اپوزیشن کے قول و فعل میں تضاد  انتخابات میں شفافیت کیلئے کوئی  کام نہیں کیا،شہزاد وسیم 

         اپوزیشن کے قول و فعل میں تضاد  انتخابات میں شفافیت کیلئے کوئی  کام ...

  

  اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ میں قائد ایوان شہزاد وسیم نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے تمام وعدوں، طویل حکمرانی اور اکثریت کے باوجود سینیٹ انتخابات میں شفافیت یقینی بنانے کیلئے کوئی کام نہیں کیا کیونکہ ان کی نیت ٹھیک نہیں تھی۔ اپوزیشن کے قول و فعل میں تضاد ہے، 2016 میں سینٹ کی ہول کمیٹی میں اپوزیشن نے سینٹ کے انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے اور ہارس ٹریڈنگ کرنے والے رکن کے خلاف کارروائی کی تجویز دی تھی جبکہ اس وقت اپوزیشن اس کی مخالفت کر رہی ہے۔گزشتہ روز ڈاکٹر شہباز گل کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ سینٹ انتخابات میں ہر بار منڈی لگائی جاتی ہے۔ سپریم کورٹ میں سپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینٹ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیوں کے سپیکروں نے اوپن بیلٹ کی حمایت کی ہے۔ سینٹ وفاق کی علامت ہے جس میں چاروں صوبوں کی نمائندگی موجود ہے۔ کمیٹی آف ہول نے تجویز پیش کی کہ امیدوار جس صوبے سے ہو اس کا پانچ سال سے رہائشی ہونا چاہئے۔ کمیٹی نے وفاق کا الیکٹورل کالج تبدیل کرنے کی تجویز بھی دی تھی۔ آئین کی تشریح کرنا سپریم کورٹ کا کام ہے، حکومت رہنمائی کیلئے سپریم کورٹ گئی۔اس موقع پر شہباز گل نے کہا کہ نواز شریف نے 2015 میں سینٹ انتخابات کے دوران ان انتخابات کی شفافیت پر زور دیا، اس حوالہ سے انہوں نے دو کمیٹیاں بھی تشکیل دیں۔ کیپٹن صفدر نے انصاری برادران کے بارے میں گھٹیا زبان استعمال کی ہے، یہ بیان ان کی فرعونیت کا عکاس ہے۔ن لیگ نے چھانگا مانگا میں ہارس ٹریڈنگ کا بازار لگایا، انہوں نے اڑھائی ہزار ایکڑ سے جنگل کاٹ دیا، ہم نے ہزار ایکڑ پر جنگل بحال کر دیا ہے۔ میثاق جمہوریت کی شق نمبر 24 میں اوپن بیلٹ کی حمایت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینٹ انتخابات کی شفافیت سے متعلق بل راتوں رات نہیں آیا، یہ پورے پاکستان کا مطالبہ ہے، ہم شفاف انتخابات کیلئے ترمیم کیلئے تیار ہیں۔ 

شہزاد وسیم

مزید :

صفحہ آخر -