شاہِ اجمیر کا جلوہ

شاہِ اجمیر کا جلوہ
 شاہِ اجمیر کا جلوہ

  

شہنشاہِ اجمیر عطا ئے رسول خو اجہ خوا جگانؒ کا رنگ جلال کام کر چکا تھا، شاہ اجمیر کے لا ڈلے مرید خوا جہ قطب الدین بختیار کا کی ؒ کے خلا ف جھوٹی گو اہی دینے والے چاروں پہلوان نما آدمی قوت گو یا ئی سے محروم ہو چکے تھے، وہ جب بھی بولنے کی کوشش کر تے ہو نٹ لرز کر رہ جاتے با دشاہ التمش اور دربا ری حیرت سے یہ منظر دیکھ رہے تھے، جن گو اہوں کو بڑے غرور سے پیش کیا تھا، وہ پتھر کے مجسموں کی طرح بے حس و حر کت کھڑے تھے وہ جھو ٹ بو ل بھی کیسے سکتے تھے، وہ حقیقی سلطان الہند شاہِ اجمیر کے رو برو کھڑے تھے، جن کے ابروئے چشم پر لا کھوں بت کے پجا ری نو ر ایمانی میں رنگے گئے تھے۔ خو اجہ قطب ؒ پر جھو ٹا الزام لگانے والی عورت نے جب گواہوں کو چپ دیکھا تو چیخ چلا کر رو نے لگی اور کہنے لگی خدا کے لئے اب بو لو میرے حق میں گو اہی دو عورت کے الزام پر بادشاہِ التمش کھڑا ہوا بو لا چپ کر جا اے عورت تم ابھی بھی اپنے الزام سے واپس نہیں ہو رہی تم نہیں جا نتی تم نے کرہ ارض کی کتنی بڑی روحا نی ہستی پر الزام لگا یا ہے، عورت نے پینترا بدلا جناب آپ کے رعب و جلال سے یہ نہیں بو ل رہے ہیں، کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ قطب الدین ؒ آپ کے مرشد اعلی ہیں اگر اِن سے تنہائی میں پو چھیں گے تو یہ ضرور میرے حق میں گواہی دیں گے التمش کا جلال اور بھی بڑھ گیا اور کہا تم لو گوں نے ایک نیک انسان پرتہمت لگا ئی ہے، اب اِ س کی سزا تم بھگتو گے بادشاہ کا غصہ دیکھ کر گوا ہوں کے چہروں پر زندگی کی لالی کی جگہ مو ت کی زردی رقص کرنے لگی گو اہو ں کو اپنی مو ت سامنے نظر آرہی تھی۔

مو ت کے خو ف سے انہوں نے بار بار بو لنے کی کو شش کی، لیکن نہ بو ل سکے گو اہوں کی بے بسی دیکھ کر انسانوں کے عظیم مسیحا شفیق تبسم سے بو لے با دشاہ یہ نہیں بو ل سکیں گے یہ زر خرید غلا م ہیں با دشاہ بو لا شاہا اب اِس مقدمے کا فیصلہ کیسے ہو گا با دشاہ بے بسی سے پہلو بد ل رہا تھا جس خدا ئے لازوال نے ہر گھڑی میں اِس فقیر کا ساتھ دیا آج بھی اُس کے کرم سے اِس مقدمے کا فیصلہ ہو گا پھر دلوں کے مسیحا قاضی کی طرف متوجہ ہو ئے اور کہا میں مانتا ہوں آپ اِس عہدے کا علم رکھتے ہیں، لیکن علم کے ساتھ فہم ادراک آگہی بصیرت کشادہ دل بھی ضروری ہے آپ کا فرض بنتا تھا حقیقت تک پہنچنا سچ جاننے کے لئے آپ کو مختلف ذرائع استعمال کر نے چاہیے تھے، میں دیکھ رہا ہوں دربار میں اور دہلی شہر میں بہت سارے لوگ خوا جہ قطب ؒ سے حسد کی آگ میں جھلس رہے ہیں، حسد کی آگ میں یہ اندھے ہو چکے ہیں۔

الزام لگا تے وقت انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ اِس کائنات کا ما لک حق تعالیٰ جو کبھی بھی اپنے دوستوں کو بے یار و مددگار نہیں چھو ڑتا آج اِس الزام کا جواب یہ بچہ خو د دے گا اِس کا با پ کون ہے عورت اور دربا ریوں پر سکو ت مر گ طاری تھا سنا ٹے کی چادر سب کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی کہ دو ما ہ کا شیر خوا ر بچہ کس طرح بو لے گا خوا جہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ قاضی سے مخاطب ہو ئے کہا آپ اِس بچے کی گوا ہی قبو ل کریں گے قاضی حیرت سے نکل کر بو لا جناب گو اہی تو دور کی بات ہے یہ بو لے گا کس طرح‘ جس نے بچے کو پیدا کیا وہی اِس کو بو لنے کی قدرت عطا کر ے گا شاہِ اجمیر ؒ کی پر جلا ل آوازگو نجی قاضی کا رنگ اڑ چکا تھا، اب با دشاہ التمش بو لا قاضی صاحب انصا ف کے حصول کے لئے ہر ذریعہ قبول کیا جا تا ہے، آپ کیوں ٹا ل مٹول سے کام لے رہے ہیں، اب قاضی نیچے اترا عورت کے پاس آیا تو بچے نے رونا شروع کر د یا قاضی نے بچے کے با پ کا نام پو چھا تو بچہ اور تیز رونے لگا قاضی نے ایک بار دوسری بار تیسری بار اپنا سوال دہرایا، لیکن بچہ جواب دینے کی بجا ئے مسلسل رو رہا تھا، اب قاضی کا خو ف دور ہو رہا تھا اب اُس نے تحقیر آمیز مسکراہٹ سے سلطان الہند کی طرف دیکھا اور کہا جناب اتنے چھو ٹے بچے با ت نہیں کر سکتے، جب کوئی با ت ہی نہیں کر سکتا تو شہا دت کس طرح دے گا اب عورت بھی خو ف سے نکل کر اٹھی اور فریا د کر نے لگی ظل الٰہی مجھے کیوں تما شا بنا یا جا رہا ہے میرا مذاق اڑانا بند کیا جائے، لیکن با دشاہ کے بو لنے سے پہلے ہی شاہ اجمیر ؒ کی بارعب آواز گو نجی، بچے خاموش ہو جاؤ پھر اہل دربار نے دیکھا بچہ فوراً چپ ہوگیا، پھر سلطان الہند ؒ کی آواز گونجنے لگی اے پروردگار تو ہمیشہ گنا ہوں کی پردہ پو شی کر نے والا ہے اے میرے خدا میں نے پو ری کو شش کی کسی کا گنا ہ یہاں بیان نہ کروں پر دہ پو شی کروں لیکن دنیا داروں نے میرے اور قطب کے لئے اب کو ئی راستہ نہیں چھوڑا اے میرے رحمن رحیم پروردگار ہمیشہ کی طرح آج بھی میری مدد فر ما پھر خوا جہ خوا جگان ؒ چلتے ہو ئے عورت کے قریب آئے درباریوں کے سانس رک چکے تھے دربار پر سنا ٹا طا ری تھا سلطانوں کے سلطان نے اپنا دستِ شفقت بچے کے ہونٹوں پر رکھا اور شفیق لہجے میں پکا را اے معصوم پھو ل تو بے قصور ہے میں تجھے اِس تکلیف سے نہیں گزارنا چاہتا تھا لیکن تیرے ماں باپ نے میرے لاڈلے پھول میرے چاند خواجہ قطبؒ پر داغ لگانے کی کو شش کی ہے، جو مجھے بہت لاڈلا پیارا ہے، میں اور میرا قطب کئی راتوں سے سوئے نہیں اب توہی بتا کہ تیرا باپ کون ہے، میری اور میرے قطب کی رسوائی پر جشن منانے والوں کوبتا تیرے باپ کا نام کیا ہے پھر نبض کائنات رک گئی، آنکھیں پتھر کی ہوگئیں، سانسیں رک گئیں اور پھر شاہ اجمیرؒ کا جلوہ سامنے آگیا اچانک دربار معصوم کی آواز سے گونجنے لگا السلام علیکم یا سلطان الہندؒ بچے اللہ تم پر مہربان ہو اہل دربار کو اپنے باپ کا نام تم خو دبتا دو پھر شاہ اجمیرؒ کی کرامت کا نور دربار میں پھیل گیا، جب بچے نے بتایا میرا باپ بادشاہ کے دربار کا معزز درباری اور سردار ہے اور پھر باپ کا نام بھی بتا دیا درباری پتھر کے بتوں کا روپ دھار چکے

تھے عورت اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی تھی، زمین پر گری، وحشت زدہ انداز میں چاروں طرف دیکھتی رہی پھر بے ہوش ہوگئی، خواجہ پاکؒ کے لاڈلے مرید قطبؒ جو بڑی دیر سے سر جھکائے کھڑے تھے، دیوانہ وار آگے بڑھے مرشد کے قدموں سے لپٹ گئے اور بار بار ایک ہی فقرہ بول رہے تھے، شاہاؒ آپؒ کے قدموں سے لپٹنے والے خاک کے ذرات ہی میری منزل ہیں، شاہ اجمیرؒ نے قطب کو اٹھایا اور گلے سے لگا لیا آنسوؤں کے سیلاب کاجوبند کتنے دنوں سے بندھا ہوا تھا، ٹوٹ کر بہہ نکلا قطب روروکر اپنا چہرہ مبارک تر کر رہے تھے، اب بادشاہ اور درباریوں کی نظریں اُس سردار پر جمی ہوئی تھیں، جو اپنے ہی عرق ندامت میں غرق نظر آرہا تھا، وحشت زدہ انداز میں دیوانہ وار شاہ اجمیرؒ کی طرف بڑھا اور آپؒ کے قدموں پر سر رکھ کر کہا شہنشاہِ

میں لوگوں کی باتوں میں آگیا تھا، میں درباری علماء کی باتوں میں آگیا تھا کہ خانقاہوں میں بیٹھے یہ فقیر بے عمل زندگی گزارتے ہیں اب بادشاہ بھی درویش کے حلقہ اثر میں آگیا ہے، اِس طرح تو ہندوستان پر اِن درویشوں کا قبضہ ہو جائے گا، اِس طرح ہمیں کوئی نہیں پوچھے گا بادشاہ کو اِس درویش کے حلقہ اثر سے نکالنا ہوگا، پھر خواجہ قطبؒ کی ذات کو داغدار کرنے کے لئے منصوبہ تیار کیا گیا، اِس منصوبے میں علمائے وقت اور کچھ درباری شامل تھے، بنیادی کردار مجھے دیا گیا، کیوں کہ میں بادشاہ کے دربار میں با اثر تھا، میرے خلاف کوئی نہیں بول سکتا تھا، پھر ہم نے سازش کے تحت یہ سارا کھیل کھیلا میں نے بہت بڑا جرم کیا مجھے ایسی سزا دی جا ئے کہ آئندہ کوئی ایسی حرکت کا سوچ بھی نہ سکے، لیکن مجھے یہ سکون ہے کہ میں نے مر نے سے پہلے مرد خدا کے پاؤں کو چوما پھر وہ اٹھا اور خواجہ قطبؒ کی طرف بڑھا اور بولا اے مرد درویش مجھے اپنا ہاتھ چومنے دیں پھر خواجہ قطبؒ کے ہاتھ پر آنکھیں رکھ کر دھاڑیں مار کر رونے لگا پھر خواجہ قطب ؒ بادشاہ سے مخاطب ہوئے اور کہا میں نے اِس کو معاف کیا آپ بھی اِس کو معاف کر دیں پھر سردار سے کہا تم اِس عورت اور بچے کو ان کے حقو ق دے دو پھر تاریخ انسانی کے دو عظیم درویش انسانوں کے سمندر سے گزرتے ہوئے آستانہ قطب پر چلے گئے، پھر چند دن بعد خواجہ قطبؒ کے آستانے پر لوگوں نے ایک مرد اور عورت کو دیکھا عورت برقعے میں تھی، مرد کی داڑھی بڑھی ہوئی بال بے ترتیب شکستہ حال لوگوں نے دیوانہ سمجھا۔ دونوں نے زبردستی اندر جانے کی کوشش کی خادموں نے روکا تو خواجہ قطبؒ نے دونوں کو اندر بلالیا اندر خواجہ معین الدینؒ اور خواجہ قطبؒ جلوہ افروز تھے، عورت نے اندر آکر نقاب ہٹا دیا یہ وہی عورت تھی، جس نے خواجہ قطبؒ پر الزام لگا یا ساتھ وہی سردار تھا جو دربار چھوڑ چکا تھا۔ بولا شاہ دہلی یہ عورت ہندو رقاصہ تھی اب یہ آپ کے ہاتھوں مسلمان ہونے آئی ہے، پھر وہ زیور ایمانی سے ہمکنار ہوگئی سردار بولا شاہا مجھے اپنے غلاموں میں شامل کرلیں تو خواجہ قطبؒ بولے دربار میں تمہارے جیسے لوگوں کی زیادہ ضرورت ہے، بادشاہ کے نام خط لکھا کہ اسے دوبارہ اسی منصب پر بحال کیا جائے خدا معاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے، عورت جاتے ہوئے بار بار ایک ہی بات کہ مجھے دنیا میں ہی جنت مل گئی، مجھے خواجہ قطب ؒ کے ہاتھوں مسلمان ہو نے کی سعادت نصیب ہوئی مرد درویش کے در پر جو بھی آیا ایمان کے نور میں ڈوب کر واپس گیا۔

مزید :

رائے -کالم -