غیر قانونی ہاؤسنگ سکیم بنانے میں ملوث ایک بھی افسر کو نہیں چھوڑا جائیگا: چیف جسٹس

غیر قانونی ہاؤسنگ سکیم بنانے میں ملوث ایک بھی افسر کو نہیں چھوڑا جائیگا: چیف ...

  

 لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے گرین ایریاز پر نجی ہاؤسنگ سکیموں کیخلاف کیس کی سماعت آئندہ پیشی تک ملتوی کرتے ہوئے قراردیا کہ لگ رہا ہے کہ اس معاملے پر ایک لوکل کمیشن بنایا جائے،غیرقانونی سکیم بنانے میں ملوث ایک بھی افسر کونہیں چھوڑا جائے گا،اس کیس کا فیصلہ مارچ تک کردیا جائے گا،کیس کی سماعت شروع ہوئی تو فاضل جج نے ایل ڈی اے کے وکیل سے استفسار کیا کیانجی ہاؤسنگ سکیموں سے متعلق ٹی او آر بنائے گئے ہیں؟جس پر وکیل نے کہا کہ ٹی او آر بنائے گئے ہیں،فاضل جج نے کہا ٹی اوآرزسے تودکھائی دے رہاہے کہ مافیا کو تحفظ دیا جارہا ہے،یہ تو لگ رہا ہے کہ سب کا راستہ کھول دیا گیا ہے،اب پہلاحل یہ ہے کہ ان سکیموں کواکھاڑ دیا جائے،دوسرا حل یہ ہے کہ ان سکیموں کو ریگولرائزکردیاجائے اورتیسرا حل یہ ہے کہ جنہوں نے اربوں روپے بنائے ان سے پیسہ لے کرسرکاری خزانے میں جمع کرائیں،کم از کم اس رقم سے سموگ کاخاتمہ کیا جاسکے،ان معاملات کو ٹی او آرز میں شامل کیا جائے،عدالت کو بتایا جائے ٹی ایم اوز نے کتنی ہاوسنگ سکیموں کی منظوری دی،بتایا جائے لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے تحت ہاؤسنگ سکیموں کی منظوری کا کیا طریقہ کار تھا؟چیف سیکرٹری کوکہیں گے کہ اپنے ریکارڈکاخودمعائنہ کرلیں،فاضل جج نے مزید کہا کہ دیکھنا ہوگا کہ سکیموں کی منظوری کے لئے قانونی طریقہ اختیار کیا گیا یا نہیں،کہیں ٹی ایم اوزکے سامنے فائل رکھ کر ایسے ہی تودستخط نہیں کرالئے گئے،لاکھوں لوگوں نے اپنی جمع پونجی لگا کرپلاٹ بنائے،درخواست گزار کا موقف ہے کہ ماضی میں یونین کونسلیں ہی ہاؤسنگ سکیموں کی منظوری دیتی رہیں۔

چیف جسٹس

مزید :

صفحہ آخر -