ہے کوئی لاہوریوں کی سننے والا

ہے کوئی لاہوریوں کی سننے والا
ہے کوئی لاہوریوں کی سننے والا

  

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں لوگ ماحولیاتی آلودگی کے باعث مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو کر اگلے جہان سدھار جاتے ہیں۔فضائی و ماحولیاتی آلودگی اکثر بڑے شہروں کے لئے سنگین مسئلہ اور بدنما حقیقت بن چکی ہے۔ کئی ممالک اس مسئلے کو بڑی سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے اس خاموش قاتل پر قابو پانے کے لئے جامع منصوبوں پر سختی سے عمل پیرا ہیں، مگر ہم ان ممالک میں شامل ہیں جہاں اس بڑے چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لئے سنجیدہ منصوبوں کے بجائے زبانی جمع خرچ پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ ہم ماحولیاتی آلودگی کو صحت اور ماحول کے لئے خطرہ مانتے ہوئے اس مسئلے کے تدارک کے بلند بانگ دعوے تو کرتے ہیں اور وہ سب کچھ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں جو پہلے سے موجود نہایت آلودہ ماحول کو مزید آلودہ کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شہروں میں بے تحاشا ٹریفک کا دباؤ ماحولیاتی آلودگی کی ایک بڑی وجہ ہے اور خیر سے اپنا شہر لاہور ائیرکوالٹی کے اعتبار سے خطرے کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا۔چند روز پہلے لاہور کا ائیرکوالٹی انڈکس 450 تھا۔

اس ماحولیاتی آلودگی کے خطرے کو بھانپتے ہوئے۔ وزیراعظم عمران خان نے جاپانی انداز شجرکاری میاواکی، جو10 گنا تیز افزائش کے ساتھ پودوں کو 30 گنا گھنا کرتا ہے،کی طرز پر شہروں میں شجرکاری کا افتتاح کیا۔ لاہور میں 50 مقامات منتخب کئے گئے ہیں، جبکہ پہلے تجربہ 2020ء  میں لبرٹی لاہور میں کیا گیا،جو بڑی خوش آئند بات ہے۔

ان لانگ ٹرم منصوبوں کی افادیت سے کوئی انکار نہیں۔ سوال یہ ہے آخر کب تک، ہم فیتے اور ربن کاٹنے کی فرسودہ روایت سے چھٹکارا پاکر حقیقی مسائل کی طرف توجہ دیں گے۔مگر ”پرہیز علاج سے بہتر ہے“کے مقولے کو ہم اپنے پلے کیوں نہیں باندھتے؟  ماحولیاتی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ ٹریفک ہے تو پھر ٹریفک کے اس جن کو قابو کرنے کاکیوں نہیں سوچتے؟ کچھ دن پہلے ہی ٹریفک کی بہتری کے حوالے سے سٹی ٹریفک پولیس آفیسر لاہور جناب حماد عابد کو چند مفید مشورے دئیے کہ ٹریفک وارڈنز سڑک پر ماسک لگائیں تاکہ سانس کی پیچیدہ بیماریوں سے بچ سکیں۔ آنکھوں کو الرجی، خاص طور پر نور کے پردے کی حفاظت کے لئے چشمے لگا کر رکھیں، کیونکہ ماہرین امراض چشم کے بقول بعض اوقات کوئی چھوٹا سا پتھر اڑ کر آنکھ پر اگر لگ جائے تو آنکھ کے پردۂ بصارت کے اکھڑنے کا چانس ہوسکتا ہے۔ ان طبی مشورں کے علاوہ سی ٹی او صاحب سے کہا کہ ہر سڑک کے یوٹرن کے عین سامنے لوگوں نے موٹر رکشے، چنگ چی، کاریں یا گدھا ریڑھی کھڑی کر رکھی ہوتی ہے۔

اگر کوئی قسمت کا مارا یوٹرن لیتا ہے تو ساری ٹریفک جام ہو جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ گالم گلوچ اور جھگڑے کی صورت میں نکلتا ہے۔اپنی بات کو ختم کرتے ہوئے کہا کہ جناب آپ کے دفتر کے آگے یونیورسٹی آف ویٹرنری سائنسز سے آؤٹ فال روڈ کے چوک تک کوئی وارڈن دکھائی نہیں دیتا، اگر موجود بھی ہو تو پورے شہر لاہور کی طرح ایک کونے میں کھڑے ہوکر یا تو گپیں ہانک رہے ہوتے ہیں یا پھر موبائل فون پر مصروف ہوں گے، صرف یہی نہیں،اگر کوئی شخص رنگ روڈ پر چڑھ کر بابو صابو موٹروے تک جانے کی کوشش کرے تو راستے میں سڑک پر موجود متعدد یوٹرن پر ٹریفک کے اژدھام کو دیکھ کر انسان کا پتہ پانی ہو جاتا ہے،کیونکہ کوئی دائیں سے بائیں اور کوئی بائیں سے دائیں آرہا ہوتا ہے۔ یہاں آئے روز ٹریفک حادثات پر رونے والا کوئی نہیں ہوتا۔ سی ٹی او صاحب سے ان خونی یوٹرنز پر ٹریفک وارڈنز تعینات کئے جانے کی مودبانہ درخواست کی، جو 2 ماہ گزر جانے کے باجود تاحال نہ لگائے جا سکے۔

اوپر سے نیچے تک ہر شخص ”سب اچھا“ کی رپورٹ دینے پر مصر ہے،جبکہ  ان افسران بالا کو دفتر سے فیلڈ میں نکل کر زمینی حقائق سے آشنا ہونے کا قطعی شوق نہیں۔ کبھی کبھار سرپرائز وزٹ کیا جاتا ہے تاکہ ہر وارڈن سڑک پر الرٹ رہے۔ اس سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں اور نہ ہی یہ اس بات سے دلچسپی رکھتے ہیں کہ شہر لاہور کا سروے ہی کر لیا جائے کہ کہاں ٹریفک کا زیادہ رش ہے، کہاں ناجائز تجاوزات کی بھرمار، سڑک پر کھڑی موٹر سائیکلوں، کاروں، جیپوں کی وجہ سے ٹریفک کی روانی میں خلل پڑ رہا ہے۔ کن جگہوں پر اوورہیڈ برج، انڈر پاس یا پارکنگ پلازے درکار ہیں؟ کہاں سڑکیں کھنڈرات بن چکی ہیں، کہاں سڑک میں 5 فٹ کے گڑھے پڑ چکے ہیں۔ کہاں سڑک پر آلودہ بدبودار پانی جمع ہو کر تعفن پھیلا رہا ہے، اس سے کسی کو کوئی غرض نہیں۔

لاہور میں اکثر جگہوں پر سیف سٹی کیمرے لگے ہونے کے باوجود ٹریفک جام ہونے کے نتیجے میں لوگ ذہنی مریض بنتے جا رہے ہیں۔ ڈرائیور حضرات کے بلڈ پریشر آسمان سے باتیں کررہے ہیں۔ سڑک پر رکنے والی گاڑیوں کے ملاوٹ شدہ تیل کا دھواں ماحول کو آلودگی کے کوہ ہمالیہ پر پہنچا رہا،مگر ذمہ داران اس سے بالکل لاپروا ہیں۔

اصل مدعا یہ ہے کہ ماحولیاتی آلودگی جیسے خاموش قاتل سے جان چھڑانے کے لئے کیا اقدامات کئے جا رہے ہیں، پنجاب حکومت کی میڈیا ٹیم سوشل میڈیا بالخصوص ٹویٹر کا بغور مطالعہ کرتی ہے۔ ان کا پرنٹ میڈیا میں عرق ریزی سے لکھے گئے کالموں اور اخبارات میں چھپنے والی خبروں سے کوئی سروکار نہیں، یہ خاصا تو جناب شہبازشریف اور جناب پرویز الٰہی کی ٹیم کا تھا، جو صبح سویرے وزیراعلیٰ کی میز پر اخبارات کے تراشے رکھ کر انہیں عوامی مسائل سے باخبر رکھتے تھے۔

وزیراعلیٰ پنجاب جناب عثمان بزدار کو یا تو پرنٹ میڈیا سے کوئی دلچسپی نہیں، وہ الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں پر فوری نوٹس لینے کی ڈگر پر چل رہے ہیں یا پھر شہر لاہور کو مسلم لیگ(ن)  کا گڑھ تصور کرتے ہوئے ووٹروں کو پی ٹی آئی کے ایم این ایز، ایم پی ایز منتخب نہ کرنے کی سزا دے رہے ہیں یا پھر جنرل الیکشن سے پہلے لاہور میں کام کروانے کی پرانی روایات کو تازہ دم کرنا چاہتے ہیں۔ عثمان بزدار خود بھی شہر لاہور کے مکین ہیں، جس کی آلودہ فضا بشمول ان کی فیملی سب کے لئے زہر قاتل ہے۔جہاں کوئی شخص خود رہتا ہو وہاں کا فضائی ماحول صحت کے لئے سازگار ہو اس کے لئے جناب عثمان بزدار بھلے سے شجرکاری مہم چلائیں، لیکن اس کے ثمرات تب ہی ملیں گے جب شہر لاہور کی ٹریفک کو حد میں رکھنے کے لئے سفارشی پولیس افسروں کے بجائے اہل اور قابل افسران لگائے جائیں گے جو دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کا شہر میں داخلہ ممنوع قرار دیتے ہوئے سب کو سکھی کرنے کا مشن مکمل کریں گے۔

لاہور شہر میں ٹریفک کی روانی بحال کرنے کے لئے شہر میں داخل ہونے والی  سڑکوں اور بالخصوص اندرون شہر سڑکوں کا پیچ ورک مکمل اس لئے بھی کروائیں کہ کم بجٹ میں کام ہو جائے گا۔ اگر سڑکیں مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئیں تو عوام کے غیظ و غضب کا سامنا تو کرنا ہی پڑے گا،خرچہ بھی پھر زیادہ ہو گا اور سب سے اہم شہر لاہور کے مسائل کی جڑ ناجائز تجاوزات کا خاتمہ کرنے میں کوئی دباؤ خاطر میں نہ لائیں۔ گلی، محلوں، سڑکوں پر کوڑا کرکٹ کے لگے انباروں سے سب کی جان بخشی کروائیں۔لاہور شہر کے مضافات میں چلنے والی فیکٹریوں اور اینٹوں کے بھٹوں سے خارج ہونے والے دھوئیں کا سدباب کریں۔ یہ تمام کام دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں دوسرے نمبر پر آنے والے لاہور میں رہنے والوں کی زندگی کی ضمانت ہیں۔اللہ سوہنا داتا کی نگری میں سب کو اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

مزید :

رائے -کالم -