انتظامیہ مندر کی تعمیر سے بازرہے، ہمارامارچ سنبھالا نہیں جائے گا تحریک تحفظ ناموس رسالت 

انتظامیہ مندر کی تعمیر سے بازرہے، ہمارامارچ سنبھالا نہیں جائے گا تحریک تحفظ ...

  

ملتان (سپیشل رپورٹر)تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ مارچ میں کئی مارچ ہو رہے ہیں ایسا نہ ہو کہ ایک اور مارچ ہو جائے، ہمارا مارچ سنبھالا نہیں جائے گا۔ پرہلاد مندر میں 1947ء سے کسی قسم کی کوئی عبادت نہیں کی جا رہی تھی، یہان رکھی گئی مورتی بھی بھارت لی جا چکی ہے۔ جہاں ہندو کمیونٹی نہیں رہتی وہاں مندر کے قیام سے اشتعال پیدا ہو گا۔ بعض عوامل اپنے پس پردہ مقاصد حال کرنے کے (بقیہ نمبر39صفحہ 6پر)

لئے امن تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ انتظامیہ مندر تعمیر کرنے سے باز رہے۔ پریس کانفرنس کرنے والے علماء کرام و رہنماؤں میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد حنیف جالندھری، جماعت اہل سنت پنجاب کے ناظم اعلی علامہ فاروق خان سعیدی، وفاق المدارس العربیہ جنوبی پنجاب کے ناظم مولانا زبیر احمد صدیقی، مرکزی جمیعت اہلحدیث کے رہنماء علامہ خالد محمود ندیم، پاکستان علماء کونسل کے سرپرست اعلیٰ علامہ عبدالحق مجاہد، جماعت اہل سنت پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ سید حامد سعید کاظمی کے صاحبزادے محمد سعید کاظمی، جمیعت علماء پاکستان کے رہنماء محمد ایوب مغل، مہتمم جامعہ ہدایت القرآن ممتاز آباد مولانا عثمان پسروری، ڈاکٹر صدیق خان قادری، جے یو آئی ملتان کے ضلعی نائب امیر علامہ ابوبکر عثمان، جماعت اسلامی کے رہنماء میاں آصف محمود اخوانی، امیر جے یو آئی ضلع ملتان ایاز الحق قاسمی، جے یو آئی کے رہنماء حافظ عمر شیخ، حافظ ظفر قریشی، مرزا ارشد قادری اور دیگر شامل تھے۔ اس موقع پر ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اور انتظامیہ سپریم کورٹ کی آڑ میں ہنودویہود کی خوشنودی کیلئے قلعہ کہنہ قاسم باغ پر حضرت بہائالدین زکریاؒ کے دربار سے متصل مسجد کیساتھ مندر تعمیر کرنا چاہتی ہے، اس مسئلہ پر ملتان کے عوام میں شدید اشتعال پایاجاتاہے۔ایک ایسے مندر کی تعمیر جس کے مجاور قیام پاکستان کے ساتھ ہی اپنی معبود مورتی نکال کرہندوستان لیجاچکے ہیں اس جگہ پر قیام پاکستان سے آج تک ہندو?ں کی کبھی کوئی مذہبی تقریب نہیں ہوئی نہ ہی قرب وجوار میں کوئی ہندو آبادی ہے۔ ملتان میں جہاں چندہندو گھرانے آباد ہیں وہاں مندر موجود اور فنکشنل ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں یہاں مندر کی تعمیر اسلام دشمن،ملک دشمن اور امن دشمن سازشیوں کی سازش اور مسلمان آبادیوں میں امن وسکون سے زندگی بسر کرنیوالی ہندواقلیت کیامن وسکون کوبرباد کرنیکی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم عوام کسی صورت بت خانوں کی تعمیر کی اجازت نہیں دینگے، بت شکنی سنت ابراہیمیؓ ہے۔ حضرت محمدؐ نے فتح مکہ کے موقع پر مسجد الحرام اور خانہ کعبہ میں موجود بتوں کو خود اپنی نگرانی میں نکال باہر پھینکا۔ انہوں نے کہا کہ ملتان کے غیور مسلم عوام کسی صورت یہاں بت خانہ تعمیر نہیں ہونے دیں گے۔عوام میں مندر کی تعمیر کے اعلان پر شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔حالات کی خرابی کی تمام تر ذمہ داری ملتان انتظامیہ اور حکمرانوں پر ہوگی۔ہم مدنی ریاست کے قیام کے جھوٹے دعویدار حکمرانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بت خانوں کی تعمیر کی بجائے نریندر مودی سے بابری مسجد کی ازسرنو تعمیر کا مطالبہ کریں۔ اسی طرح ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ بت خانوں کی تعمیر پر اربوں روپے لٹانے کی بجائے مساجد کو مفت بجلی اور مہنگائی کے مارے غریب عوام کو ریلیف فراہم کریں۔ حکمران مسلمانوں کے مذہبی جذبات سینہ کھیلیں، 28 مارچ کو پوری دنیا سے ہندوں کو اکٹھا کر کے ملتان میں ہولی منانے کی کسی صورت اجازت نہ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غیر مسلموں کے حقوق کو تحفظ حاصل ہے، حالانکہ دنیا کے دیگر ممالک میں اقلیتوں کو ان کے حقوق نہیں دئیے جا رہے۔ پاکستان میں پارلیمنٹ میں مخصوص نشستیں دینے سمیت مکمل حقوق حاصل ہیں، عبادت گاہیں موجود ہیں، اور عبادت کرنے میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ مگر اقلیتوں کو خوش کرنے کے لئے مسلمانوں کے حقوق دبانے نہیں دیں  گے، قلعہ کہنہ قاسم باغ پر مندر تعمیر کرنے کی باتیں کرنے والی نادیدہ قوتیں پاکستان کے امن کو تباہ کرنا چاہ رہی ہیں۔ مسلمانوں کے نقطہ نظر کو بھی سنا جائے، عدالت عظمیٰ اس مسئلے کا بغور جائزہ لے۔ یہاں مندر کا قیام کسی بھی وقت نقص امن کا باعث بن سکتی ہے، امن و امان کا مسئلہ بنے گا۔ عجلت میں کوئی فیصلہ نہ کیا جائے، صورت حال کو سامنے رکھا جائے۔ اس وقت عوام میں شدید اضطراب ہے۔

مندر

مزید :

ملتان صفحہ آخر -