اسٹیبلشمنٹ کی الجھن؟

اسٹیبلشمنٹ کی الجھن؟
اسٹیبلشمنٹ کی الجھن؟

  

عدالت کے سا منے اسوقت ایک سوال ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017ء آ ئین پاکستان کی روح سے متصادم ہے یا نہیں؟

ایک اور اہم ترین معا ملہ نااہلی کی مدت کی آئینی تشریح کا کیس ہے، اس کیس میں نواز شریف نے براہ راست فریق کے طور پر پیر وی سے انکار کیا ہے مگر اب ان دو نوں مد عوں پر ملک کے سا بق وزیر اعظم نواز شریف اور اعلیٰ عد لیہ کے ججز آ منے سا منے آ کھڑ ے ہیں۔جب ان معا ملات پر فیصلے آ ئیں گے تب ملک ایک نئے آ ئینی بحران کی جا نب گامزن ہو گا۔

نواز شریف کے خلاف احتسا بی عمل چو نکہ اپنے آ خری مر حلے کی جانب رواں دواں ہے اس لیے میاں صا حب سیا سی طو فان اٹھا رہے ہیں۔ نواز شریف اپنی سیا سی زندگی میں ایک بار پہلے بھی جسٹس سجاد علی شاہ کی عدا لت کے سا منے اس حد تک ڈٹ گئے تھے کہ اس وقت کے چیف جسٹس کو اپنی جان بچا نی محال پڑ گئی تھی۔

نواز شریف کا ہمیشہ دو طرح کے نظام انصاف اور دو طرح کے ججز سے واسطہ رہا ہے ایک ایسا نظام انصاف جو لاڑ کانہ کے وزیر اعظم سے ایک سلوک کر تا رہا ہے اور لاہو ر کے وزیر اعظم سے مختلف ڈھب سے پیش آ تا رہا ہے، اس سے پہلے نواز شریف جس عد لیہ سے واقف رہے ہیں ان میں ایسے مزاج کے منصف نہیں تھے۔

ان کی عدا لتی تا ریخ یہ ہے کہ جب جب میاں صا حب نے زنجیرِ عدل ہلا ئی تب تب منصفوں اور عدا لتی نا خداؤں نے ان کی ناؤ پا ر لگا دی۔

میاں نواز شریف کا سیا سی کیر یئر رفتہ رفتہ جس انجام کی طرف بڑ ھ رہا ہے اس کے اسباب بھی میاں صا حب نے خود پیدا کیے ہیں کیو نکہ میاں صا حب کا ایک بیا نیہ اقتدار کا ہو تا ہے اور دوسرا اختیار کرتے ہیں اقتدار سے محرو می کے وقت ، جیسے جیسے اقتدار کی میو زیکل چیئر گھو متی رہتی ہے نواز شریف کا بیا نیہ بھی بد لتا رہتا ہے ۔

اقتدار میں ہو ں تو عوام سے اتنے دور رہتے ہیں جتنا عوام کے کے قریب رہتے ہو ئے اقتدار ان سے دور رہتا ہے، اپوزیشن میں ہو ں تو ملک کے طا قتور حلقوں کی خو شنو دی کے لیے میمو گیٹ کی پیروی کر نا ان کامقصدِ اولین ہو تا ہے مگر اقتدار میں ہو ں تو ان کے ایوان میں ڈان لیکس جیسے تنا زعات پروان چڑ ھتے ہیں۔اقتدار سے محرو می کے وقت قو می اتفاق را ئے کے راستہ پر چل نکلتے ہیں اور میثاق جمہو ریت کی منز ل پر پہنچ جا تے ہیں مگر اقتدار سے ہم آ غو ش ہو تے ہی یہ تمام وعدے وفا ہو نے کا انتظار کر تے ہیں، میاں صا حب نے پیپلز پارٹی کے وزیراعظم کے لیے یہ نسخہ تجویز کیا کہ فیصلہ کے بعد گھر جا کر اپیل میں جا ؤاور اگر بحال ہو گئے تو پھر واپس آ جا ئیے مگر خو دکے خلاف فیصلہ آ جا ئے تو کیوں نکا لا کیس عد لیہ کی بجا ئے عوامی عدا لت میں پیش کر دیتے ہیں۔

نواز شریف جس چھا نگا ما نگا سیا ست کے با نی ٹھہرے اس کا ذا ئقہ آصف زرداری انہیں بلو چستان میں چکھا رہے ہیں، نواز لیگ ان کی قیا دت میں پیپلز پارٹی کی اتحا دی حکو مت چھو ڑ کر پی سی او ججز کی بحا لی کے مشن پر نکل کھڑی ہو ئی اور اب ان کے قا ئد انہی پی سی او ججز کے خلاف صف آ را ہیں جبکہ ان کی اپنی جما عت مشرف کے ساتھیوں سے بھر چکی ہے۔

ملک کے مو جودہ سیا سی بحران میں طا قتور اسٹیبلشمنٹ اور پنجاب کے قد آ ور رہنما نواز شریف دونوں کا بہت کچھ داؤ پر لگ چکا ہے، مگر اب لگتا یہی ہے کہ آ نے وا لے کسی سیا سی طو فان کا خطرہ بھا نپ کر ملک کے اصل مختار کل میاں صاحب کو عدا لتی نا خداؤں کے ذریعے سا حل پر ڈبونا چاہ رہے ہیں اور میاں صا حب کی کیفیت عین وہی ہے جیسے بپھرے ہو ئے دریا کو اپنی مو ج کی طغیا نیوں سے غر ض ہو تی ہے اور وہ کیوں نکا لا، ووٹ کے تقدس، پرچی کی عزت، سول با لا دستی کے منشور پرآ ئینی عدا لت کی بجا ئے عوا می عدا لت کا ایوان لگا ئے ہو ئے ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ کے لیے اصل الجھن نواز شریف کے بعد کا سیاسی منظر نا مہ بنا ہو ا ہے جہاں عمران خان تما م تر شورش کے با وجود نواز شریف کے سیا سی گڑھ پنجاب کی انتخا بی سیا ست میں نو از شریف کے ہم پلہ دکھا ئی نہیں دے رہے اورزرداری سے ہاتھ بڑ ھا نے میں یہ الجھن راستہ کی رکاوٹ ہے کہ اس کے پاس پنجاب نہیں ہے اور دور دور تک اس کا امکان بھی نہیں ہے۔

میاں نواز شریف اور انکی سیا سی وراثت کی ما لک دو نوں پر خطرات منڈ لا رہے ہیں اور ان کے منظرِ عا م سے ہٹنے کے بعد میاں شہبازشریف اور ان کے صا حبزا دے مکمل طو ر پر ان کی سیا سی میراث کے ما لک ہو نگے ۔

اگر ایسا ہو ا تو مسلم لیگ میں چو ہدری نثار علی خان جیسے رہنما شہباز شریف کی قیادت والی جما عت کو اسٹیبلشمنٹ کے دو بارہ قریب لا سکتے ہیں اور اگر نواز شریف مو جودہ وقت میں اصل حقیقت بنے رہے تو پھر چو ہدری نثار کا مستقبل نواز لیگ سے ختم ہو چکا ہے اور نواز شریف فیصلہ کر بیٹھے ہیں انکو آئندہ الیکشن میں پارٹی ٹکٹ بھی جا ری نہیں کر نا۔

اگر نواز شریف عوا می دبا ؤ کے بل بو تے پر اپنی سیاست بچانے میں کا میاب رہے تو عمران خان اور زرداری کے لیے امکا نات زیا دہ نہیں اور اگر عمران خان اور زرداری کا سامنا اکیلے شہبا زشریف کو کر نا پڑ گیا تو پھر مو جو دہ سیا سی منظر نا مہ تبدیل ہو کر رہے گا۔

ملک کے اصل پا لیسی ساز اداروں کے لیے پہلے مفرو ضے کا تصور بھی محال ہے جبکہ آ خری منظر نا مہ انہیں زیا دہ ساز گار ہے مگر ملک کے لیے اس میں سیا سی استحکام نہ ہو نے کے برابر ہے جس کے لا زمی اثرات ملک کی معیشت اور داخلی سلا متی کی صورتحا ل پر نہا یت سنگین ہو نگے جو پاکستان کی علا قا ئی پو زیشن، امریکہ سے تعلقات اور افغانستان کے ساتھ ہماری پو زیشن کو کمزور کر دے گا، در حقیت یہ تمام معا ملات پا کستان میں سول اٹھارٹی کی بجائے سیکورٹی کے اعلیٰ اداروں کا خا ص میدان ہیں۔

گو یا نواز شریف اور ان کی جما عت اقتدار میں واپس آ بھی جا ئے تو بھی اسٹیبلشمنٹ کے لیے پر یشا نی بڑھ جا ئے گی اور اگر ان کے بغیر کو ئی کمزور حکو مت بر سر اقتدار آ ئی تو بھی طا قتور اسٹیبلشمنٹ کو سخت نقصان اٹھا نا پڑے گا۔

گو یا اس کے لیے آ سمان سے گر کر کھجو ر میں اٹکنے وا لی کیفیت ہو سکتی ہے اور اصل الجھن اس وقت یہی ہے داخلی طو رپر سیا ست میں Arms twisting جا ری رکھی تو پیدا ہونیوا لے سیا سی بحران سے عا لمی سطح پر بہت کچھ کمپرو ما ئز ہو جا ئے گا اور اگر داخلی سیا ست کا میدان کھلا چھو ڑ دیا اور ووٹ کی پر چی نے اپنا راستہ خود بنا یا تو اسٹیبلشمنٹ کی اپنی سا کھ ضرور خاک میں مل جا ئے گی۔

مزید :

رائے -کالم -