ہائیکورٹ حملہ کیس، گرفتار 2وکلا ء کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع 

 ہائیکورٹ حملہ کیس، گرفتار 2وکلا ء کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع 

  

اسلام آباد(آن لائن)انسداد دہشتگردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس حسن کی عدالت نے ہائیکورٹ حملہ کیس میں گرفتاردو وکلاء کے جوڈیشل میں توسیع کرتے ہوئے گرفتار3وکلاء کی درخواست ضمانت بعد ازگرفتاری پر وکیل کی عدم موجودگی کے باعث سماعت ملتوی کردی۔گذشتہ روز سماعت کے دوران پولیس  نے گرفتار وکلا نوید ملک اور نازیہ عباسی کو جیل سے عدالت لاکرپیش کیا،اس موقع پر ملزمہ نازیہ عباسی نے کہاکہ اگر میں واقعے میں ملوث ہوں تو ثبوت دیئے جائیں،ہائیکورٹ کے پورے مسلئے میں کسی چیز کو ٹچ نہیں کیا،ذاتی لڑائی کیوجہ میں ہمیں گھسیٹا جا رہا ہے، اس موقع پرنویدملک ایڈووکیٹ نے پولیس کی طرف سے تعاون نہ کرنے کا شکوہ کرتے ہوئے کہاکہ 25سال سے پریکٹس کر رہا ہوں کبھی ایسا واقع پیش نہیں آیا،میں ایسے کسی واقعے میں ملوث نہیں رہا،ہمیں ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے ہم دہشتگرد ہیں، عام حوالات میں بند کر دیا گیا ہے،اس موقع پر عدالت نے وکلاء کو الگ گاڑی میں لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ پولیس افسر آئندہ کبھی ایسا نہ کریں،عدالت نے وکلا کو عام قیدیوں کیساتھ نہ لانے کی ہدایت کر دی، گرفتار وکلاء نے کہاکہ متعلقہ تفتیشی افسران ہمارے ساتھ کوئی تعاون نہیں کر رہے، جس پر عدالت نے متلعقہ تفتیشی افسر کو فوری طلب کر لیااور سماعت میں وقفہ کردیا، جس کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہونے پر تفتیشی افسر عدالت پیش ہوگیا اور عدالت نے مذکورہ بالا ہدایات کیساتھ دونوں وکلاء کے جوڈیشل میں یکم مارچ تک کی توسیع کردی۔

ہائیکورٹ حملہ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -