اقوام متحدہ نےہندوستان کے موقف کو مسترد کردیا،اب ہمیں یہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔۔سابق وزیراعظم آزاد کشمیرسردار عتیق احمد نے حکومت کو بڑا مشورہ دے دیا

اقوام متحدہ نےہندوستان کے موقف کو مسترد کردیا،اب ہمیں یہ کام کرنے کی ضرورت ...
اقوام متحدہ نےہندوستان کے موقف کو مسترد کردیا،اب ہمیں یہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔۔سابق وزیراعظم آزاد کشمیرسردار عتیق احمد نے حکومت کو بڑا مشورہ دے دیا

  



راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن) آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے قائد وسابق وزیراعظم سردار عتیق احمدخان نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل کرنے کی بات کر کے ہندوستان کے اٹوٹ انگ کے موقف کو مسترد کردیا ہے،اب مسئلے کے حل کے لیے جامع میکنزم تیار کر نے کی ضرورت ہے۔

مجاہد منزل میں آزادکشمیر بھر سے آئے مسلم کانفرنس کے عہدیداران اورکارکنان سےخطاب کرتےہوئے سردار عتیق احمدخان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کو شدید خطرہ ہے،ہندوستانی فوج نے80لاکھ آبادی کو محاصرے میں رکھاہےاورمواصلاتی ذرائع کاٹ کردنیاکوکشمیر سےبےخبررکھنےکی کوشش کی جارہی ہے، برطانوی رکن پارلیمنٹ کومقبوضہ کشمیرمیں داخلے کی اجازت نہ دے کر بھارت وہاں کچھ چھپانے کی پالیسی پر ہے،اس صورتحال میں دنیا کو مسئلہ کشمیر کو ترجیحی بنیادوں پر حل کر نا چاہیے، یہاں دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں کشیدگی پوری طرح عروج پر ہے، ان حالات میں اقوام متحدہ امریکہ،چین سمیت تمام بااثر طاقتوں کو عملی اقدامات کی طرف بڑھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کے عوام پوری قوت سے تحریک آزادی کے ساتھ وابستہ ہیں دنیا کی کوئی طاقت آزادکشمیر کے لوگوں کو مقبوضہ علاقے کے بھائیوں کی مدد سے روک نہیں سکتی، اگر مسئلہ کشمیر اس طرح حل طلب رہا اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو آزادکشمیر کے عوام زیادہ دیر تک خاموش نہیں رہیں گے،ہندوستان کنٹرول لائن پر فائرنگ کر کے آزادکشمیر کے عوام کو خوف زدہ نہیں کرسکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ نریندر مودی کا جنگی جنون اور انتہا پسندانہ اقدامات کی تباہی کا عنوان بنیں گے،مقبوضہ کشمیر گزشتہ ساڑھے 6ماہ سے مسلسل لاک ڈاؤن پوری دنیا کے زندہ ضمیر انسانوں کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انسانی حقوق کی تنظیموں کے ہمراہ مقبوضہ کشمیر کا دورہ کریں۔اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ہندوستان پر دباؤ ڈالیں اور ہندوستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مظلوم کشمیریوں کے ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور دوران کرفیو غیرانسانی رویے سمیت ایل او سی پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو فی الفور رکوائیں۔

مزید : علاقائی /پنجاب /راولپنڈی