ایک دن ’’اچھو ڈینٹر‘‘ کے ساتھ

ایک دن ’’اچھو ڈینٹر‘‘ کے ساتھ

قارئین! موجودہ دور ایک تیز رفتار دنیا کا دور ہے۔ سرپٹ بھاگتے وقت کے ساتھ چلنے والا آدمی ہی ’’کامیابی‘‘ کی منزلیں سر کررہا ہے۔ اگرچہ ایسی ’’کامیابی‘‘ مصنوعی سی ہوتی ہے، مگر اس فتنہ انگیز وقت نے آدمی کو بے دست و پا کر دیا ہے اور مشینوں پر انحصار بڑھا دیا ہے، لیکن آدمی کیا کرے کہ زندگی کی ’’جولانیاں‘‘ بھی اسی تیزی طَراری کی مرہون ہیں۔

ترقی کرتا ہوا آدمی، جب ٹانگا گاڑی سے اتر کر ’’موٹرگاڑی‘‘ پر سوار ہوا تو موٹر گاڑیوں کا بھی طوفان سا اُمڈ آیا۔ ساتھ ساتھ اس شعبے کے ’’ہنرمندوں‘‘ کا نیٹ ورک بھی وجود میں آتا چلا گیا۔

اختصار کے ساتھ عرض ہے کہ اس نیٹ ورک میں ایک ’’ڈینٹر‘‘ و ’’پینٹر‘‘ کا رول بھی اہمیت کا حامل ہوتا ہے جو ہماری زیرِ نظر ’’گفتگو‘‘ کا موضوع ہے!

ویسے تو شہر میں ہزاروں ڈینٹر، پینٹر اپنی صلاحیتوں کے رنگ بکھیر رہے ہیں، مگر جو مقام ہمارے ’’محمد اشرف المعروف ’’اَچھو ڈینٹر‘‘ کو حاصل ہوا، کوئی اور ایسی ترقی کی معراج تک نہ پہنچ سکا۔

آپ کوئی خاص تعلیم وغیرہ تو حاصل نہ کر سکے، مگر اپنے ’’کام‘‘ میں ’’ڈاکٹریٹ‘‘ کی سی ڈگری کے حامل ہیں۔ آپ کسی بھی گاڑی پر پڑا ہوا ’’ڈینٹ‘‘ دور سے دیکھ کر بتا سکتے ہیں کہ وہ کیسے وجود میں آیا اور اسے ’’درست‘‘کروانے کے لئے گاڑی کے مالک کو کون سے ’’امتحان‘‘ سے گزرنا ہوگا۔

چونکہ آپ کی پیدائش ہی ایک ورکشاپ سے منسلک ایک کوارٹر نماگھر میں ہوئی تھی، لہٰذا بچپن ہی میں آپ کے اندر مختلف گاڑیوں میں تاک جھانک کا ذوق پیدا ہوتا گیا اور جوان ہونے سے بیشتر ہی مختلف گاڑیوں کے نام، ماڈل اور اجزائے ترکیبی کا بخوبی علم حاصل ہو گیا۔

آپ کے والد ماجد بھی موٹر مکینک تھے اور آپ کے ذوقِ ڈینٹنگ و پینٹنگ کے پیش نظر آپ کو ایک ماہر ’’ڈینٹر‘‘ کی شاگردی میں سونپ دیا۔ نتیجتاً آپ نہایت قلیل عرصے میں ایک ماہر ڈینٹر و پینٹر بن کر ابھرے اور اپنے ذاتی گیراج کے مالک بن گئے۔

آپ کے گیراج میں آکر مرمت ہو جانے والی گاڑی کو کوئی ماہر کلاکار بھی نہیں جانچ سکتا کہ کبھی اس پر ڈینٹ پڑا تھا۔قصہ مختصر، انتہائی مصروفیات کے باوجود انہوں نے ہمیں کچھ وقت عنایت کیا، جس پر ہم ان کے ممنوں ہیں۔ ان سے کئے گئے سوالات معہ جوابات آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔

سوال: اچھو ڈینٹر صاحب، ماشاء اللہ! ہم دیکھ رہے ہیں ،آپ کے گیراج میں ’’زخمی‘‘ گاڑیوں کی قطار لگی کھڑی ہے، اتنا بزنس تو شاید بڑے بڑے شو رومز کے حصے میں بھی نہ آ رہا ہو گا۔ ایسا کیا جادو کرتے ہیں کہ شہر کے بیشتر لوگ اپنی گاڑیوں کا علاج کروانے صرف آپ ہی کے پاس آتے ہیں؟

جواب: بادشاہو! کبھی آپ نے سوچا، سارا شہرکسی ایک ہی ’’مچھلی فروش‘‘ کی دکان پر ٹوکن ہاتھ میں لئے، لائن میں کیوں کھڑا ہو جاتا ہے؟ شہر کے لوگوں کی اکثریت کسی ایک ہی بیکری کے دروازے پر کیوں اُمڈ آتی ہے؟

کوئی کیل مہاسے، چھائیوں کی ماری خاتون، یا کوئی نصف درجن بچوں کی ماں ’’دوشیزہ‘‘ جیسا روپ حاصل کرنے کے لئے کسی ایک ہی ’’بیوٹی پارلر‘‘ میں کیوں اپنا پرس لہرا رہی ہوتی ہے؟

وجہ صاف ظاہر ہے، لوگ جانتے ہیں، ان کی خواہش کی ’’تسکین‘‘ وہیں ممکن ہو سکتی ہے! جہاں، ان کے خیال میں کم از کم ’’دھوکے‘‘ کااحتمال ہوتا ہے یا ’’خامی‘‘ کو’’خوبصورتی‘‘ میں تبدیل کرنے کا معقول انتظام موجود ہوتا ہے، وگرنہ شہر کے ہر گام پر ، ایک سے بڑھ کر ایک مچھلی فروش، بیکر یا بیوٹی پارلر اپنی اپنی دکان سجائے بیٹھا ہے۔

درحقیقت مجھے اپنے کام پر عبور حاصل ہے اور میں کسی بھی زخمی گاڑی کو ایک بار پھر نئی گاڑی کا روپ دے سکتا ہوں۔ مزید یہ کہ میں اپنے کلائنٹ کو ’’لمبا‘‘ دھوکہ نہیں دیتا اور ’’معقول‘‘ اجرت سے غرض رکھتا ہوں۔

یہی وجہ ہے، میرا گیراج بھرا پڑا ہے، بلکہ مجھے تو آج کل نئے ٹیلنٹ کی فکر لاحق ہو چکی ہے، کیونکہ آج کل بلت پروف، بم پروف گاڑیاں بھی مرمت کے لئے آنا شروع ہو چکی ہیں، جس کے لئے نئی ٹیکنالوجی درکار ہے۔

سوال:آپ کی ’’آمدنی‘‘ کے ذرائع کے بارے میں سنا ہے کہ محض ڈینٹنگ پینٹنگ ہی نہیں، بلکہ چند اور ’’کمالات‘‘ کا بھی دخل ہے، کچھ روشنی ڈالیں گے؟

جواب:دیکھئے! بعض باتیں رازداری کی ہوتی ہیں، مگر آپ بھی کیا یاد کریں گے۔آپ شاید نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے کندھوں پر دو بیویوں اور سات بچوں کی ذمہ داری ڈالی ہوئی ہے،جسے الحمدللہ! میں احسن طریقے سے نبھا رہا ہوں۔

اتنی بڑی فیملی کی ’’خوشحالی‘‘ کے لئے اِدھر اُدھر ہاتھ پاؤں تو مارنے ہی پڑتے ہیں اور چونکہ میں نے بڑی محنت سے اپنے کلائنٹس کا ’’اعتماد‘‘ حاصل کیا ہے تو میرا بھی کچھ ’’حق‘‘ بنتا ہے۔

میرے کسی بھی کلائنٹ نے گاڑی خریدنی ہو یا بیچنی ہو،وہ اسی ناچیز کو یاد کرتا ہے۔یعنی میں ایک چھوٹا موٹا ’’کار ڈیلر‘‘ بھی ہوں۔ اگر میرا خریدار کلائنٹ کسی گاڑی پر ’’پسندیدگی‘‘ والی نظر ڈالنا شروع کر دے اور ’’فروخت کنندہ‘‘ میرے ساتھ ’’تعاون‘‘ پرآمادہ نہ ہو تو میں اس گاڑی کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے کسی ایسے ’’نقص‘‘ کی نشاندہی کر دیتا ہوں کہ میرا خریدار کلائنٹ’’بدظن‘‘ ہو جاتا ہے، لہٰذا ’’فروخت کنندہ‘‘ کو بعدازاں، خود مجھ سے رابطہ کرنا پڑتا ہے اور مناسب ’’مختانہ‘‘ طے ہو جانے پر ،میں خریدار کلائنٹ کو چند مزید گاڑیاں دکھا کر یہ باور کروا دیتا ہوں کہ پہلے والی گاری ان سب سے نسبتاً بہتر ہے، جسے وہ ہنسی خوشی خرید لیتا ہے اور بعض اوقات ایک معقول رقم بھی میری سروس کی مد میں مجھے پیش کرتا ہے، جسے میں تھوڑی بہت ردّ و قدَح کے بعد قبول کر لیتا ہوں۔

سوال:یار اچھو! کیا یہ صریحاً ’’دھوکہ دہی‘‘ نہیں۔ اس طرح تو آپ اپنے کلائنٹ کے اعتماد کو کیش کر رہے ہوتے ہیں اور کیا اسے آپ کی شخصیت کا ایک ’’کھلا تضاد‘‘ نہ سمجھا جانا چاہیے؟

جواب: (قہقہہ لگاتے ہوئے)آپ کی تشریف آوری سے قبل، میں نے بھی آپ کے بارے میں کچھ جان کاری حاصل کی ہے۔ مجھے تو آپ بھی کوئی صحافی نہیں، ’’نقال‘‘ لگ رہے ہیں۔

یہ ’’کھلا تضاد‘‘ والے الفاظ تو محترم سہیل وڑائچ کے مشہور پروگرام ’’ایک دن فلاں یا ’’فلانی‘‘ کے ساتھ میں زبان زد عام ہو چکے ہیں، بلکہ میرے ایک گریجوایٹ شاگرد نے، جسے اخبار بینی کا بہت شوق ہے، یہ تک بتا دیا ہے کہ آپ بھی ان کی ’’نقالی‘‘ کرتے ہوئے ایک دن ’’فلاں‘‘ کے ساتھ کے نام سے کالم وغیرہ لکھ کر ’’مشہور‘‘ ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، کہیں آپ ان کے ’’شاگرد‘‘ تو نہیں؟ خیر چھوڑیں، یہ بتائیں، خالص کالم نگاری کی صحافت میں کیا ایسی ’’نقالی‘‘ جائز سمجھی جاتی ہے؟ اگر ہے تو پھر میں تھوڑی سی ’’ہنرمند نقالی‘‘ کرکے ’’نقائص‘‘ کو ’’خصائص‘‘ میں بدل دیتا ہوں تو اس میں دھوکہ دہی کیسی؟

سوال:(اچھو ڈینٹر کی معلومات اور دلائل قابلِ غور تھے، مگر اچانک ایک طرف پڑے ہوئے چند مختلف گاڑیوں کے ’’سائیڈ مررز‘‘ پر ہماری نظر پڑ گئی) اچھو صاحب! ہمیں کوشش کے باوجود ابھی تک ’’سہیل وڑائچ‘‘ کا شاگرد ہونے کا اعزاز حاصل نہیں ہو سکا، اس سلسلے میں آپ بھی کچھ دعا کریں، مگر یہ بتائیں کہ وہ کونے میں پڑے مختلف گاڑیوں کے ’’سائیڈ مررز‘‘ کیا آپ ہی کی ’’محنتِ شاقہ‘‘ کا کمال ہیں۔ اور یہاں ان کا کیا کام ہے؟ (ہم نے کونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا)

جواب:(وہ پھر ہنس پڑے) دیکھیں یہ شاگردی والی دعا تو میں آپ کو ہرگز نہیں دوں گا، کیونکہ ’’وڑائچ صاحب‘‘ اپنے پروگرام میں اپنے ’’مہمان یا میزبان‘‘ کی میٹھے میٹھے انداز میں جو ’’چھترول‘‘ کر جاتے ہیں وہ انہی پر جچتی ہے، ویسے بھی میرے ایک محترم کلائنٹ، تارڑ صاحب‘‘ نے مجھے بتایا تھا، جن برادریوں میں نام کے اندر ’’ڑ‘‘ کا حرف آتا ہے، وہ بڑی ’’ٹیڑھی‘‘ برادری ہوتی ہے اور گھی نکالنے کے لئے بھی انگلی ٹیڑھی نہیں کرتی۔یہ سرتاج برادریاں ہوتی ہیں اور ’’دَب‘‘ کے نہیں رہتیں، مثلاً وڑائچ، تارڑ، دڑاور، سانگھڑ، روکھڑی، روپڑی، چنگڑ،گڑا وغیرہ۔ انہی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ’’ہم ’’لاہوریئے‘‘ بھی اپنی ’’معصومیت‘‘ کو بارعب بنانے کے لئے ’’ر‘‘ کی جگہ اکثر ’’ڑ‘‘ کی بجائے ’’ر‘‘ بول جاتے ہیں، جس کا مخاطب پر تو کوئی خاص اثر نہیں ہوتا، مگر ہماری اپنی ’’تسلی‘‘ ہو جاتی ہے۔

رہا سوال ’’سائیڈ مررز‘‘ کا تو جناب! یہ ہماری قوم کے ’’ہونہار‘‘ لاوارث، بے کار، بیمار، چرسی بچوں کی چھوٹی چھوٹی ’’کارروائیاں‘‘ ہیں۔

گلیوں، بازاروں میں جہاں کوئی اکیلی گاڑی کھڑی نظر آئی، یہ ’’واردات‘‘ ڈال دیتے ہیں اور میرے پاس آکر محض دو تین سو کے عوض بیچ کر اپنا ’’خرچہ پانی‘‘ بنا لیتے ہیں، حالانکہ یہ مرر بازار میں کئی گنا قیمت پر ملتا ہے، مگر میں ’’متاثرہ کلائنٹ‘‘ کو یہی ’’مِرر‘‘ بلال گنج سے خرید کردہ بتا کر تقریباً نصف قیمت پر مفت میں ’’فِٹ‘‘ کر دیتا ہوں۔

تو کیا یہ ایک طرح سے ’’خدمت‘‘ نہ کہلائے گی؟(یہ کہتے کہتے اچانک انہیں کچھ یاد آ گیا اور وہ اپنے ایک ’’شاگرد‘‘ پر پل پڑے اور بے تحاشا مغلظات برسانے لگے، کہ یہ ’’مال‘‘ چھپا کر کیوں نہیں رکھا گیا تھا، ایسی طوفانی صورتِ حال میں مزید سوال و جواب کیونکر ممکن ہو سکتے تھے؟)

مزید : رائے /کالم