ہدیہ اور تحفے کے ذریعہ……  آپس میں محبت و الفت پیدا کیجئے

ہدیہ اور تحفے کے ذریعہ……  آپس میں محبت و الفت پیدا کیجئے

  

مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی 

”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں ہدیئے تحفے دیا کرو، ہدیہ سینوں کی کدورت و رنجش کو دور کر دیتا ہے اور ایک پڑوسن دوسری پڑوسن کے ہدیہ کے لئے بکری کے کھر کے ایک ٹکڑے کو بھی حقیر اور کمتر نہ سمجھے“(ترمذی)

زندگی میں لین دین کی ایک شکل یہ بھی ہے  کہ اپنی کوئی چیز ہدیہ اور تحفہ کے طور پر کسی کو پیش کر دی جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات میں اس کی بڑی ترغیب دی ہے‘ اس کی یہ حکمت بھی بتلائی ہے کہ اس سے دلوں میں محبت و الفت اور تعلقات میں خوشگواری پیدا ہوتی ہے۔ جو اس دنیا میں بڑی نعمت اور بہت سی آفتوں سے حفاظت اور عافیت و سکون حاصل ہونے کا وسیلہ ہے۔

ہدیہ وہ عطیہ ہے جو دوسرے کا دل خوش کرنے اور اس کے ساتھ اپنا تعلق خاطر ظاہر کرنے کے لئے دیا جائے اور اس کے ذریعے رضائے الٰہی مطلوب ہو۔ یہ عطیہ اور تحفہ اگر اپنے کسی چھوٹے کو دیا جائے تو اس کے ساتھ اپنی شفقت کا اظہار ہے، اگر کسی دوست کو دیا جائے تو یہ محبت زیادہ کرنے کا ذریعہ ہے۔ اگر کسی ایسے شخص کو دیا جائے جس کی حالت کمزور ہے تو یہ اس کی خدمت کے ذریعہ اس کی دلجوئی کا ذریعہ ہے۔ اور اگر اپنے کسی بزرگ اور محترم کو پیش کیا جائے تو اُن کا اکرام ہے۔ اگر کسی کو ضرورت مند سمجھ کر اللہ کے واسطے اور ثواب کی نیت سے دیا جائے تو یہ ہدیہ نہ ہو گا صدقہ ہو گا، ہدیہ جب ہی ہو گا جب کہ اس کے ذریعہ اپنی محبت اور تعلق خاطر کا اظہار مقصود ہو اور اس کے ذریعہ رضائے الٰہی مطلوب ہو۔ ہدیہ اگر اخلاص کے ساتھ دیا جائے تو اس کا ثواب صدقہ سے کم نہیں بلکہ بعض اوقات زیادہ ہو گا۔ ہدیہ اور صدقہ کے اس فرق کے نتیجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ شکریہ اور دعا کے ساتھ قبول فرماتے اور اس کو خود بھی استعمال فرماتے تھے اور صدقہ کو بھی اگرچہ شکریہ کے ساتھ قبول فرماتے اور اس پر دعائیں بھی دیتے لیکن خود استعمال نہیں فرماتے تھے، دوسروں ہی کو مرحمت فرما دیتے تھے۔

افسوس ہے کہ امت میں باہم مخلصانہ ہدیوں کی لین دین کا رواج بہت ہی کم ہو گیا ہے۔ بعض خاص حلقوں میں بس اپنے بزرگوں، عالموں، مرشدوں کو ہدیہ پیش کرنے کا تو کچھ رواج ہے لیکن اپنے عزیزوں، قریبوں، پڑوسیوں وغیرہ کے ہاں ہدیہ بھیجنے کا رواج بہت ہی کم ہے حالانکہ قلوب میں محبت و الفت اور تعلقات میں خوشگواری اور زندگی میں چین و سکون پیدا کرنے اور اسی کے ساتھ رضائے الٰہی حاصل کرنے کے لئے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بتلایا ہوا نسخہ کیمیاء ہے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آپس میں ہدیے تحفے بھیجا کرو، ہدیئے تحفے دلوں کے کینے کو ختم کر دیتے ہیں۔“ (جامع ترمذی) ہدیئے تحفے دینے سے باہمی رنجشوں اور کدورتوں کا دور ہونا، دلوں میں جوڑاور تعلقات میں خوشگواری پیدا ہونا بدیہی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سنہری ہدایت پر عمل کرنے کی توفیق عطا ء فرمائیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں جو یہ اضافہ ہے کہ ایک پڑوسن دوسری پڑوسن کے لئے بکری کے کھر کے ٹکڑے کے ہدیہ کو حقیر نہ سمجھے اس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد بظاہر یہ ہے کہ ہدیہ دینے کے لئے ضروری نہیں کہ بہت عمدہ ہی چیز ہو اگر اس کی پابندی اور اس کا اہتمام کیا جائے گا تو ہدیہ دینے کی نوبت بہت کم آئے گی۔ اس لئے بالفرض اگر گھر میں بکری کے پائے پکے ہیں تو پڑوسن کو بھیجنے کے لئے اس کے ایک ٹکڑے کو بھی حقیر نہ سمجھا جائے وہی بھیج دیا جائے۔

واضح رہے کہ یہ ہدایت اس حالت میں ہے جب اطمینان ہو کہ پڑوسن خوشی کے ساتھ قبول کرے گی اور اس کو اپنی توہین وتذلیل نہ سمجھے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ماحول ایسا ہی تھا۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول و دستور تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ تحفہ قبول فرماتے تھے، اور اس کے جواب میں خود بھی عطاء فرماتے تھے۔  (صحیح بخاری)

مطلب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی محب و مخلص ہدیہ پیش کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوشی سے قبول فرماتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ہل جزاء الاحسان الا الا حسان کے مطابق اس ہدیہ دینے والے کو خود بھی ہدیے اور تحفے سے نوازتے تھے۔ (خواہ اسی وقت عنایت فرماتے یا دوسرے وقت)۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو بھی اسی طرز عمل کی ہدایت فرمائی ہے اور بلاشبہ مکارم اخلاق کا تقاضا یہی ہے، لیکن افسوس ہے کہ امت میں بلکہ خواص امت میں بھی اس کریمانہ سنت کا اہتمام بہت کم نظر آتا ہے۔

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کو ہدیہ تحفہ دیا جائے تو اگر اس کے پاس ہدیہ میں دینے کے لئے کچھ موجود ہو تو اس کو دے دے اور جس کے پاس بدلہ میں دینے کے لئے کچھ نہ ہو تو وہ (بطور شکریہ کے) اس کی تعریف کرے اور اس کے حق میں کلمہ خیر کہے، جس نے ایسا کیا اس نے شکریہ ادا کر دیا‘ جس نے ایسا نہیں کیا اور احسان کے معاملہ کو چھپایا تو اس نے ناشکری کی۔ اور جو کوئی اپنے کو آراستہ دکھائے اس صفت سے جو اس کو عطاء نہیں ہوئی تو وہ اس آدمی کی طرح ہے جو دھوکے فریب کے دو کپڑے پہنے۔ (ترمذی، ابی داؤد)

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی ہے کہ جس کو کسی محبت کرنے والے کی طرف سے ہدیہ تحفہ دیا جائے تو اگر ہدیہ پانے والا اس حال میں ہو کہ اس کے جواب اور صلہ میں ہدیہ تحفہ دے سکے تو ایسا ہی کرے اور اگر اس کی مقدرت نہ ہو تو اس کے حق میں کلمہئ خیر کہے اور اس کے اس احسان کا دوسرے کے سامنے بھی تذکرہ کرے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کو بھی شکر سمجھا جائے گا۔

اور آگے درج ہونے والی ایک حدیث سے معلوم ہو گا کہ جزاک اللہ کہنے سے بھی یہ حق ادا ہو جاتا ہے۔ او رجو شخص ہدیہ تحفہ پانے کے بعد اس کا اخفاء کرے، زبان سے ذکر تک نہ کرے، جزاک اللہ جیسا کلمہ بھی نہ کہے تو وہ کفران نعمت اور ناشکری کا مرتکب ہو گا۔ حدیث کے آخری جملے ومن تحلی……الخ کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ جو شخص اپنی زبان یا طرز عمل یا خاص قسم کے لباس وغیرہ کے ذریعے اپنے اندروہ کمال (مثلاً عالمیت یا مشیخیت) ظاہر کرے جو اس میں نہیں ہے تو وہ اس دھوکہ باز اور فریبی بہروپیئے کی طرح ہے جو لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے باعزت اور باوقار لوگوں کا سا لباس پہنے۔ بعض شارحین حدیث نے لکھا ہے کہ عرب میں کوئی شخص تھا جو نہایت گھٹیا اور ذلیل درجہ کا آدمی تھا، لیکن وہ باعزت اور باوقار لوگوں کے سے نفیس اور شاندار کپڑے پہنتا تھا تاکہ اس کو معززین میں سمجھا جائے اور اس کی گواہی پرا عتبار کیا جائے، حالانکہ وہ جھوٹی گواہیاں دیتا تھا اسی کو لابس ثوب زور کہا گیا ہے۔

ہدیہ تحفہ سے متعلق مذکورہ بالا ہدایات کے ساتھ اس آخری جملہ کے فرمانے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد غالباً یہ ہے کہ کوئی شخص جس میں وہ کمالات اور اوصاف نہ ہوں جن کی وجہ سے لوگ ہدیہ وغیرہ پیش کرنا سعادت سمجھتے ہیں، ایسا شخص اگر لوگوں کے ہدیے تحفے حاصل کرنے کے لئے اپنی باتوں اور اپنے لباس اور اپنے طرز زندگی سے وہ کمالات اوراوصاف اپنے لئے ظاہر کر دے تو یہ فریب اور بہروپیا پن ہو گا اور یہ آدمی اس روایتی لابس ثوب زور کی طرح مکار اور دھوکے باز ہو گا۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے احسان کرنے والے بندہ کا شکریہ ادا نہیں کیا اس نے اللہ تعالیٰ کا بھی شکریہ ادا نہیں کیا۔ حدیث کا مطلب  یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ جس بندے کے ہاتھ سے کوئی ہدیہ تحفہ کوئی نعمت ملے یا وہ کسی طرح کا بھی احسان کرے تو اس کا شکریہ ادا کیا جائے اور اس کے لئے کلمہ ئ خیر کہا جائے تو جس نے ایسا نہیں کیا اس نے اللہ تعالیٰ کی بھی ناشکری اور نافرمانی کی۔

اللہ رب العزت ہم سب کو آپس میں قلبی الفت و محبت عطا فرمائے۔ 

(آمین یا رب العلمین)

مزید :

ایڈیشن 1 -