پی اے سی نے ٹیکس وصولیوں اور شرح سود پر بریفنگ کیلئے چیئرمین ایف بی آر اور گورنرسٹیٹ بینک کو طلب کر لیا

پی اے سی نے ٹیکس وصولیوں اور شرح سود پر بریفنگ کیلئے چیئرمین ایف بی آر اور ...
پی اے سی نے ٹیکس وصولیوں اور شرح سود پر بریفنگ کیلئے چیئرمین ایف بی آر اور گورنرسٹیٹ بینک کو طلب کر لیا

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ٹیکس وصولیوں کے ہدف اور شرح سود کے حوالے سے بریفنگ کے لئے چیئرمین ایف بی آر اور گورنر سٹیٹ بینک کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا، جبکہ پاکستان انجینئرنگ کونسل کو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سے کرائے گئے آڈٹ کی رپورٹس آڈیٹر جنرل کو فراہم کرنے کی ہدایت کر دی،آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کارپوریٹ سیکٹر کے کچھ اداروں نے آڈٹ کرانے سے انکار کیا لیکن آئین آڈیٹر جنرل کو مینڈیٹ دیتا ہے کہ وہ آڈٹ کرے گا،نیشنل بینک نے سٹے آرڈر لیا ہوا ہے چار سال سے وہ آڈٹ نہیں کرا رہے، پاکستان انجینئرنگ کونسل کا آڈٹ نہ کرنے سے جو ادارے آڈٹ کروا رہے ہیں وہ بھی کہیں گے کہ ہم آڈٹ نہیں کرائیں گے۔

پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین رانا تنویر حسین کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں وزارت خزانہ کے بجٹ اور استعال سے متعلق بریفنگ دی گئی آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایاکہ پہلے ہم فنانشل اسٹیٹمنٹ نہیں بناتے تھے اب بنا رہے ہیں۔ آڈٹ حکام نے کہا کہ 2017-18میں 10ٹریلین کی سپلیمنٹری گرانٹس جاری ہوئیں، پانچ جون کے بعدجو گرانٹس جاری ہوتی ہیں وہ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر ہوتی ہیں، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جوبجٹ مانگا جاتا ہے وہ خرچ نہیں کیا جاتا، سیکرٹری وزارت خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ آٹھ مہینے میں ایک بھی سپلیمنٹری گرانٹ جاری نہیں کی گئی۔رکن کمیٹی سردار ایاز صادق نے کہا کہ ہائی انٹرسٹ ریٹ کی وجہ سے کاروبارکم ہوئے ہیں،رکن کمیٹی خواجہ آصف نے کہا کہ 15فیصد انٹرسٹ ریٹ پر تو ہیروئن ہی بیچی جا سکتی ہے نارمل کاروبار نہیں کیاجا سکتا، کمیٹی نے ٹیکس وصولیوں کے ہدف اور شرح سود کے حوالے سے بریفنگ کے لئے چیئرمین ایف بی آر اور گورنر سٹیٹ بینک کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ مہنگائی ڈبل ہوگئی ہے،سیکرٹری خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ جنوری میں 14.4فیصد مہنگائی تھی، اجلاس میں پاکستان انجینئرنگ کونسل کی جانب سے آڈیٹر جنرل سے آڈٹ نہ کرانے کا معاملہ بھی زیر غور آیا ۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل کہتی ہے ہمارا آڈٹ بنتا نہیں، ان کا آڈٹ کیوں نہ کیا جائے؟۔

رکن کمیٹی نور عالم خان نے کہا کہ آڈٹ ہر ادارے کا ہونا چاہیئے،اوگرا اور اسلام آباد کلب بھی آڈٹ نہیں کرانا چاہتے تھے،اسلام آباد کلب کے رولز نہیں بنے تھے وہ بنوائے،پاکستان انجینئرنگ کونسل کے نمائندے نے کمیٹی کو بتایا کہ انجینئرنگ کونسل پارلیمنٹ نے بنائی ہے حکومت نے نہیں بنائی،آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ہماری گرانٹس کا آڈٹ ہوتا ہے اورگرانٹس پی اے سی میں پیش ہوتی ہیں، کارپوریٹ سیکٹر کے کچھ اداروں نے آڈٹ کرانے سے انکار کیا لیکن آئین آڈیٹر جنرل کو مینڈیٹ دیتا ہے کہ وہ آڈٹ کرے گا،سو کےقریب ادارے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سے بھی آڈٹ کراتے ہیں اور آڈیٹر جنرل سے بھی آڈٹ کرارہے ہیں ۔وزارت قانون کے نمائندے نے کہا کہ یہ ادارہ پارلیمنٹ کے ایکٹ کے تحت بنا ہے، ان کا آڈٹ مینڈیٹری نہیں ہے،آڈٹ حکام نے کہا کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل کا آڈٹ نہ کرنے سے جو ادارے آڈٹ کروا رہے ہیں وہ بھی کہیں گے کہ ہم آڈٹ نہیں کرائیں گے،نیشنل بینک نے اسٹے آرڈر لیا ہوا ہے چار سال سے وہ آڈٹ نہیں کرا رہے، کمیٹی نے پاکستان انجینئرنگ کونسل کو ہدایت کی آپ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سے کرائے گئے آڈٹ کی رپورٹس آڈیٹر جنرل کو فراہم کریں گے،جس پر پاکستان انجینئرنگ کونسل نے رضامندی ظاہر کر دی۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد