پی ڈی ایم کو کوئی جلدی نہیں!

پی ڈی ایم کو کوئی جلدی نہیں!
پی ڈی ایم کو کوئی جلدی نہیں!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) لمبی اننگز کھیلنے کے چکر میں ہے، اسے حکومت گرانے کی اس قدر جلدی نہیں ہے جس قدر جلدی ان کے بہی خواہوں نے ان سے لگا رکھی ہے۔ گزشتہ روز سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے تفصیلی بات چیت ہوئی تو ان کی گفتگو کا لب لباب یہ تھا کہ پی ڈی ایم حکومت گرانے کے لئے نہیں بلکہ آئین میں مداخلت روکنے کا ہدف لے کر چل رہی ہے اور جب تک یہ ہدف پورا نہیں ہو جاتا تب تک ان کی تحریک جاری رہے گی۔ عباسی صاحب اس بات کو ماننے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے حکومت کی سرپرستی سے ہاتھ ہٹالیا ہے حالانکہ نو ن لیگ پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ بیان دے چکے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ  پیچھے ہٹ چکی ہے اور کچھ دیگر اخباری اطلاعات کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی پی ڈی ایم قیادت کو یقین دہانی کروائی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ آئندہ ماہ ہونے والے سینٹ انتخابات میں نیوٹرل رہے گی۔

اسی لئے نبیل گبول کہتے پائے جاتے ہیں کہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کچی گولیاں نہیں کھیلے ہوئے ہیں کہ اپنی ساکھ مٹی میں ملانے کے لئے ایک ایسی نشست پر کھڑے ہو جائیں جہاں ان کے جیتنے کے امکانات نہ ہوں۔ جناب زرداری سے منسوب اس موقف کی تائید یوں بھی ہوتی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان سینٹ انتخابات میں وزیر خزانہ حفیظ شیخ کو جتوانے کے لئے پوری طرح متحرک ہو چکے ہیں اور پوری کابینہ کو اپنے اپنے تعلقات استعمال کرتے ہوئے ان کی جیت کو یقینی بنانے پر زور دیتے نظر آتے ہیں کیونکہ اسلام آباد سے جناب گیلانی کی جیت کا دوسرے الفاظ میں مطلب یہ ہے  کہ جناب وزیر اعظم کو قومی اسمبلی میں اکثریت کی حمائت حاصل نہیں رہی ہے اور اس ایک تاثر کو ان کے خلاف عدم اعتماد کے مترادف قراردیا جا رہا ہے۔ 


خیر اس سارے منظر نامے کے باوجود حکومت اپنے پاؤں پر جم کر کھڑی ہے، سپریم کورٹ نیک نیتی کے ساتھ سینٹ میں ووٹوں کی خریداری کے عمل کو روک کر کرپٹ پریکٹس کو روکنا چاہتی ہے اور پی ڈی ایم اس کے باوجود کہ 26مارچ کو لانگ مارچ کا اعلان کرچکی ہے مگر قرائن اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ پی ڈی ایم کے اہداف کا حصول جھٹ پٹ ممکن نہ ہوگا کیونکہ ایک تو اپریل کے وسط سے ماہ رمضان کا آغاز ہو جائے گا اور اس کے فوراً بعد عید اور عید کے بعد اگلے مالی سال کے بجٹ کا وقت سر پر آن پہنچے گا۔ چنانچہ پی ڈی ایم چاہنے کے باوجود بھی بجٹ کے موقع پر ایسا کوئی ایڈونچر کرنے کو تیار نہ ہوگی کہ معاشی محاذ پر حکومت کی تمام تر ناکامی اس کے گلے پڑ جائے۔ اس لئے بظاہر ایسا ہی لگتاہے کہ پی ڈی ایم کی بیل آناً فاناً منڈھے نہیں چڑھ پائے گی، اس لئے ہمارے وہ دوست احباب جو کسی سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں یاکوئی نیا پراجیکٹ شروع کرنا چاہتے ہیں اور اس لئے اسے تاخیر کا شکار کئے ہوئے ہیں کہ سیاسی استحکام یقینی ہو جائے تو وہ پوری تسلی کے ساتھ اپنے نیک کام کا آغاز کر سکتے ہیں کیونکہ سال رواں کے آخر تک پی ڈی ایم کی جانب سے کوئی جاندار مُوو کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ہے۔ 


دلچسپ بات یہ ہے کہ 20ستمبر کو جب پی ڈی ایم کی بنیاد رکھی گئی تھی اس دن جناب نواز شریف کی تقریر نے عوام میں ہلچل پیدا کردی تھی اور اس کا اثر ان کی ’مجھے کیوں نکالا‘ کے بینر تلے چلائی جانے والی مہم سے بھی بڑھ کر تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ جناب شہباز شریف کی جیل یاتر ا اور مریم نواز کے عملی سیاست میں متحرک ہونے کے عمل نے بھی پی ڈی ایم میں ایک نئی جان پیدا کردی تھی اور ایک لمحے کو واقعی لگتا تھا کہ دسمبر سے پہلے پہلے آر یا پار ہو کر رہے گا۔ لیکن پھر چشم فلک نے دیکھا کہ جہاں پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم کے حوالے سے گرگٹ کی طرح رنگ بدلا وہاں نون لیگ کا لاہور کا جلسہ بھی وہ رنگ نہ جما سکا جس کی توقع کی جا رہی تھی اور اب 31دسمبر کے بعد 31جنوری بھی گرزگئی اور دور دور تک پی ڈی ایم کے غبارے میں ہوا بھرے جانے کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔ اس ساری دھماچوکڑی کا صرف ایک فائدہ ہوا ہے کہ بلاول بھٹو کی طرح نون لیگ میں بھی قیادت مریم نواز کے ہاتھ میں آگئی ہے اور نون لیگ کے اندر وہ حلقے جو شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے دلدادہ تھے، ہاتھ ملتے ہوئے مریم نواز کی مقبول ہوئی قیادت کو دیکھ رہے ہیں۔ 


ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جب راقم نے شاہد خاقان عباسی سے پوچھا کہ اگر سینٹ انتخابات کے بعد حکومت نے بلدیاتی انتخابات کا اعلان کردیا تو پی ڈی ایم کیا کرے گی تو انہوں نے انتہائی بھولپن سے جواب دیا کہ پی ڈی ایم بلدیاتی انتخابات لڑے گی اور اس کے ساتھ انہوں نے دلیل یہ باندھی کہ بلدیاتی انتخابات میں تو پی ڈی ایم کو زیادہ بہتر طریقے سے یہ ثابت کرنے کا موقع مل جائے گا کہ سیاسی معاملات میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت نہیں ہو نی چاہئے۔ جناب عباسی کے مطابق پی ڈی ایم کا لانگ ٹرم ہدف آئین میں مداخلت کو روکنا ہے اور اس دوران جو جو انتخابی مراحل آئیں گے، وہ ان کو پار کرتی جائے گی۔ چنانچہ پیارے پاکستانیو، آپ سب سے درخواست ہے کہ پی ڈی ایم کی جانب سے اپنے ہدف کے حصول میں مداخلت مت کریں اور بس دور سے بیٹھ کر حالات کا نظارہ کریں کیونکہ پی ڈی ایم کو کوئی جلدی نہیں ہے!

مزید :

رائے -کالم -