چین نے معروف امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے 3 صحافیوں کو بڑی سزا سنادی

چین نے معروف امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے 3 صحافیوں کو بڑی سزا سنادی
چین نے معروف امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے 3 صحافیوں کو بڑی سزا سنادی

  



بیجنگ(ڈیلی پاکستان آن لائن)چین کی حکومت نے غیرذمہ دارانہ صحافت اور نسل پرستی کوفروغ  دینے والی سرخی لگانے پر بیجنگ میں مقیم معروف امریکی اخبار ’ وال سٹریٹ جرنل‘ کے3 صحافیوں کے پریس کارڈ منسوخ کرتے ہوئے انہیں ملک چھوڑنےکا حکم جاری کر دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ بات چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے بتائی۔آن لائن پریس بریفنگ میں گینگ نے کہا کہ چینی عوام نسلی امتیاز پر مبنی زبان استعمال کرنے اور چین پر بدنیتی سے بہتان لگانے اورحملہ کرنے والے میڈیا کو خوش آمدید نہیں کہتے۔وال سٹریٹ جرنل نے3فروری کو بارڈ کالج کے پروفیسر والٹر روسل میڈ کا ایک مضمون’’چین، ایشیا کاحقیقی بیمار شخص ہے‘‘ کے عنوان سے شائع کیاتھا،گینگ کے مطابق اس مضمون سے اس وبا کے خلاف جنگ میں چینی حکومت اور عوام کی کوششوں کو داغدار کیاگیا۔ترجمان نے کہا کہ ایڈیٹرز نے اس طرح کے نسلی امتیازی عنوان کا استعمال کیا جس پرچینی عوام اور بین الاقوامی برادری نے غم وغصے اور مذمت کا اظہار کیا۔گینگ کے مطابق چین نے وال سٹریٹ جرنل کو سخت شکایت پیش کرتے ہوئے اپنا موقف واضح کیا ہے۔چین نے مطالبہ کیا کہ وال سٹریٹ جرنل اپنی غلطی کی شدت کا اعتراف کرے،باقاعدہ معافی مانگے اور اس میں ملوث افراد کو ذمہ دار ٹھہرائے۔گینگ نے مزید کہا کہ اس کے دوران ہم مزید کاروائی کا حق بھی محفوظ رکھتے ہیں تاہم، افسوس کے ساتھ کہ وال سٹریٹ جرنل نے اب تک جو کچھ کیا وہ اپنی ذمہ داری کو تسلیم کرنے اور حیلہ بہانے کے سوا کچھ نہیں تھا،گینگ نے کہا کہ اس نے باقاعدہ معافی نامہ جاری کیا نہ ہی چین کو یہ بتایا کہ وہ اس میں ملوث افراد کے خلاف کیا اقدام اٹھائے گا۔گینگ نے کہا کہ چین غیر ملکی صحافیوں سے متعلق امور کو قوانین اور قواعد و ضوابط کے مطابق نمٹاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق چین قانون کے مطابق صحافیوں کی نیوز کوریج اور رپورٹنگ کی سرگرمیوں کی حمایت اور مدد جاری رکھے گا۔

مزید : بین الاقوامی