چارسدہ،اقلیتوں کے مسائل کے حل کیلئے 9 رکنی کمیٹی قائم

چارسدہ،اقلیتوں کے مسائل کے حل کیلئے 9 رکنی کمیٹی قائم

  

چارسدہ(بیورورپورٹ) ڈپٹی کمشنر کی جانب سے ضلع بھر میں اقلیتوں کے مسائل کے  بروقت حل کے لئے نو رکنی کمیٹی قائم کی ہے جس کا مقصد اقلیتی برادری کو پیش آنیو الے تمام مسائل کو فوری حل کرنا مقصو د ہے۔ اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ڈپٹی کمشنر عدیل شاہ نے چارسد ہ میں مقیم تمام اقلیتی برادری کے مسائل کے نشاندہی اور ان کے فوری حل کے لئے نورکنی کمیٹی قائم کی ہے جس کے  چیئر مین ڈپٹی کمشنر خود ہونگے۔ کمیٹی کے دیگر ممبران میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر، اسسٹنٹ کمشنر چارسدہ،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر،ڈسٹرکٹ خطیب چارسدہ،اقلیتی برادری سے پرسٹ سٹیفن،پریم سموئل،شاہد مسیح اور شکیل مسیح شامل ہیں۔ چارسدہ میں اقلیتی برادری میں صر ف عیسائی کمیونٹی کے ایک سو سے لیکر ڈیڑھ سو تک خاندان تحصیل تنگی،شبقدر اور تحصیل چارسدہ میں رہائش پذیر ہیں۔اس حوالے سے ایک چرچ کے پادر پریم سموئل نے ڈپٹی کمشنر کی طرف سے قائم کی گئی کمیٹی کو اپنے کمیونٹی کے مسائل کے حل کے لئے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ا ن کے کمیونٹی کو درپیش اہم مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ مختلف سرکاری ادارے میں اقلیتوں کے لئے ملازمت میں متعین کوٹہ کا ہے جس پر کئی عرصہ سے عمل درآمد نہیں ہو رہا،عیسائی کمیونٹی چارسدہ کے تینوں تحصیلوں میں موجود ہیں لیکن چارسدہ کے علاوہ تحصیل تنگی اور تحصیل شبقدر میں عیسائی برادری کے تدفین کے لئے قبرستان موجود نہیں جس کے باعث ان تحصیلوں میں موجود عیسائی کمیونٹی کو مردوں کے تدفین میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔دوسری جانب چارسدہ میں عیسائی برادری کے تین چرچ موجود ہیں لیکن یہ چرچ تاحال گورنمنٹ کے پاس رجسٹرڈ نہیں جس کے باعث ان چرچ سے وابستہ عیسائی برادری کو اپنے پہچان سمیت حکومت کی جانب سے ان چرچس کو فنڈ کے فراہمی کے دوران بھی کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ تا ہیں۔ دوسری جانب چارسدہ شوگر ملز کے مقام پر موجود چرچ میں ہونے والے  مرمتی کام  میں سست روی جیسے مسائل ہیں جس کے باعث عیسائی برادری کو اپنے مذہبی رسومات ادا کرنے میں مشکل کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔پادری کے مطابق انہیں امید ہے کہ کمیٹی کے قیام سے ان کو درپیش مسائل کی بروقت نشاندہی سمیت ان کی حل میں مدد ملی گی۔یاد رہے کہ یہ چارسدہ میں اقلیتی برادری کے مسائل کے حل کے لئے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے تاریخ میں پہلی بار کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں مختلف سرکاری اداروں کے سربراہان کو بھی شامل کیا گیا ہے جو کسی بھی سرکاری ادارے سمیت دیگر جگہوں پر اقلیتوں کو پیش آنیو الے مسائل کو حل کرینگے۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -