علم،تحقیق اور امن کے لئے 65سال!

علم،تحقیق اور امن کے لئے 65سال!

  

شستہ زبان، متین لہجہ، دلنشیں الفاظ، مدلل گفتگو کی بدولت وہ دنیا کے عظیم مذہبی سکالر اور قائد انقلاب بن گئے

دنیا میں وہی لوگ بڑے کہلاتے ہیں جو اپنے اعمال و افکار کے گہرے نقوش تاریخ عالم پر اس طرح ثبت کرتے ہیں کہ وہ آنے والی نسلوں کیلئے مشعل راہ بن جاتے ہیں اور جن سے اکتساب نور کرتے ہوئے بھٹکے ہوئے قافلے بھی منزل مراد تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں،انسان کی زندگی کے مختلف ادوار میں مختلف مشن ہوتے ہیں۔بچپن میں وہ بڑا ہونے کا خواب دیکھتا ہے،لڑکپن میں اعلیٰ تعلیم کی خواہشن ہوتی ہے جوانی میں اندگی کے کسی شعبے میں نمایاں مقام حاصل کرنے کی تمنا ہوتی ہے اور بقیہ زندگی خوب سے خوب تر کی جستجو میں صرف کر دیتا ہے،خواہشات کے بغیر کامیاب زندگی کا تصور بھی محال ہے نیک خواہشات انسان کو بام عروج تک پہنچا دیتی ہیں اور غلط خواہشات قعر مزلت میں گرا دیتی ہیں،ایک دوسرے کیلئے نیک خواہشات پر یقین کرنا انسانی تہذیب میں خوشگوار فریضہ سمجھا جاتا ہے،ہنسنا،بولنا،پڑھنا لکھنا، ملنا جلنا،،کھیلنا کودنا خواہشات کے مختلف پہلو ہیں۔زندگی میں بلند سے بلند مقام کے حصول کی جستجو میں رہنا اپنے ہنر کو فروغ دینے کیلئے سوچنا اور پھر علم و فن میں کمال حاصل کرنے کی آرزو کرنا، دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونا،قوم کے مستقبل کی فکر کرنا یہ سب نیک خواہشات کے کرشمے ہیں۔ زہد و تقوی کے ذریعے خدا کا قرب تلاش کرنا مختلف طبقوں،فرقوں اور برادریوں میں بٹے ہوئے انسانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے انہیں ایک قوم بنا دینا سب نیک خواہشات کا اعجاز ہے۔تحریک منہاج القرآن کے بانی پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی شخصیت کا بغور مطالعہ کریں تو انہوں نے زندگی میں جتنے بھی کام کئے ان میں نیک خواہشات جلوہ گر نظر آتی ہیں۔کوئی کام کسی کو نقصان پہنچانے کیلئے کبھی نہیں کیا،ہمیشہ ملک و قوم کی بھلائی چاہی،ڈاکٹر طاہر القادری یہاں تک محتاط نظر آتے ہیں کہ انہوں نے کوئی رتبہ یا ڈگری ایسی حاصل نہیں کی جس میں انکی محنت شامل نہ ہو،ڈاکٹر طاہر القادری کی تحریر و تقریر میں موضوع اور کچھ عطا کرنے کی خوبیاں نمایاں نظر آتی ہیں،الفاظ میں فصاحت و بلاغت کے دریا موجزن دکھائی دیتے ہیں۔ پریس کانفرنس ہو یا کمرہ عدالت،پارلیمنٹ کا اجلاس ہو یا جلسہ عام انکے خطاب کا انداز نہایت باوقار ہوتا ہے،انکی زبان شستہ،لہجہ متین،الفاظ دلنشین،گفتگو مدلل اور خیالات روح کی گہرائیوں میں اتر جاتے ہیں،انہیں اوصاف کی بنا پر وہ دنیا کے عظیم مذہبی سکالر،معروف قانون دان،تاریخ ساز سیاست دان اور اپنی قوم کیلئے قائد انقلاب بن گئے ہیں۔

اس پر ہجوم اور نفوس انسانی سے بھری دنیا میں ہر گر وہ اپنے اپنے طور پر سرگرم عمل ہے تاہم آخر الذکر گروہ میں ایک ایسا فرد اپنے افعال و اعمال اور اقوال کی بدولت چشمِ اقوام میں تارا بن کر جگمگا رہا ہے جسے لوگ طاہرالقادری کے اسمِ گرامی سے موسوم کرتے ہیں۔ اس فرد کے ایک ہاتھ میں قلم ہے جو صفحہء قرطاس پر حق و صداقت کی کہانیاں رقم کر رہا ہے۔ اس کے دوسرے ہاتھ میں دینوی شان وشوکت کا علم ہے جو نفوس انسانی کیلئے سمت نمائی کا فریضہ ادا کر رہا ہے۔ اسکے منہ میں ایسی سیف زبان ہے جو مسلسل دشمنان دین کے حلقوم کاٹ رہی ہے اور اللہ تعالی کا جیتا جاگتا معجزہ یہ ہے کہ نہ تو علم و قلم کے بار سے اس شخص کے کاندھے شل ہوتے ہیں نہ اس کی تیغ زبان کی کاٹ میں کمی آتی ہے۔ یہ فرزانہ دنیاوی معاملات سے بے خبر ہو کر دیوانہ وار صحرائے زندگی میں اذان صداقت بلند کر رہا ہے۔

ڈاکٹر طاہرالقادری کی عظمت کا راز محض اس امر میں پوشیدہ نہیں ہے کہ وہ ایک عالم باعمل اور شعلہ بیان مقرر ہیں یا وہ ایک صاحب طر زِ اسلوب نگار مصنف ہیں یا انہوں نے صاحبان فہم و ذکا سے اپنی تحقیقی و تنقیدی صلاحیتوں کا اعتراف کرا لیا ہے میرے نزدیک تو طاہرالقادری ہر من ہیمز کے ایک ناول کے اس ہیرو کی طرح ہے جو ایک موقع پر اپنے تمام رقیبوں پر یہ بات واضح کر دیتا ہے کہ وہ اپنی تمام قوتوں اور قدرتوں کے باوجود اس کو اس لیے زیر نہیں کر سکتے کہ اس کے پاس تین ایسی صلاحیتیں ہیں جو کسی دوسرے کے نصیب میں نہیں اولاً اس کے پاس علم ہے اور اس کے رقیب علمی صلاحیتوں سے بے بہرہ ہیں وہ محبت کی خاطر بھوکا رہ سکتا ہے جبکہ اس کے مدّ مقابل خوردونوش کے رسیا ہیں۔ ثانیاً وہ انتظار کر سکتا ہے جبکہ اس کے مخالفین ”نو نقد نہ تیرہ ادھار“ کے قائل ہیں۔ اگر آپ طاہرالقادری کی پوری زندگی کا منظرنامہ مرتب کریں تو وہ اسی مثلث پر استوار نظر آئے گا یعنی علمی استعداد، مقاصد جلیلہ کی خاطر ہر قسم کی صعوبتیں برداشت کرنا اور خو ف و مایوسی سے دامن بچا کر اچھے وقت کا انتظار کرنا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اگر آپ طاہرالقادری کے ہم عصر رقیبوں کا بنظر غائر مطالعہ فرمائیں تو وہ ان تینوں صلاحیتوں کے فقدان کے باعث دنیا میں زبوں حال پھر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اعمال مقاصد کے تابع ہوتے ہیں اور جسکا مقصد جتنا ارفع ہوتا ہے اس کے اعمال بھی اتنے ہی رفیع الشان ہوتے چلے جاتے ہیں۔ طاہرالقادری معاشرے میں حق و صداقت کی روشنی پھیلانے کے متمنی ہیں۔ وہ اہل دنیا کی نگاہوں میں اسی لیے قدر و منزلت کے حقدار قرار پائے ہیں کہ انہوں نے سچ کی فرمانروائی کے لئے اپنوں کو خفا اور بیگانوں کو تو ناخوش کر لیا لیکن حق و صداقت کے علم کو سرنگوں نہ ہونے دیا۔

ڈاکٹر طاہرالقادری ربع صدی سے یہ فریضہ بطریق احسن انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے ضرب علم و امن کا آغاز کر کے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ فوج دہشت گردوں کا مقابلہ بندوق سے کرے اور ہم دہشتگردوں کی فکر کا خاتمہ قلم سے کریں گے۔کسی نے ڈاکٹر طاہر القادری سے پوچھا کہ آپ نے دھرنوں کی مشقت کیوں اٹھائی؟ انہوں نے سادھا سا جواب دیا قیامت کے دن جب مجھ سے پوچھا جائے گا کہ پاکستان کے غریب عوام کے ساتھ ظلم ہو رہا تھا انکو ایک وقت کی باعزت روٹی بھی نہیں مل رہی تھی،غریب کو ہسپتال میں دوائی تک نہیں مل رہی تھی،تھانوں اور عدالتوں میں انصاف بک رہا تھا،80فی صد سے زائد لوگوں کو پینے کا صاف پانی نہیں مل رہا تھا،ظالم حکمران غیر ملکی قرضے لے کر اپنی عیائشیوں پر خرچ کر رہے تھے اور یہ قرض اور اس پر سود غریب عوام نسل در نسل اتار رہے تھے۔غریب کے بچوں اور بچیوں کی اعلیٰ تعلیم کے باوجود بے روزگار تھے،عزت دار لوگوں کی بیٹیاں جہیز نہ ہونے کے باعث گھروں میں بیٹھی بوڑھی ہو رہی تھیں،معصوم بچے تھر اور چولستان میں بھوک اور علاج نہ ہونے کی وجہ سے موت کو گلے لگا رہے تھے تو طاہر القادری تم نے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی تو میں کہوں گا اے باری تعالیٰ تیرے مجبور اور غریب عوام کو انکے جائز حقوق دلوانے کیلئے قاتل و غاصب حکمرانوں کے خلاف پاکستان کے سب سے بڑے ایوان کے سامنے میں نے دھرنے دئیے اور ملک کے غریبوں کو بھی یہ پیغام دیا کہ اگر تمہارے لئے اور کوئی نہیں نکلتا تو ڈاکٹر طاہر القادری ضرور نکلے گا،۔ وہ نوجوانوں کی فکری آبیاری بھی کرتے ہیں اور ان کی سمت نمائی بھی۔ ا ب تو یہ بات بلا شک و بلا تردْد کہی جاسکتی ہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے فکری تربیت یافتہ نوجوان پوری دنیا میں اپنے حق پرست اور دیندار استاد کے افکار و نظریات کی تشہیر و تبلیغ میں مصروف عمل ہیں۔ ان نوجوانوں پر یہ راز منکشف ہو چکا ہے کہ وہی شجر تناور ہوتے ہیں جن کی جڑیں زمین میں پیوست ہوتی ہیں۔ بلاشبہ ڈاکٹر طاہرالقادری ایک ایسے شجرِ سایہ دار ہیں جن کے سائے میں علم و ادب کے شائقین سْستا رہے ہیں۔عصر حاضر میں ایسے خود ساختہ دانشوروں اور مذہبی رہنماؤں کی کمی نہیں جو اس امر پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ معاشرے میں علم و مذہب اور دانش و برہان کی تمام تر ترقی کا دارو مدار ان ہی کی ذوات مقدسہ پر ہے۔ اس قبیل کے دانشور خود تو فکری اعتبار سے تہی مایہ ہوتے ہیں مگر دوسروں کے افکار عالیات کو اپنے نام سے پیش کرنے میں خاص مہارت رکھتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے خوشامدانہ طرزِعمل کے باعث ایک جانب تو حکومت کے منظور نظر ہوجاتے ہیں اور دوسری سمت ذرائع ابلاغ پر ان کا قبصہ ہو جاتا ہے۔ یہ لوگ ایک خاص طرح کی ”سوچ“ معاشرے میں پھیلانے کی کو شش کرتے ہیں اور جو لوگ ان سے سرِمو ”اختلاف“ کرتے ہیں وہ انہیں رسوا کرنے کا مو قع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ آپ ذرا غور فرمائیے کہ گزشتہ ربع صدی میں کونسی بڑی اسلامی یا علمی تحریک ظہور پذیر ہوئی ہے؟ میرے خیال میں ہمارے معاشرے کی علمی و اسلامی فضا کی تبدیلی اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب حقیقی دانشور نظری اور عملی ہر سطح پر حق و صداقت کا اظہار کریں۔ یہ امر انتہائی امتنان کا باعث ہے کہ جھنگ جیسے پسماندہ خطے سے ایک شخص طاہرالقادری کے نام سے جلوہ گر ہوتا ہے اور تھوڑے ہی عرصہ میں اپنی استعداد اور صلاحیتوں کے باعث علمی و اسلامی افق پر ایک آفتاب کی طرح جگمگانے لگتا ہے۔ وہ اپنی تخلیقات کے ذریعہ ایک ایسی سچی اور کھری تاریخ مرتب کرتا ہے جومعاشرے کوایک نئی نہج عطا کرتی ہے۔ اس کی تحریریں اور تقریریں نوجوانوں کو عزم و حوصلہ عطا کرتی ہیں اور وہ معاشرے میں باعزت زندگی بسر کرنے کے قرینے تلاش کرلیتے ہیں۔ دانشمند کہتے ہیں کہ جب کسی خطے میں کوئی بڑی شخصیت ظہور پذیر ہوتی ہے تو زمین کی تقدیر بھی بدل جاتی ہے۔ اسکی بہترین مثال یہ ہے کہ جب حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدوم مدینہ میں آئے تو وہ منورہ ہوگیا۔ جب یہی قدوم مکہ پہنچے تو وہ مکرمہ ہوگیا اور جب یہی قدوم عرش نشین ہوئے تو وہ معظمہ ہوگیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چراغ الفت سے اپنا چراغ مودت روشن کرنے والے طاہر القادری کو بھی اللہ کی جانب سے یہ فضیلت حاصل ہوئی کہ آج جھنگ شہر ان کے نام اور کام سے جگمگا رہا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ جو شخص اپنے دل میں چراغ الفت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلا لیتا ہے وہ اِدھر اْدھر کی روشنی سے گریز ہی کرتا ہے اور طاہرالقادری تو اس نظریے کے قائل تھے کہ

دل میں روشن کرلیا ہے حبّ احمد کا چراغ

ڈاکٹر طاہرالقادری نے اپنی زندگی کو انتہائی منضبط طریقے سے بسر کیا ہے اور انکے وضع اور جلیل القدر کاموں کو دیکھ کر گمان گزرتا ہے کہ یہ ایک فرد نہیں بلکہ مستقل ادارہ ہے اور اب تو صورت حال یہ ہے کہ طاہرالقادری کے افکار و نظریات نے سینکڑوں طاہرالقادری پیدا کردیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ طاہرالقادری کو طویل عمر عطا فر مائے تاکہ وہ حق اور سچ کی علمبرداری کرتے رہیں۔ مجھے امید ہے کہ جب وہ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے اپنے فکری وارثوں کو دیکھتے ہوں گے تو ایک اطمینان قلب کی کیفیت سے لطف اندوز ہوکر زیر لب کہتے ہوں گے:

سچ کو سچ لکھا ہے ہم نے کس لیے پچھتائیں گے

رات کو سورج کے جلوے چاند ہی کہلائیں گے

کرہِ اَرضی کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں میں سے بتیس کروڑ ہمارے ہمسایہ اور دنیا کے دوسرے گنجان آباد ملک بھارت میں بستے ہیں۔ ان میں سے صرف دو کروڑ مسلمان اْردو رسم الخط پڑھ سکتے ہیں۔ منہاج القرآن انٹرنیشنل انڈیا کے عہدے داران و کارکنان ڈھیروں مبارک باد کے مستحق ہیں کہ وہ ہمہ وقت دین اِسلام کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔ انہوں نے 2014ء میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی علم الحدیث کی معروف ترین کتاب ’المنہاج السوی‘ کا ہندی ترجمہ مکمل کرکے شائع کیا ہے جو کہ نہایت لائقِ تحسین اور قابلِ صد ستائش اَمر ہے۔

8۔ دیگر کتب کے ہندی تراجم

1۔دہشت گردی اور فتنہ خوارِج: مبسوط تاریخی فتویٰ

2۔عقائد میں اِحتیاط کے تقاضے

3۔سنیت کیا ہے؟

4۔تاریخ مولد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

5۔مقامِ محمود

علاوہ ازیں گجراتی زبان میں دو کتب کے تراجم شائع ہوئے ہیں جب کہ بھارت میں بولی جانی والی دیگر کئی زبانوں میں تراجم کا کام جاری و ساری ہے۔

دہشت گردی اور فتنہ خوارج (فتویٰ) کے تراجم

ہندی کے علاوہ اِسی سال دہشت گردی اور فتنہ خوارج پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے مبسوط تاریخی فتویٰ کا نارویجن اور انڈونیشیائی زبانوں میں بھی ترجمہ ہوا ہے جو نارویجن اور انڈونیشیائی قارئین کے لیے بہت مفید ہوگا اور انتہا پسندی و دہشت گردی کے خلاف لڑنے میں انہیں فکری و نظریاتی مواد فراہم کرے گا۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے حال ہی میں انسداد دہشتگردی اور فروغ امن نصاب دے کر امت مسلمہ کو ایک اور تحفہ دیا ہے،انہوں نے ملت اسلامیہ کے سکالرز صدیوں کا قرض اپنی اس تصنیف کے ذریعے چکا دیا۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 2 -