دُنیا کی ترقی اور پاکستان کے حالات

دُنیا کی ترقی اور پاکستان کے حالات
دُنیا کی ترقی اور پاکستان کے حالات

  

ربِ کائنات نے اپنی حسین کائنات کے اندر سب سے خوبصورت ٹکڑا زمین پیدا کیا ہے۔ (ابھی تک انسان جو کچھ دریافت کر سکا ہے اس کے مطابق) اس زمین کی رنگ برنگی خوبصورتیوں سے مزین یہ زمین جہاں اپنے اندر کروڑوں مختلف جانداروں کو سمائے ہوئے ہے وہی ان سب کے لئے وسائل بھی رکھتی ہے، جس طرح اللہ کی کائنات کے تمام سیارے اپنے اپنے مدار میں ایک ساعت آگے پیچھے ہوئے بغیر اپنے رب کے حکم کے طابع اپنا کام کر رہے ہیں اسی طرح اس زمین کے اندر بسنے والی تمام مخلوقات بھی اپنی اپنی حدود میں رہ کر اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔

اب ان مخلوقات میں اشرف المخلوقات انسان ہیں، لیکن افسوس کہ انسان کو اپنے رب کی طرف سے جو صلاحیتیں ودیعت ہوئی ہیں۔ وہ ان سے ناجائز فوائد اُٹھانے لگ پڑا، جس سے اس سیارے کا توازن بھی بگڑنے لگا۔ انسانوں کے کئی گروپ ہیں۔ ایک وہ ہیں، جنہوں نے اپنی محنت کے بل بوتے پر اپنی سرحدوں کے اندر بہتر وسائل حاصل کر لیے اور کسی حد تک اپنے معاشروں میں انصاف اور بہتر نظام کے تحت خوشحالی حاصل کر لی اور دوسروں کو اپنا دست نگر بنا لیا۔ یہ گروپ جس کو عرف عام میں اہل مغرب کہا جاتا ہے، اس کی سرحدیں امریکہ اور بعید ایشیا تک پھیلی ہوئی ہیں۔

ان ممالک نے محنت ضرور کی ہے، لیکن خود کو اس مقام تک لے جانے میں کئی کمزور معاشروں کا استحصال بھی کیا ہے اور ان ممالک پر زبردستی مسلط ہو کر ان کے وسائل بھی لوٹے ہیں ۔

دوسرے گروپوں میں ایک گروپ وہ ہے جس کو اللہ تعالی نے وسائل سے تو مالا مال کیا ہے (بذریعہ مغرب یا امریکہ) لیکن ذہنی ترقی مفقود ہے۔

ان کے پاس دولت کی ریل پیل اور افرادی قوت ہونے کے باوجود یہ پہلے گروپ کے دست نگر ہیں۔ 70ء کی دھائی تک ان ممالک کا آپس میں اتحاد بھی مثالی تھا، لیکن اس کے بعد یہ آپس میں گتھم گتھا ہیں، جس کی وجہ سے جہاں ان کے وسائل کا ضیاع ہو رہا ہے وہیں امریکہ، روس ، یورپ اور چائنہ کے اسلحے کی بہت بڑی منڈی بھی بن رہی ہے۔

اس گروپ کو عرف عام میں مڈل ایسٹ یا گلف کہا جاتا ہے۔ اب تیسرا گروپ جسے ترقی پذیر ممالک کا گروپ کہہ سکتے ہیں اس کی سرحدیں بھی پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ایک طرف ہمارا خطہ ہے جسے سارک ممالک کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ دوسری طرف جنوبی امریکہ کے ممالک اور سینٹرل افریقہ وغیرہ ہیں۔ مشرق بعید میں انڈونیشیا، ملائشیا (اب ترقی پر ہے) اور کئی دوسرے چھوٹے ممالک شامل ہیں۔ افریقہ میں ایک اور گروپ بھی ہے جہاں سب سے زیادہ غربت ہے۔ اس کی وجہ بھی جنگیں ہیں۔

آئیے ہم اپنے گروپ میں سے اپنے ملک کی صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہیں۔ اور اپنے خطے کے دوسرے ممالک سے موازنہ کر کے فرق کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت نے ایک ساتھ برطانوی تسلط سے آزادی حاصل کی، قطع نظر سرحدی تقسیم میں ہیرا پھیری اور بے انصافی کے دونوں ممالک نے ایک ساتھ ترقی کے سفر میں اڑان بھری بھارت نے شروع ہی سے جو چند ایک بڑے فیصلے لئے ان کی بدولت ان کی ترقی کی منزل کے راستے قدرے آسان ہو گئے۔

ان فیصلوں میں سب سے بڑا فیصلہ جاگیرداری نظام پر کاری ضرب لگا کر اپنے ملک کی زراعت کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا۔ شروع میں پاکستان تمام زرعی اجناس، پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار میں بھارت سے بہت آگے تھا اور آج کپاس اور آم کی پیداوار کے سوا ہر چیز میں پیچھے رہ گیا ہے، حالانکہ پاکستان کے حصے میں پنجاب کی بہترین زمین آئی تھی، سندھ میں بہت بڑی زمین کے علاوہ خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع بھی بہترین پیدوار دینے والی زمین رکھتے تھے۔

پاکستان کے پاس بہترین نہری نظام بھی موجود ہے، لیکن ہمارے حکمرانوں نے نہ تو زمینوں کی درست تقسیم کر کے جاگیرداری نظام توڑا اور نہ ہی اپنے آبی وسائل پر کبھی توجہ دی۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی کوئی اعلیٰ پائے کے زرعی ترقیاتی سینٹر بنائے گئے نہ جدید کاشت کاری کا علم و ہنر سیکھا گیا۔

بھارت نے روز اول سے ہی اپنے ملک میں جمہوریت کی مضبوطی کی داغ بیل رکھ دی،جبکہ پاکستان میں جمہوریت کوپنپنے کا موقع ملا نہ متفقہ آئین تشکیل دیا جا سکا۔ اسی طرح زندگی کے کسی بھی شعبے میں نمایاں ترقی نہ ہو سکی۔ آج بھی اگر ہم غور کریں تو صرف نظام اور سوچ کی کمی ہے ورنہ 22کروڑ کی آبادی والا ایٹمی ملک جو دنیا کی طاقتور فوج بھی رکھتا ہو کیونکر اس قدر بدحالی کا شکار ہو سکتا ہے؟ ہم نے اپنے قومی اثاثوں کی حفاظت نہیں کی ہے۔

ہمارے رویئے ایسے بن چکے ہیں کہ صرف اپنی ذات کا سوچتے ہیں اپنے گھروں پر کروڑوں روپیہ لگا دیتے ہیں باہر گلی میں سو روپیہ خرچ کرتے ہیں نہ پانی کی نکاسی کے لئے دو ہزار کا پائپ ڈال سکتے ہیں۔

سڑکوں پر ٹریفک کی حالت کو دیکھ لیں ہر بندہ یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ یہ سڑک صرف میری ہے لہذا میں جہاں چاہوں گاڑی چلاوں یا پارکنگ کروں۔

کسی پبلک بیت الخلاء کی حالت دیکھیں تو ایسے لگتا ہے کہ یہ جانوروں کے استعمال میں ہے۔ ٹریفک کی صورتِ حال اور صفائی دو ایسی چیزیں ہیں، جنہیں دیکھ کر اس ملک کے لوگوں کا پتا چلتا ہے کہ یہاں کیسے لوگ رہتے ہیں۔

جب تک لوگ اپنی ذاتی املاک کے ساتھ اپنے قومی ورثے اور مشترکہ اثاثوں کی حفاظت نہیں کریں گے۔ جب تک ہر بندہ اپنا قومی فریضہ ادا نہیں کرے گا، جب تک ہم ایک دوسرے کا احترام نہیں کریں گے، سول سوسائٹی باہمی صلاح مشورے سے اپنے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لے گی اس وقت تک ترقی کے راستے مسدود رہیں گے۔ اور ہم دنیا سے مزید پیچھے رہ جائیں گے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ عوام میں شعور اُجاگر کرنے کے لئے مختلف ذرائع استعمال کرے بالخصوص تعلیمی اداروں کے نصاب میں مناسب تبدیلیاں لائی جائیں۔

مزید :

رائے -کالم -