیا جاتا ہے ، صبح سویرے سکول یونیفارم  پہن کر سکول پہنچنے والی یہ بوڑھی طالبات  کلاس شروع ہونے سے پہلے باقاعدہ اسمبلی میں صبح  کا آغاز ’’دعا ‘‘ سے کرتی ہیں ۔

یہ29 بوڑھی طالبات  زمین پر آلتی پالتی مار کر سکول کی طرف سے مہیا کی جانے والی کالے رنگ کی سلیٹ اور سفید چاک سے آڑھے ترچھے مراٹھی زبان کے لفظوں میں لکھنے کی پریکٹس کرتی ہیں جبکہ سکول میں ان ’’بزرگ ترین ‘‘ طالبات کو نظمیں اور حساب کتاب کے بنیادی اسباق بھی یاد کرائے جاتے ہیں۔ اس انوکھے سکول کی ان 29طالبات کا کہنا ہے کہ وہ پہلے بالکل بھی لکھنا پڑھنا نہیں جانتی تھیں لیکن اب وہ مراٹھی زبان میں لکھ پڑھ سکتی ہیں ۔ان بزرگ طالبات کا کہنا تھا کہ شروع شروع میں انہیں اس سکول میں پنک یونیفارم پہن کر جانے پر بڑی شرم آتی تھی لیکن جب ان سے بھی ’’بوڑھی طالبات ‘‘ کو دیکھا تو ان کا اس عمر میں تعلیم حاصل کرنے کا جذبہ بڑا ۔

سکول کے پرنسپل کم استاد بانگڑ کا کہنا تھا کہ اس کا ہدف اپنے علاقے کی تمام بوڑھی اور ان پڑھ خواتین کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ہے ،شروع شروع میں گاؤں کے لوگوں نے میرے اس پراجیکٹ کا مذاق بھی اڑایا لیکن اب سب گاؤں والے میرے جذبے کی قدر کرتے ہیں لیکن کئی بوڑھی خواتین ایسی بھی ہیں جو اب بھی سکول آنے پرجھجکتی ہیں ۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -