72ہزار سے زائد پاکستانی مہاجرین کو افغانستان سے واپس لایا جائے،قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے سیفران کی سفارش

  72ہزار سے زائد پاکستانی مہاجرین کو افغانستان سے واپس لایا جائے،قومی اسمبلی ...

  

 اسلام آباد (آئی این پی)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران نے سفارش کی ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے دوران افغانستان جانے والے پاکستانی مہاجرین کی واپسی کیلئے جلد اقدامات کیے جائیں وزارت خارجہ کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت افغانستان میں پاکستانی مہاجرین کی تعداد 72ہزار سے زائد ہے جن کی واپسی کا ابھی تک کوئی انتظام نہیں کی گیا۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران کا اجلاس کمیٹی چیئرمین ساجد خان کی زیر صدارت وزارت کی کمیٹی ہاوس منعقد ہوا۔ اجلاس میں جنوبی وزیرستان سے بد امنی کے دوران افغانستان ہجرت کرنے والوں کو واپس لانے کیلئے اقدامات امورزیر غورکیا گیا اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی حکام نے بتایا کہ مہاجرین کو واپس لانے کیلئے سٹیک ہولڈرز کیساتھ 2018کے بعد سے کوئی اجلاس نہیں ہوا سیکرٹری سیفران نے اجلا س کو بتایا کہ ان لوگوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔چیئرمین کمیٹی ساجد خان نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کی وجہ سے بہت سارے علاقے افغانستان کی حدود میں چلے گئے بکا خیل سمیت کئی اقوام کی سرحد پار رشتہ داریاں ہیں افغانستان جانے والوں کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ ہونے کے باوجود بھی واپس آنے میں مشکلات ہیں۔رکن کمیٹی گل ظفر خان کا کہناتھا کہ وائٹ ہاؤس میں جانے سے افغانستان میں پاکستانی قونصلیٹ میں جانا زیادہ مشکل ہے افغانستان تو دور کی بات باجوڑ کے نادار آفس میں اپنے آپ کو پاکستانی ثابت کرنے میں مشکلات ہیں۔رکن کمیٹی محسن داوڑ نے کہا کہ مہاجرین کی واپسی کیلئے کوئی اقدامات نظر نہیں آ رہے وفاقی وزیر خود اس معاملے پر تذبذب کا شکار ہیں۔

سیفران

مزید :

صفحہ آخر -