صدیق بلوچ کی روح آزادی سے پرواز کرکے آزاد ہوگئی

صدیق بلوچ کی روح آزادی سے پرواز کرکے آزاد ہوگئی
صدیق بلوچ کی روح آزادی سے پرواز کرکے آزاد ہوگئی

  

بلوچستان کے ممتاز صحافی دانشور صدیق بلوچ سے تعلق اس وقت قائم ہوا جب گورنر بلوچستان غوث بخش بزنجو کی رخصتی کے ساتھ وہ بھی رخصت ہوگئے۔ اس کے بعد انہوں نے فاطمہ جناح روڈ کتابوں کی ایک دکان کھولی اور ان کتابوں میں اکثریت سوویت یونین سے متعلق تھیں ان سے اکثر ملاقاتیں دکان پر ہوتی تھیں وہ اکیلے ہی بیٹھے ہوتے تھے جب نیپ کی حکومت بھٹو نے الزامات لگاکر ختم کردی تو تھوڑے عرصے کے بعد نیپ کے کارکنوں اور بی ایس او کے نوجوانوں نے پہاڑوں کا رخ کیا اور مسلح جدوجہد شروع ہوگئی 1973ء میں نیپ کی حکومت ختم کردی گئی تو اس غلط اقدام کے خلاف انہوں نے منان چوک پر بھٹو کے اقدام کے خلاف تقریر کی میرے ساتھ اس وقت علی احمد کرد امان بازئی اور عطاء اللہ بزنجو نے بھی تقریر کی اس تقریر کو بھٹو نے باغیانہ قرار دیا اوربغاوت کا مقدمہ قائم کردیا نواب بگٹی گورنر بلوچستان تھے اور ہم سب دوست نواب بگٹی کے قیدی بن گئے۔

1973ء کے آخر میں ضمانت پر رہائی مل گئی تو بے روزگاری تھی مجیب الرحمن شامی کے ہفت روزہ میں بلوچستان کے سیاسی حالات پر تجزیہ لکھنا شروع کیا جیل سے نکلا تو بی ایس او اور نیپ کے کارندے مجھے مسلح جدوجہد کے حوالے سے خبریں بناکر دیتے تھے۔

میں ہفت روزہ زندگی میں لکھتاتھا صدیق بلوچ نے اس عرصے میں ایک اور اہم کام کیا اس کا علم بہت سے دوستوں کو نہیں ہوگا وہ مسلح جدوجہد کی تحریری کارروائیوں کو سائیکلو اسٹائل کرکے تقسیم کرتے تھے یوں پہاڑوں پر مسلح جدوجہد کی کارروائیوں سے لوگوں کوآگاہ کرتے تھے۔

میری صدیق بلوچ سے ملاقات ہوتی تو انہیں بتلاتا کہ ان کے بلٹن میرے پاس ہیں تو خوب ہنستے تھے ان کی گرفتاری کا سبب یہ بلٹن ہی بنے میں اکثر فاطمہ جناح روڈ سے ہوتے ہوئے جناح روڈ جاتا تو صدیق بلوچ سے ملاقات ضرور ہوتی ایک دن اس طرف گیا تو دکان پر تالالگاہوا تھا علم ہوا کہ پولیس انہیں گرفتار کرکے لے گئی ہے۔

ان کی گرفتاری کاسبب سرمچاروں کی سرگرمیوں کو بلٹن کی صورت میں تقسیم کرنا تھا یوں وہ جیل چلے گئے۔ وہ انگریزی اخبار ڈان کے نمائندے تھے جب رہا ہوئے تو ان کی سرگرمی بطور صحافی شروع ہوگئی میں خبریں بنانے کا انہیں ملکہ حاصل تھا پھر انہیں کوئٹہ سے اخبار نکالنے کا خیال آیاروزنامہ آزادی اور پھر انگریزی اخبار بلوچستان ایکسپریس نکالا ورکنگ جرنلسٹس کا سفر اخباری مالکان کی منزل پر آکر ٹہر گیا۔ انہوں نے اپنے بچوں کو اس فیلڈ میں داخل کردیا۔

اور اپنا تجربہ ان تک منتقل کیا۔ وہ حیرت انگیز صلاحیتوں کے مالک تھے بیک وقت انگریزی اور اردواخبار نکالنا یہ ایک عام شخص کا کام نہیں ہے انہوں نے اپنی تمام صلاحیتیں وقف کر ادیں وہ اکثر ویسپا سکوٹر پر پریس کلب اور دیگر تقریبات میں شریک ہوتے۔

ان کا ذہنی سفرسوشلزم سے ہوتے ہوئے بلوچ نیشنلزم کی طرف آگیا صحافت کے اس میدان میں روزنامہ اخبار موجود تھا اور ان کے ذہن میں تھا کہ جہاں انتخاب جائے وہاں آزادی بھی پہنچ جائے۔ انگریزی اخبار کا پڑھنا ذرامشکل ہے۔

صدیق بلوچ کا انگریزی اخبار بلوچستان ایکسپریس ڈان کی جگہ نہیں لے سکا مگر آزادی نے اپنا ایک مقام بنالیا لیکن پشتون علاقوں میں آزادی اپنی جگہ نہیں بناسکا اس کی وجہ یہ ہے صدیق بلوچ کا ذہنی جھکاؤ بلوچ نیشنلزم کی طرف بہت زیادہ تھا اور اس حوالے سے انتخاب سے بھی زیادہ رجحان بلوچ ازم کی طرف تھا انتخاب بھی پشتون بیلٹ میں پیش رفت نہ کرسکا انور ساجدی نے اس میدان خار زار میں قدم رکھا تو انتخاب کو ایک مقام تک پہنچایا۔

اب ساجدی نے بالاچ کے نام سے کالم لکھنا چھوڑد یا ہے اب اداریہ بھی کبھی کبھی لکھتا ہے اس کی اردو کمال کی ہے گفتگو میں اس کی اردو کمزور ہے مگر ایک بلوچ کا خوبصورت اردو لکھنا یہ کمال کی بات ہے مطالعہ کا شوقین ہے پیپلزپارٹی سے محبت کا خمار ایک طرح سے اتر گیاہے۔

صدیق بلوچ کا صحافتی سفر زندگی کا چراغ گل ہونے کے ساتھ ختم ہوگیا ہے اب ان کی یادیں رہ گئی ہیں دونوں اخبار صدیق بلوچ کا نام زندہ رکھیں گا۔

بلوچستان سے مہاجرین کے انخلا کے زبردست حامی تھے اس حوالے سے وہ مسلسل ادارئیے لکھتے تھے ان کے ذہن میں فاٹا کو صوبہ بنادینا ناقابل برداشت تھا وہ ذہنی طور پر اس سے خو فزدہ تھے کہ فاٹا کا صوبہ بنا تو خالص پشتون صوبہ ہوگا اور سینیٹ میں پشتونوں کے دو صوبوں کی نمائندگی ہو جائے گی۔

ان کے ذہن میں ایک سیاسی خوف تھا بلکہ کئی سال پہلے میں نے ایک کالم لکھا کہ فاٹا کو علیحدہ صوبہ ہونا چاہیے وہ ایک خالص پشتون آبادی والاصوبہ ہوگا میری اب بھی پختہ رائے یہ ہے کہ فاٹا کوعلیحدہ صوبہ بننا چاہیے اس سے سینٹ میں پنجاب کی بالادستی کو ایک زبردست تاریخی جھٹکا لگے گا اور بڑے صوبے کی عددی برتری سینیٹ میں ختم ہوجائے گی لیکن اسٹیبلشمنٹ اس کو کبھی برداشت نہیں کرے گی کہ پنجاب کی بالادستی کو نقصان پہنچے اس سوچ نے مشرقی پاکستان کو 1970ء کے انتخاب کے بعد علیحدہ کرنا پسند کیا لیکن اپنی آبادی کی برتری کو قائم رکھنے کے سیاسی جنون نے بنگالیوں کو بنگلہ دیش بنانے کی طرف مائل کیا اب امریکہ بھی چاہتا ہے کہ فاٹا کو علیحدہ صوبہ بنانے کی بجائے اسے کے پی کے میں ضم کردیا جائے۔ یوں پنجاب کی اسٹیبلشمنٹ اور امریکہ ہم آہنگ ہوگئے ہیں 1970ء کے انتخابات میں جماعت اسلامی کے منشور میں ایک اہم حصہ یہ تھا کہ بہاول پور کو علیحدہ صوبہ بنایاجائے۔ عددی برتری کے منفی اثرات کا ادراک رکھتے تھے اس لئے انہوں نے یہ نہیں کہاکہ پنجاب کو دو حصوں میں تقسیم کرو بلکہ خوبصورتی سے بہاولپور کو صوبے کا درجہ دینے کو اپنے منشور کا حصہ بنایا افسوس اس بات کا ہے کہ جماعت اسلامی نے اپنے منشور سے اہم مشورے کو فراموش کردیا ہے اور کسی اور طرف نکل گئی ہے۔

اب وہ بھی فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنے کی بات کررہی ہے اس پر جماعت اسلامی کو کھل کر رائے لینی چاہیے تھی اور بہاول پور کو صوبائی درجہ دینے کے موقف سے پیچھے نہیں ہٹناچاہیے تھا۔ صدیق بلوچ بھی اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کی رائے سے متفق تھے کہ فاٹا کو صوبہ نہیں بننا چاہیے۔

میری رائے یہ ہے کہ فاٹا کو فاٹا رہنے دیا جائے یا اسے صوبائی درجہ دیا جائے تیسرا راستہ تاریخی اور سیاسی لحاظ سے چھوٹے صوبوں کے لئے نقصان دہ ہے۔

صدیق بلوچ کو بھی یہ خوف لاحق تھا کہ سینٹ میں پشتون صوبے کا اضافہ بلوچوں کے لئے نقصان ہوگا۔ اس لئے بلوچ قوم پرست پارٹیوں کو بھی یہ خوف لاحق ہے کہ اس طرح پشتون بالادستی سینیٹ میں واضح نظر آئے گی۔

سندھ میں بلوچ سندھی نیشنلزم میں ضم ہوگئے ہیں سندھی نیشنلزم نے بلوچ قوم پرستی کو ایک لحاظ سے ہڑپ کرلیا ہے سندھ میں پیپلزپارٹی نے سندھی قوم پرستی کو اپنے دامن میں چھپالیا ہے اور سندھی نیشنلزم حامی ہوگئی ہے۔

صدیق بلوچ کے ادارئیے ان کے ذہنی رجحان کی زبردست عکاسی کرتے تھے انہوں نے بلوچستان کا مقدمہ اپنے اداریوں کے ذریعے لڑا۔ ایران کے حوالے سے ان کے تمام اداریے کافی حد تک مثبت تھے اور ایران میں انقلابی تبدیلی کے زبردست حامی تھے حسن اتفاق سے ہم دونوں انقلاب کی تقریبات میں ایک ساتھ ہوتے تھے۔

احمدی نژاد صدر تھے انہیں پہلی دفعہ ایران کے انقلاب کی تقریبات میں دو شخصیات کو دیکھنے کا موقع مل رہاتھا احمدی نژاد کی تقریر کے دوران لاکھوں لوگ مرگ برامریکہ کے نعرے لگارہے تھے تو صدیق بلوچ نے کہا کہ امریکہ ایران کا کیوں مخالف ہے آج اندازہ ہوگیا کہ عالم اسلام میں ایران وہ واحد ملک ہے جہاں صدر مملکت کی موجودگی میں مرگ برامریکہ کے نفرت انگیز نعرے گونج رہے تھے صدیق بلوچ کا ذہن اس دور ے کے بعد ایران کی انقلابی تبدیلی کی طرف مائل ہوگیا۔

صدیق بلوچ کے ادارائیے بڑی دلچسپی سے پڑھتارہا ہوں ان کی رائے سے شدیداختلافات بھی ہوتے تھے لیکن ادارئیے وہ مسلسل لکھتے رہے۔ انہوں نے جب لاہور کے واقعہ کے حوالے سے جمعیت کے خلاف دو اداریے لکھے تو فیصلہ کیاکہ اس کو جواب دیاجانا چاہیے اس طرح انتخاب کا اداریہ بھی یکطرفہ تھا انور ساجدی کو مسیج کیا اورا پنی رائے ظاہر کی تو انہوں نے کہاکہ آپ لکھیں ہم شائع کردیں گے۔

انگریزی اخبار بلوچستان ایکسپریس میں ادارتی صفحہ پر بین الاقوامی مسائل پر مختلف اخبارات اور رسائل کے مضامین کا حسن انتخاب قابل تعریف ہوا کرتا تھا۔ اہم مسائل پر ان کا انتخاب بہت ہی اہم ہوتا تھا انگریزی صحافت میں دو بڑے سینئر صحافیوں غلام ظاہر اور شمس الحق کے بعد صدیق بلوچ کا نام آتا ہے اب انگریزی صحافت میں صدیق بلوچ آخری نام تھا جس نے انگریزی میں عوام تک اپنی آراء کو پہنچایا اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے یہ بھی انسانی زندگی کا المیہ ہے کہ انسان چلاجاتا ہے اور اس کی یادیں رہ جاتی ہیں اہل صحافت کو چاہیے کہ ان کو فراموش نہ کریں گاہے بگاہے انہیں کسی نہ کسی حوالے سے یاد کرلینا چاہیے۔

مجھے امید ہے کہ صدیق بلوچ کے فرزند اور اس کے عزیز اپنے باپ کے مشن کو جاری رکھیں گے جس کرسی پر بیٹھ کر وہ اداریے لکھتے تھے وہ کرسی ان کی یاد دلاتی رہے گی اور ان کی موجودگی کا احساس دلاتی رہے گی۔

صدیق بلوچ نے اپنی زندگی کا سفر آزادی سے شروع کیا اب ان کی روح آزادی سے پرواز کرکے آزاد ہوگئی ہے۔ دعا ہے مہربان رب اسے اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔ (آمین)

مزید :

رائے -کالم -