انڈیا کی ”یُدھ ابھیاس“ گراؤنڈ ایکسرسائز

انڈیا کی ”یُدھ ابھیاس“ گراؤنڈ ایکسرسائز
انڈیا کی ”یُدھ ابھیاس“ گراؤنڈ ایکسرسائز

  

پاکستان کی بحری مشق ”امن 2021ء“ جو اب ختم ہو چکی ہے اور جس میں 45چھوٹے بڑے ملکوں کی بحریاؤں نے حصہ لیا تھا اس کی میڈیا کوریج ہم دیکھ، سُن اور پڑھ چکے ہیں۔ اس کے دو مقاصد بیان کئے گئے تھےّ ایک تو سمندری قزاقی کو روکنا تھا جسے اب سمندری دہشت گردی کا نام بھی دیا جانے لگا ہے اور دوسرے مختلف نیول فورسز کی باہمی آپریشنل کاری (Interoperability) کی ریہرسل تھی۔ یعنی اگر یہ معلوم ہو کہ کسی جگہ کسی بحری پلیٹ فارم پر کوئی دہشت گردانہ حملہ کیا گیا ہے تو مختلف اقوام کی بحریائیں مل کر اس حملے کی روک تھام کریں تاکہ اس آپریشن میں مختلف پروفیشنل SOPs کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے میں آسانی ہو۔

اس ایکسرسائز کو زیرِ عمل لانے میں جو سمندر منتخب کیا گیا وہ بحرہند تھا۔ اور یہ اس لئے منتخب کیا گیا کہ اس کے ساحلوں پر جو ممالک واقع ہیں (Littoral States)ان میں سمندر کی طرف سے کسی دہشت گرد تنظیم کو خشکی پر اتر کر تباہی مچانے سے روکا جائے…… اصطلاح میں اسے نیول کاؤنٹر ٹیررازم آپریشن کہا گیا ہے۔

لیکن اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جو میڈیا کے ناظرین و قارئین کی نظروں سے (شاید) مخفی ہے۔ میں قارئین کی توجہ اسی دوسرے پہلو کی طرف مبذول کروانی چاہتا ہوں۔

دہشت گردی کی یہ وبا کس سرزمین سے جنم لیتی ہے، ساری دنیا اس کے لئے جنوبی ایشیا کی سرزمین کو قصوروار گردانتی ہے۔ اور اس ”جنوبی ایشیاء“ میں انڈیا بھی شامل ہے۔ نوگیارہ کی پلاننگ، کہا جاتا ہے کہ افغانستان میں کی گئی اور پاکستان کو بھی اس میں ملوث بتایا گیا۔ نو گیارہ کے بعد جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تویہ منصوبہ ساز (طالبان) پاک افغان سرحد عبور کرکے پاکستان چلے آئے۔ اس وقت اس خطے / مقام کا نام FATAتھا (جو اب KPکا حصہ ہے) اور اس میں شک نہیں کہ ایسا ہی تھا۔ فاٹا کی ٹیرین، افغانستان کی عمومی ٹیرین کے مماثل تھی اس لئے ڈیڑھ دو عشروں تک طالبان یہاں بیٹھ کر اس امریکہ کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے جو ان کے وطن مالوف کابل و قندھار میں آکر بیٹھ گیا تھا۔

امریکہ کے ساتھ انڈیا بھی مل گیا۔ مشرق و مغرب میں یہ بات بھی پھیلا دی گئی کہ پاکستان ایک دہشت گرد ملک ہے، دنیا بھر میں جس جگہ بھی کوئی دہشت گردانہ کارروائی ہوتی اس کا ”کُھرا“ پاکستان میں نکلتا۔ اسی طرح پاکستان کو دہشت گردی کی ”جنم بھومی“ قرار دیا گیا۔ اس اتہام میں انڈیا جو پاکستان کا ازلی دشمن ہے، پیش پیش رہا۔ اس نے پاکستان کو سامنے رکھ کر مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسلمانوں کا ناطقہ بند کئے رکھا۔ حقیقت، جیسا کہ بعد میں ’ڈِس انفولیب‘ کی انکشافی رپورٹ سے ظاہر ہوا، یہ تھی کہ اس ساری اتہام سازی اور تہمت طرازی میں انڈیا ملوث تھا۔ پاکستان کیوں سویا رہا اور اس انکشافی رپورٹ کی تفصیلات کسی یورپی ایجنسی / ادارے نے کیوں شائع کیں اور ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں کیوں خواب غفلت میں گرفتار رہیں، یہ ایسے سوال ہیں جو ہم پاکستانیوں کو اپنے آپ سے کرنے چاہیں ……ISI کا نام بہت معروف اور بہت اونچا ہے لیکن اتنے بڑے بہتان کا تانا بانا ایک یورپی ایجنسی نے کیسے کھولا اس کے لئے ہمارے اداروں کو سربہ گریبان ہونا چاہیے۔

میں عرض یہ کر رہا تھا کہ اس ایکسرسائز ’امن 2021ء‘ میں پاکستانی بحری اور زمینی سرحدوں کو عبور کرکے جس دہشت گردانہ حملے کی پریکٹس کی گئی، یہ ریہرسل کسی بھارتی ساحلی اور زمینی علاقے میں بھی کی جا سکتی تھی۔ہندوستان کا مغربی ساحل ایسی ریہرسلوں کے لئے بہت موزوں اور مناسب علاقہ تھا…… پاکستان کو چاہیے کہ آئندہ یہ مشق جو بحرہند میں کی جائے اس کے لئے انڈیا کی مغربی ساحلی پٹی کا انتخاب کیا جائے…… انڈیا کئی برسوں سے مالا بار ایکسرسائز چلا رہا ہے جس میں امریکہ، انڈیا، جاپان اور آسٹریلیا کی بحریاؤں کے دستے حصہ لیتے ہیں۔ ”مالا بار اور امن 2022ء“ کی ایکسرسائزوں کو ملا کر ایک کر دیا جائے تو اس میں کیا مضائقہ ہے؟

میں اس مشق کے جس ’دوسرے پہلو‘ کا ذکر کرنا چاہ رہا ہوں وہ ایک زمینی مشق کی صورت میں انڈیا میں چلائی جا رہی ہے۔ اس کا نام ”یُدھ ابھیاس“ ہے جس کا اردو ترجمہ ”جنگ کی پریکٹس“ ہے۔ یہ 8فروری 2021ء کی راجستھان(انڈیا) کے علاقے میں شروع کی گئی اور 21فروری 2021ء تک جاری رہے گی۔ راجستھان کا یہ علاقہ انڈو پاک زمینی سرحد کے قریب واقع ہے۔ ہم ایک عرصے سے یہ پڑھتے اور سنتے چلے آئے ہیں کہ اگر مستقبل میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان کوئی روائتی جنگ ہوئی تو انڈیا کی طرف سے اس کی سٹرائک کوریں جس محاذ پر حملہ کریں گی وہ رحیم یارخان سے لے کر مغرب میں نگرپارکر کا علاقہ ہوگا۔ اور یہ وہی علاقہ ہے جس کے مقابل میں انڈیا کا راجستھان واقع ہے۔

قارئین کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اسی راجستھانی علاقے میں جنوری 2021ء میں فرانس اور انڈیا کے درمیان ایک فضائی ایکسرسائز چلائی گئی تھی جس کا دورانیہ 5دن کا تھا۔ لیکن یہ ”یُدھ ابھیاس“ مشق جو اس علاقے میں چل رہی ہے اس کا آغاز اگرچہ 8فروری کو ہوا تھا لیکن اس میں شرکت کے لئے 250امریکی انفنٹری ٹروپس 5فروری سے انڈیا میں پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔ جس طرح پاکستان کے ٹلّہ رینج، سومیانی رینج اور خیرپور ٹامیوالی رینج وغیرہ مشہور عسکری رینجز ہیں اسی طرح راجستھان کا مہاجن رینج بھی ایک بڑا معروف اور قدیم انڈین فائرنگ رینج ہے۔ اس ایکسرسائز میں جو انڈین سپاہ (250ٹروپس) حصہ لے رہی ہے اس کا تعلق انڈین آرمی کی ’ساؤتھ ویسٹرن کمانڈ‘ سے ہے جس کی نمبر11جموں اینڈ کشمیر بٹالین (11J&K) حصہ لے رہی ہے اور امریکی آرمی سے جو ٹروپس شریک ہیں ان کا تعلق 3انفنٹری رجمنٹ کی نمبر2بٹالین سے ہے۔ انڈین آرمی ہیڈکوارٹر سے اس ایکسرسائز کا جو مقصد (Aim) جاری کیا گیا ہے اس کا ترجمہ یہ ہے: 

”امریکی آرمی کے ساتھ مل کر چلنے والی یہ مشترکہ ایکسرسائز اس لئے اہم ہے کہ ان دونوں اقوام (انڈیا اور امریکہ) کو گلوبل دہشت گردی کے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ یہ مشترک مشق دونوں ملکوں کی افواج (Armies) میں دفاعی تعاون کے لیول کو بڑھانے میں مدد دے گی، دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات میں بھی اضافہ کرے گی اور ساتھ ہی انڈیا کے اس کلیدی کردار کو بھی واضح کرے گی جو ہند بحرالکاہل (Indo-Pacific) ریجن میں انڈیا کو حاصل ہے“۔

بندہ پوچھے کہ اگر ہند بحرالکاہل ریجن میں کسی بھارتی عسکری کردار کی وضاحت کی ضرورت تھی تو اس مشق کو انڈیا کی مشرقی سرحد (کلکتہ، چنائی وغیرہ) کے کسی علاقے میں چلانا چاہیے تھا نہ کہ راجستھان کے علاقے میں کہ جو پاکستانی سرحد کے نزدیک ہے۔

انڈیا اب امریکہ کو یہ باور کروانا چاہتا ہے کہ پاکستان کے سابق فاٹا کے علاقے میں جو پاکستانی دہشت گرد بیٹھ کر ”امریکہ اور انڈیا“ کے خلاف حملوں کی تیاریاں کیا کرتے تھے وہ علاقہ تو اب KP کا حصہ بن چکا ہے۔ اس لئے اب یہ دہشت گرد شمال سے اٹھ کر جنوب میں آ گئے ہیں (یا آ جائیں گے) پاکستان کے اس حصے کو جنوبی پنجاب بھی کہا جاتا ہے۔ اور پاکستانی دہشت گردوں کی اس جنوبی پنجاب میں آکر پلاننگ کرنے کی روک تھام کی اسی طرح کی ضرورت ہے جس طرح کی نوگیارہ کے فوراً بعد فاٹا میں تھی۔

بعض قارئین شاید میرے اس استدلال کو دور کی کوڑی تصور کریں لیکن راجستھان میں امریکن آرمی کے ٹروپس کی یہ ایکسرسائز چلانے کا اور مقصد کیا ہے؟

مودی حکومت اپنے ”دورِ مسعود“ میں ایک کے بعد دوسری بلنڈر کا ارتکاب کر رہی ہے اور یہ نہیں دیکھتی کہ اس کے اپنے ہندودستان میں کیا ہو رہا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر ملکی سفارت کاروں کو بھیج کر دنیا کو یہ باور کرانا یا دکھانا کہ وہاں سب شانتی ہے اس کی تیسری بلنڈر ہے (دو بلنڈرز کا ذکر کل کے کالم میں کر چکا ہوں)…… اور چوتھی بلنڈر یہ ہے کہ راجستھان کے علاقے میں یہ ”یُدھ ابھیاس“ چلا رہی ہے!

مزید :

رائے -کالم -