شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، امریکی مہم جوئی خطے کے عدم استحکام کا باعث : جواد ظریف

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، امریکی ...
شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، امریکی مہم جوئی خطے کے عدم استحکام کا باعث : جواد ظریف

  

میونخ (ڈیلی پاکستان آن لائن)ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے, علاقے میں جاری تشدد و بربریت اور امریکی مہم جوئی عدم استحکام کا باعث بنے گی,علاقے کے مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے.

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے جرمنی کے شہر میونخ میں منعقدہ ’’عالمی سکیورٹی کانفرنس‘‘ میں  خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  ایران کی نظر میں عراق، شام اور بحرین کے مسائل کو فوجی طریقے سے حل نہیں کیا جاسکتا ، ان مسائل کو صرف سیاسی طریقے سے ہی حل کیا جا سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایران پہلا ملک ہے جس نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کی ہے اور کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ناقابل معافی جرم اور جنگی قوانین کی خلاف ورزی ہے کہ جس کی کسی بھی بہانے سے کوئی توجیہ قبول نہیں کی جاسکتی۔انہوں نے کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ،بدقسمتی سے داعش اور النصرہ ایسی دہشت گرد تنظیموں کے پاس اب بھی کیمیائی ہتھیار موجود ہیں۔

واضح رہے کہ ایران کے اتحادی شام نے اسی ہفتے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہتھا  جس میں کہا گیا تھا کہ اس کی فوج اور اتحادی فورسز نے شمالی شہر حلب پر دوبارہ قبضے کے لیے لڑائی کے دوران میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تھے۔شام نے حکومت مخالف جنگجوؤں پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔امریکا نے گذشتہ ماہ شام کے 18سینئر عہدے  داروں کو  وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پروگرام سے تعلق کے الزام میں بلیک لسٹ کردیا تھا۔امریکا نے یہ فیصلہ ایک بین الاقوامی تحقیقاتی رپورٹ منظرعام پر آنے کے بعد کیا تھا،اس میں شامی حکومت کی فوجوں کو شہریوں کے خلاف کلورین گیس کے حملوں کا ذمے دار قرار دیا گیا تھا۔

مزید :

بین الاقوامی -