سینیٹ الیکشن میں ”دوستوں“ کا کردار

سینیٹ الیکشن میں ”دوستوں“ کا کردار

  

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ سینیٹ الیکشن میں پیسہ نہ چلے، میرٹ پر ٹکٹ دیئے ہیں،کامیاب ہم ہی ہوں گے۔ اوپن بیلٹ کی مخالفت کرنے والے الیکشن کے بعد روئیں گے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سینیٹ الیکشن کی خود نگرانی کریں گے۔ انہوں نے وزراء کو ٹاسک دیا کہ عبدالحفیظ شیخ کی کامیابی یقینی بنانے کے لئے پارٹی کے ارکان اسمبلی کے علاوہ ذاتی تعلق رکھنے والے ارکان سے بھی رابطہ کیا جائے۔ وزیراطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہماری پارٹی کا بنیادی مقصد سینیٹ انتخابات کو شفاف بنانا ہے۔ پاکستانی قوم کو پتہ چل گیا ہے کہ دیانت دار لوگوں کو لانے کے حق میں کون ہے اور ووٹوں کی خرید و فروخت والے نظام کے حامی کون ہیں۔ پارٹی قیادت نے فیصل واوڈا کو ٹکٹ دیا ہے اپوزیشن کا متضاد اور منافقانہ رویہ سامنے آ چکا ہے۔ کابینہ کے اجلاس میں وزراء نے کہا عبدالحفیظ شیخ کے مقابلے میں ایسا امیدوار آیا جو سزا یافتہ ہے۔

قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشن کو پیشِ نگاہ رکھا جائے تو درست اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس جماعت کو کتنے ووٹ ملیں گے اور سینیٹ کے اگلے ایوان میں کون سی جماعت کس مقام پر کھڑی ہوگی۔ اس میں شبہ نہیں کہ مجموعی طور پر تحریک انصاف ہی پہلے نمبر پر ہوگی۔ دوسری پوزیشن پیپلزپارٹی اور تیسری مسلم لیگ (ن) کے حصے میں آئے گی اس کے بعد درجہ بدرجہ دوسری جماعتوں کی حیثیت بھی متعین ہو جائے گی تاہم یہ تو الیکشن کے بعد ہی واضح ہوگا کہ کس جماعت کے کتنے ارکان کامیاب ہوتے ہیں اور کیا کوئی اپ سیٹ بھی ہوتا ہے؟ اگر ارکان کی تعداد کے مطابق ہی نتیجہ نکلنا ہوتا تو اس کے لئے انتخاب کی سرے سے ضرورت ہی نہ تھی، ایسی صورت میں نہ یہ سوال پیدا ہوتا کہ ووٹنگ خفیہ ہونی چاہیے یا برسرعام، یا ووٹ کی شناخت ہونی چاہیے یا نہیں، ایسی صورت میں تو سیدھے سبھاؤ وہی طریقہ اختیار کیا جا سکتا تھا جو ہر اسمبلی میں خواتین اور اقلیتوں کی نمائندگی کے لئے اختیار کیا جاتا ہے اور پارٹی پوزیشن کے مطابق ہر پارٹی کو خواتین اور اقلیتوں کی نشستیں مل جاتی ہیں۔ نہ کہیں خرید و فروخت کا سوال اٹھتا ہے، نہ ضمیر کے مطابق ووٹ دینے کی بات ہوتی ہے۔نہ وزراء کو یہ ٹاسک سونپنا پڑتا ہے کہ وہ اپنے ارکانِ اسمبلی کے ساتھ ساتھ ”دوستوں“ سے بھی رابطے کریں۔

 وزیراعظم نے اگر اپنے وزراء سے ایسے رابطوں کے لئے کہا ہے تو اس کا مطلب واضح ہے کہ وہ دوسری جماعتوں کے ارکان سے بھی ووٹوں کے طلبگار ہیں۔ ہر الیکشن میں ایسا ہی ہوتا ہے امیدوار ہر دروازے پر دستک دیتا ہے ہر ووٹر سے رابطہ کرتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ فلاں ووٹر مخالف امیدوار کا حامی ہے وہ رابطہ ضروری سمجھتا ہے، اس لئے وزیراعظم کی ہدایت پر اگر وزراء دوسری جماعتوں کے ارکان سے ووٹ مانگنے کے لئے رابطے کریں گے تو کسی کو معترض ہونے کی ضرورت نہیں اور نہ مخالفین سے ووٹ مانگنے کا یہ مطلب ہے کہ اسے کھلے عام یا درپردہ کسی قسم کی رشوت کی پیشکش کی جا رہی ہے۔ البتہ اس حق کا استعمال صرف حکمران جماعت تک محدود نہیں رہ سکتا ہر امیدوار چاہے اس کا کسی بھی جماعت سے تعلق ہو، ووٹ مانگنے کے لئے ہر ووٹر سے رابطہ کر سکتا ہے۔ کسی جانب سے اس پر اعتراض کی گنجائش نہیں خاص طور پر ایسی صورت میں جب وزیراعظم خود اپنے وزیروں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ دوستوں سے رابطے کرکے اپنے امیدواروں کے لئے ووٹ طلب کریں تو پھر وہ مخالفوں پر تویہ پابندی نہیں لگا سکتے کہ وہ بھی تحریک انصاف کے دوستوں سے مل کر کہیں کہ وہ انہیں ووٹ دیں۔

ایک دلچسپ صورتِ حال کوئٹہ میں پیدا ہوئی ہے جہاں تحریک انصاف نے عبدالقادر کو ووٹ دیا، جس پر پارٹی کے اندر ردعمل آیا، بلوچستان اسمبلی میں تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر یار محمد رند نے کہا کہ ان سے ٹکٹ کے سلسلے میں ہائی کمان نے کوئی مشاورت نہیں کی، وزیراعظم نے اس پر عبدالقادر سے ٹکٹ واپس لے لیا لیکن انہوں نے آزاد امیدوار کے طور پر کاغذات نامزدگی داخل کرا دیئے، اب انہیں بلوچستان عوامی پارٹی(باپ) نے ٹکٹ دے دیا ہے جو حکومت کی حلیف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عبدالقادر بلوچستان عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہو کر سینیٹ میں پہنچ سکتے ہیں۔ عین ممکن ہے کسی اور جگہ بھی ایسی صورت پیدا ہو۔ جنہیں ایک پارٹی کا ٹکٹ نہ ملے وہ دوسری پارٹی میں چلے جائیں کیونکہ پارٹیاں بدلنا تو ہمارے ہاں کوئی معیوب بات نہیں ہے۔2018ء کے عام انتخابات میں بعض امیدواروں نے ایسے وقت پر مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ واپس کئے تھے جب کاغذات نامزدگی داخل ہو چکے تھے اس لئے اب اگر کہیں کہیں ایسا ہو رہا ہے تو اسے مکافاتِ عمل بھی کہہ سکتے ہیں،لیکن اتنا ضرور ہے کہ  ریس لگانے والوں کے لئے میدان یکساں طور پر ہموار ہونا چاہیے، اگر ایک پارٹی کے لوگوں کے دوسری جماعتوں میں دوست ہو سکتے ہیں تو دوسری جماعتوں کی دوستیاں بھی ہو سکتی ہیں۔

یوسف رضا گیلانی کے ٹکٹ کا معاملہ بڑا دلچسپ ہے۔ ان کے خلاف یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ وہ ”سزا یافتہ“ ہیں، درست کہ ایسا ہی ہے لیکن مخالفوں کو شاید یاد نہیں رہا کہ یوسف رضا گیلانی 2018ء میں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑ چکے ہیں اگرچہ وہ جیت نہ سکے تھے تاہم ان کے کاغذات نامزدگی پر کسی نے سزا یافتہ ہونے کی بنیاد پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا تھا کیونکہ انہوں نے اپنی سزا کی مدت مکمل کرلی تھی اور سزا کی مدت مکمل ہوتے ہی نااہلی بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اب ایک دن فیصلہ محفوظ رکھنے کے بعد ان کے کاغذات منظور کر لئے گئے ہیں۔ قومی اسمبلی میں حکومت اور اتحادیوں کو اکثریت حاصل ہے اور اگر رابطوں کے نتیجے میں تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو دوسری جماعتوں سے بھی ووٹ مل جاتے ہیں تو ان کے ووٹ اور بھی بڑھ جائیں گے۔ یوسف رضا گیلانی کی نمبر گیم اگرچہ پوری نہیں ہے لیکن اگر ان کے ”دوست“ بھی بروئے کار آئے تو ان کی شکست بھی ”فاتحانہ“ ہو سکتی ہے جن لوگوں نے پہلے ہی مرحلے میں یوسف رضا گیلانی کو آؤٹ کرنے کی کوشش کی تھی وہ ناکام ہو چکے، خود گیلانی صاحب کو کہنا پڑا کہ اگر راجہ پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی ان کے ساتھ نہ ہوتے تو ان کے کاغذات مسترد ہو جاتے۔ الیکشن تو ہر صوبے میں ہوں گے لیکن پورے ملک کی نظریں اسی ایک مقابلے پر جمی ہوئی ہیں اور جب تک الیکشن والے دن نتیجہ نہیں نکل آتا دلوں کی دھڑکنیں مدّھم اور تیز ہوتی رہیں گی۔ اس وقت تک دل تھام کر بیٹھنا ہوگا۔

مزید :

رائے -اداریہ -