وزیراعلٰی کی صفائی مہم کے دوران نہروں کے ملبے کو ٹھکانے لگانیکی ہدایت 

      وزیراعلٰی کی صفائی مہم کے دوران نہروں کے ملبے کو ٹھکانے لگانیکی ہدایت 

  

 پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے صوبائی دارالحکومت پشاورمیں میونسپل خدمات کی موثر اور بہتر انجام دہی کویقینی بنانے کے لیے متعلقہ حکام کو ایک ہفتے کے اندر پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، ڈبلیو ایس ایس پی اور ٹی ایم ایز کی حدود کارکا واضح تعین کرکے اس سلسلے میں اعلامیہ جاری کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ ہر ادارہ اپنی حدود کار میں بہتر معیاری میونسپل خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کا ذمہ دار ہو۔ اُنہوں نے متعلقہ حکام کو پشاور میں صفائی کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے، تجاوزات کے خلاف آپریشن کو تیز کرنے جبکہ شہراور گردو نواح کے تمام خستہ حال سرکاری سکولوں کی عمارتوں کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لئے ایک منصوبہ تیار کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔وزیراعلیٰ نے دیگر اضلاع میں صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے ٹی ایم ایز کو مضبوط بنانے کے لئے بھی ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔ وہ جمعرات کے روزپشاور ریجن کی ترقیاتی سکیموں اور عوامی مسائل کے حوالے سے منعقدہ ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔ ضلع پشاور اور نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی کے علاوہ متعلقہ صوبائی محکموں اور وفاقی اداروں کے اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے تمام صوبائی محکموں کو ترقیاتی سکیموں کیلئے ٹینڈرنگ کا جاری عمل تیز کرنے اور نئے منصوبوں کی فزیبیلٹی امسال جو ن تک ہر صورت مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ عوامی فلاح و بہبود کے قابل عمل منصوبوں کواگلے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جا سکے۔ انہوں نے پیسکو حکام کو بھی آنے والے موسم گرماکے دوران پشاور میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کو کم سے کم کرنے کیلئے مناسب اقدامات اُٹھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کے ٹرانسفارمرز جلنے کی صورت میں 24 گھنٹوں کے اندر نئے ٹرانسفارمر کی تنصیب یقینی بنائی جائے۔ اُنہوں نے نہروں کی صفائی پر کام کی رفتار تیز کرنے اور اس سلسلے میں ایک ہفتہ کے اندر پراگرس رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ بھل صفائی مہم کے دوران نہروں کے ملبے کو ٹھکانے لگانے کا بھی مناسب انتظام کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے عندیہ دیا ہے کہ صوبے میں باقی ماندہ مساجد کی سولرائزیشن اور شہروں کی صفائی کے حوالے سے میگا سکیمیں آئندہ بجٹ میں شامل کی جائیں گی۔پشاور ریجن میں ترقیاتی کاموں اور عوامی مسائل کے حل کے سلسلے میں وزیراعلیٰ کی زیرصدارت منعقدہ گزشتہ اجلاس میں جاری کردہ احکامات پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے اجلاس کو بتایاگیا کہ مجموعی طور پر پشاور ریجن میں ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل سے متعلق 37 مختلف احکامات جاری کئے گئے تھے جن میں سے 17 فیصلوں پر سو فیصد عمل درآمد یقینی بنایا گیا ہے، 16 فیصلوں پر عمل درآمد کی رفتار تسلی بخش ہے جبکہ بعض فیصلوں پر عمل درآمد تاخیر کا شکار ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پشاور میں روڈ سیکٹر کے بعض نامکمل منصوبوں کی تکمیل کیلئے 35.31 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ سابقہ اجلاس کے فیصلے کے مطابق 26 ٹیوب ویلز کے بجلی کے بلوں کی مد میں بقایا جات اداکر دئیے گئے ہیں جبکہ باقی ماندہ 12 ٹیوب ویلز کے بل جلد کلیئر کر لئے جائیں گے۔ مذکورہ ٹیوب ویلز اب محکمہ آبنوشی کے ذریعے چلائے جارہے ہیں۔ احمد خیل تالاب کے ڈرینج پلان کیلئے 26.3 ملین روپے کی لاگت کا پی سی ون تیار کیا گیا ہے۔ یہ سکیم آئندہ اے ڈی پی میں شامل کی جائے گی۔ اسی طرح پشاور میں 15 مختلف سکولوں کی تعمیر نو و بحالی کیلئے رواں ترقیاتی پروگرام میں سکیم شامل کی گئی ہے جبکہ پہلے سے جاری 8 سکولوں کی تعمیر و بحالی پر کام شروع ہے۔ اس کے علاوہ پشاور سکولز ڈویلپمنٹ پلان کے تحت 277 سکولوں کی تعمیر نو و بحالی تجویز کی گئی ہے جس پر جلد عملی کام شروع کردیا جائے گا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ مین چارسدہ روڈ کی تعمیر کیلئے مطلوبہ فنڈز جاری کر دیئے گئے ہیں اور کام کی رفتار میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ صوبے میں 20 نئے کالجز کے قیام کیلئے 22 فروری تک فیزیبیلیٹی کاکنٹریکٹ ایوارڈ کر دیا جائے گااور رواں سال اپریل کے آخر تک فزبیلٹی مکمل کر لی جائے گی۔ اس کے علاوہ ٹاؤن ون اور ٹو میں جنازہ گاہ کیلئے گاڑیوں کی خریداری کا عمل شروع ہے۔ایک ماہ کے اندر گاڑیاں فراہم کر دی جائیں گی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پشاور میں ایریگیشن چینل پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کے تحت تقریباً90 کنال اراضی واگزار کر ائی گئی ہے۔اسی طرح پشاورمیں حیات آباد فیز ٹو کی بیوٹیفکیشن کیلئے ایک سکیم سالانہ ترقیاتی پروگرام میں رکھی گئی ہے، جس کا تخمینہ لاگت 500 ملین روپے ہے۔ اب تک سکیم کے تحت مختلف سڑکوں، نالیوں اور پارکس کی بحالی پر 187 ملین روپے خر چ کئے جاچکے ہیں۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پشاور سمیت صوبہ بھر میں صارفین کی سہولت کیلئے پیسکو بورڈ کی طرف سے نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی منظور کی گئی ہے۔مزید برآں آئس کی روک تھام کیلئے پولیس لائن پشاور میں ایک مخصوص ڈیسک قائم کیا گیا ہے جس کا بنیادی کا م آئس سپلائی کرنے والے عناصر کی نشاندہی کرنا ہے۔ علاوہ ازیں ضلع میں غیر قانونی طور پر پارکنگ کے مقامات بند کرنے والے پلازوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی گئی ہے اورمختلف علاقوں میں 28 پلازوں کا معائنہ کیا گیا ہے، 12 بیسمنٹ پارکنگ کو فعال بنا دیا گیا ہے، پانچ پلازوں سے عارضی تعمیرات گرائی گئی ہیں اور تین پلازوں کے خلاف قانونی کاروائی شروع کی گئی ہے۔ اجلاس میں صوبائی دارالحکومت پشاور میں بلڈنگ بائی لاز پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے ایک سٹیرنگ کمیٹی تشکیل دینے کافیصلہ کیا گیا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیاکہ یونیورسٹی روڈ پر اضافی پارکنگ پلازوں کی تعمیر بھی اپ لفٹ سکیم میں شامل ہے۔ رواں مالی سال کے دوران پشاور میں 71 کلومیٹر گیس سپلائی پائپ لائن کی تبدیلی منظور کی گئی ہے جس میں سے 21 کلومیٹر پائپ لائن تبدیل کی جاچکی ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع نوشہرہ کے 28 سکولوں کی تعمیرنو و بحالی کو رواں ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال جہانگیرہ کیلئے زمین کا مسئلہ جلد حل کرنے، نوشہرہ میں مختلف رورل ہیلتھ سنٹرز کو فعال بنانے، گرلز ڈگری کالجز میں سٹاف کی کمی پوری کرنے اور محکمہ آبنوشی کے خستہ حال پائپوں کی بحالی سمیت عوامی مفاد کی دیگر جاری سکیموں پر تیزرفتار پیشرفت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعلیٰ نے سرکاری حکام کو عوامی مسائل کے بروقت حل کے لئے منتخب عوامی نمائندوں کے ساتھ قریبی روابط قائم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ منتخب عوامی نمائندوں کی طرف سے نشاندہی کردہ مسائل کو حل کرنے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں۔ 

مزید :

صفحہ اول -