جناب وزیراعظم! ٹریول،عمرہ اور حج ٹریڈ کو بچا لیجئے

جناب وزیراعظم! ٹریول،عمرہ اور حج ٹریڈ کو بچا لیجئے
 جناب وزیراعظم! ٹریول،عمرہ اور حج ٹریڈ کو بچا لیجئے

  

زمینی حقائق کے مطابق بات کی جائے تو پاکستان کے تمام شعبے ہی کمپرسی کی حالت میں ہیں اور تبدیلی سرکار سے زندہ رہنے کے لئے ضروریات اشیاء میں ریلیف کے منتظر ہیں کشکول توڑنے اور آئی ایم ایف سے ہمیشہ کے لئے قوم کو چھٹکارا دینے کے نعرے دم توڑ چکے ہیں اور قوم کو آئی ایم ایف کے نمائندہ وزیر خزانہ آئی ایم ایف پیکیج کی بحالی کی نوید سنا رہے ہیں 100دن اور پھر 6ماہ میں قوم کو قرضوں سے نجات اور پاکستان کو خود کفیل بنانے کے دعوے اور اعلانات بھی خیالاتی قرار پا چکے ہیں۔ عوام سے کئے گئے وعدے پورے ہوں نہ ہوں البتہ آئی ایم ایف پیکیج کی بحالی کے لئے تمام وعدے (شرائط) پوری کی جا چکیں ہیں تاریخ میں پہلی دفعہ ایک ماہ میں دودفعہ بجلی اور پٹرول کے نرخ بڑھ چکے ہیں۔ بجلی گیس پر ہر طرح کی سبسٹڈی ختم کی جا چکی ہے۔ سرکاری ملازمین ڈھائی سال میں ہونے والی مہنگائی سے تنگ آکر سڑکوں پر مرنے کو ترجیح دینے کا اعلان کر رہے ہیں۔8دن کے طویل دھرنے اور آنسو گیس،لاٹھی چارج،گرفتاریوں کے بعد انہیں 25فیصد تنخواہوں میں ایڈہاک اضافہ کی خوشخبری دی گئی ہے۔ مرتے کیا نہ کرتے بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی سمجھ کر خاموش ہو گئے۔

آج کے کالم میں پاکستان میں سب سے زیادہ ریونیو دینے والے شعبوں کی حالت زار پر بات کرنی ہے جو کورونا، لاک ڈاؤن اور ایئر لائنز آپریشن کی معطلی، عمرہ اور حج نہ ہونے کی وجہ سے عملی طور پر تباہ ہو چکے ہیں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ قارئین کے علم میں ہوگا ٹریول ٹریڈ دنیا بھر کی طرح پاکستان کا بھی بڑا شعبہ ہے جہاں سے حکومت وقت ایک ایک ٹکٹ سے 15سے 30ہزار تک ٹیکس وصول کرتی ہے۔ اس لئے گزشتہ کچھ سالوں سے ٹریول ایجنسی بڑھانے کا رجحان بڑھا ہے۔ اسی طرح عمرہ اور حج کے کاروبار سے بھی عوام کی دلچسپی بڑھی ہے اور ٹریول، عمرہ اور حج کو بطور کاروبار بنانے میں تیزی آئی ہے۔ بہت کم وقت میں ہزاروں خاندان اور لاکھوں افراد اس کاروبار کا حصہ بنے ہیں۔حقیقتاً میں پوری دنیا کی طرح پاکستان میں نوجوان نسل کی ٹورازم، عمرہ اور حج میں غیر معمولی دلچسپی کا باعث بنی ہے۔ حکومت کے لئے ٹریول عمرہ اور حج ٹریڈ سونے کا انڈہ دینے والی مرغی ہے مگر افسوس کہ ملکی معیشت کی تباہی کا رونا رونے والوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے تین بڑی صنعتیں تباہ ہو گئی ہیں۔ ہزاروں دفاتر بند اور لاکھوں افراد بے روزگاری کا شکار ہو گئے ہیں۔

لمحہ فکریہ ہے کہ پوری دنیا میں ہم مر گئے لٹ گئے  کا واویلا کر رہے ہیں کہ ہمارے قرضے معاف کئے جائیں۔ ہمیں ریلیف دیا جائے، حکومت کی جو بنیادی ذمہ داری ہے اس سے پہلوتہی کی جا رہی ہے، حالانکہ تھوڑی سی منصوبہ بندی سے ہزاروں خاندانوں کو بے روزگار ہونے سے بچایا جا سکتا تھا مگر عملاً لگ رہا ہے کروڑوں روپے روزانہ ریونیو دینے والی ٹریول ٹریڈ کروڑوں روپے ماہانہ ریونیو دینے والی عمرہ ٹریڈ اور کروڑوں روپے سالانہ ٹیکس دینے والی حج ٹریڈ اب تک ترجیح نہیں بن سکی۔

اندھیر نگری ہے 18ویں ترمیم کے بعد ٹورازم جو پوری دنیا میں مرکز قرار پاتی ہے ہمارا ٹورازم کا شعبہ صوبوں کو دے دیا گیا ہے۔ صوبے ٹورازم کی بہتری کے منصوبے بنانے اور ٹریول، عمرہ اور حج کی ڈوبتی ناؤ کو بچانے کے لئے ریلیف دینے،آسان قرضوں کی فراہمی، ٹیکس اور ٹورازم فیس معاف کرنے کی بجائے پنجاب حکومت ٹریول ایجنسی ایکٹ لا رہی ہے جس میں بڑی مشکل سے سانس لیتی ٹریڈ کو ایک سے دو لاکھ جرمانہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے حالانکہ پنجاب ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کا سالہا سال سے نظام ڈنگ ٹپاؤ اور نذرانوں سے چل رہا ہے۔ روزنامہ ”پاکستان“ کی تحقیقات کے مطابق اس شعبے کا ایک ایک فرد کرپشن کے سمندر میں غوطہ لگا چکا ہے پہلی دفعہ حافظ عرفان علی کی شکل میں نیا اور جوان خون ڈپٹی کنٹرولر کی شکل میں آیا ہے اس نے سارا فرسودہ نظام جدید انداز میں کمپیوٹرائزڈ کرنے کا عزم کیا ہے۔ اللہ کرے ان کی تبدیلی کے دعوے تحریک انصاف کے دعوے ثابت نہ ہو۔ ٹریول کی طرح عمرہ کاروبار کا بھی یہی حال ہے گزشتہ صدی سے مدرپدر آزاد چلا آ رہا ہےّ 90فیصد سعودی عمرہ کمپنیوں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔

اب اس کو حج کی طرز پر رجسٹرڈ کرنے اور عمرہ اور حج کو باقاعدہ قانونی شکل دینے کے لئے ایکٹ کی منظوری کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس میں بھی وزارت مذہبی امور کا ایک مخصوص حلقہ ڈنڈی مارنے کی کوشش میں ہے۔ عمرہ اور حج ٹریڈ کی نمائندہ ہوپ کی ساری امیدیں وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری، وفاقی وزیر مذہبی امور سردار اعجاز خان جعفر اور جوائنٹ سیکرٹری حج شاہد سندھو سے وابستہ ہیں، حوصلہ افزا بات جو ہے سردار اعجاز احمد خان جعفر اور شاہد سندھو ایماندار ہونے کے ساتھ ساتھ دوراندیش بھی ہیں۔ انہوں نے نیا حج کوٹہ کا پنڈورابکس کھولنے کی بجائے سابق وفاقی وزراء کے ادوار میں حج کوٹہ کی تقسیم کے لئے لگائی جانے والی منڈی اور ڈی جی اور جوائنٹ سیکرٹری کی برطرفیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے نئے اور پرانے حج آرگنائزر کو ایک صف میں کھڑا کرنے سے نہ صرف انکار کر دیا ہے بلکہ عمران خان کے عزم کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں میرٹ اپنانے کا اعلان کیا ہے۔ ٹریول، عمرہ کی طرح حج ٹریڈ بھی دم توڑ رہی ہے۔

حج 2020ء نہ ہونے کی وجہ سے حج ٹریڈ سے وابستہ خاندان بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ حج 2021ء کے حوالے سے بڑھتے ہوئے شکوک نے ان کو فاقوں تک پہنچا دیا ہے۔ سب سے منفرد اور اچھوتی بات جو سامنے آئی ہے موجودہ حکومت کا ناروا سلوک اور عدم دلچسی اپنی جگہ مگر حکومت سمیت ملک بھر کے بڑے ادارے اور بنک اب تک ٹریول، عمرہ اور حج کو صنعت تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں جیسے ہمارے ملک میں وکلاء، صحافی حضرات کو قرضوں کے لئے اور گھر کرائے پر دینے کے لئے قابل اعتبار نہیں سمجھا جاتا اسی طرح ٹریول، عمرہ اور حج ٹریڈ کو بنک ٹریڈ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ درجنوں خطوط روزنامہ ”پاکستان“ کو وصول ہوئے ہیں ان کی روشنی میں وزیراعظم سے کالم کے ذریعے درخواست ہے کہ آپ محب وطن ہیں، ایماندار ہیں، آپ ہی سب سے زیادہ ریونیو دینے والی ٹریول، عمرہ اور حج ٹریڈ کو بچا سکتے ہیں۔ فوری رپورٹ طلب کیجئے اور تباہ ہوتی تینوں صنعتوں کو بچانے کے لئے خصوصی ریلیف پیکیج اوردو سال کے لئے انکم پروفیشنل، پراپرٹی اور ٹورازم ٹیکس معاف کرنے کا اعلان کریں۔ بلاسود قرضوں کی فراہمی کا اعلان کریں۔

مزید :

رائے -کالم -