سماجی شعبہ کے لئے حکومت کا بجٹ۔۔۔معروف کاروباری شخصیت حکومتی پالیسیوں پربرس پڑے

سماجی شعبہ کے لئے حکومت کا بجٹ۔۔۔معروف کاروباری شخصیت حکومتی پالیسیوں ...
سماجی شعبہ کے لئے حکومت کا بجٹ۔۔۔معروف کاروباری شخصیت حکومتی پالیسیوں پربرس پڑے

  



کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں جب کروڑوں افراد کے لئے دو وقت کی روٹی کمانا مشکل ہو گیا ہے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کی اہمیت میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔کاروباری شخصیات اور ادارے بے رحم مہنگائی کے اس دور میں محروم طبقات کی مشکلات کم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ سماجی ترقی کا عمل رکنے نہ پائے۔کارپوریٹ سماجی ذمہ داری میں صحت، تعلیم، ماحولیاتی بہتری، امدادی سرگرمیاں، صاف پانی،کھیل، تہذیبی سرگرمیاں اور بچوں کی فلاح و بہبود وغیرہ شامل ہیں مگر اس وقت سب سے بڑا مسئلہ بھوک کا ہے جسے اولیت دی جائے۔

میاں زاہد حسین نے کارپوریٹ اداروں کی سماجی ذمہ داری کے موضوع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری ادارے ان مشکل حالات میں کم آمدنی والے ملازمین اور غریب عوام کی فلاح کے لئے اقدامات بڑھائیں اور نوجوانوں کو فنی تربیت دے کر ان کے روزگار کے مواقع میں اضافہ کریں۔انھوں نے کہا کہ مغرب نے حال ہی میں کارپوریٹ اداروں کی سماجی ذمہ داری کی اہمیت کا ادارک کرتے ہوئے اس ضمن میں پیش رفت شروع کی ہے جس میں بہت سی کمزوریاں ہیں جو وقت کے ساتھ ہی دور ہوں گی جبکہ اسلام نے پندرہ سو سال قبل کاروباری اداروں کی سماجی ذمہ داری کا بہترین تصور پیش کیا۔اسلام نے انفرادی اور اجتماعی اقتصادی زندگی کیلئے مخصوص قوانین روشناس کروائے اور پندرہ سو سال قبل صدقہ، خیرات، زکوٰ ۃ، فطرہ اور قربانی کا گوشت بانٹنے کی ہدایت کی جو سماجی ذمہ داری کی روشن مثال ہے۔ قرآن میں تین سو سے زیادہ بار زکوٰ ۃکی تاکید کی گئی ہے جس پر اگر عمل کیا جائے تودولت کی صحیح تقسیم سے عوام کی زندگی میں انقلابی تبدیلی آ سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اسلام محض منافع کیلئے کاروبار کو پسند نہیں کرتاجبکہ مغرب کے سماجی ذمہ داری کا شوشا اپنے منافع، امیج بہتر بنانے اور سوسائٹی کی ہمدردی سمیٹنے کے لئے اپنایا۔پاکستا ن کی کاروباری برادری اچھے انداز میں اپنی سماجی ذمہ داری نبھا رہی ہے مگر انکی سمت مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرہ پر پڑنے والے مثبت اثرات میں اضافہ ہو۔ سماجی خدمات کے شعبوں میں حکومت کے سمٹتے ہوئے کردارکے سبب نجی شعبہ کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں اور انھیں اس سمت میں مزید کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ ٹارگٹ کے بغیر کارپوریٹ اداروں کی سماجی ذمہ داری کی کوششوں کے مثبت اثرات پائیدار نہیں ہوتے۔ کاروباری شخصیات اوردیگر ادارے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنے فرائض نبھائیں تاکہ کامیابی انکے قدم چومے۔

مزید : بزنس