آئین میں چھیڑ چھاڑ کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں: خورشید شاہ 

  آئین میں چھیڑ چھاڑ کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں: خورشید شاہ 

  

 سکھر (ڈسٹرکٹ رپورٹر)پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئررہنماسید خورشید احمدشاہ نے کہاہے کہ شو آف ہینڈ کے معاملے پر آئین میں چھیڑ چھاڑ کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں، حکومت اگر آئین میں کسی قسم کی تبدیلی کرنا چاہتی ہے تو ایوان میں لے آئے، یہ روایت ان حکمرانوں نے ڈالی ہے کہ ممبران کی خرید و فروخت ہو، سینیٹ چیئرمین کے الیکشن میں 14 ممبران کی خرید وفروخت ہوئی،حلیم عادل شیخ کو سندھ حکومت نے گرفتار نہیں کرایا، وہ تو چیف الیکشن کمشنر کی ہدایت پر گرفتار ہوئے ہیں۔جمعرات کو خورشید شاہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ احتساب عدالت نے سماعت 8 مارچ تک ملتوی کردی۔سکھر کی احتساب کی عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے خورشیدشاہ نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان نے ابھی تک پارلیمنٹ کو تسلیم ہی نہیں کیا، وہ ادھر ادھر کی ترمیم لانے کی کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ ملک کے چاروں صوبوں کی ضمانت ہے، حکومت کو پارلیمنٹ کو مضبوط کرنا چاہئے، پارلیمنٹ مضبوط ہوگی تو ریاست مضبوط ہوگی۔ سینیٹ الیکشن آئین اور قانون کے تحت ہونے چاہیے۔خورشید شاہ نے کہا کہ میں سینیٹ الیکشن میں اپنا ووٹ دینے ضرور جاؤں گا۔ سینیٹ الیکشن کے لئے آئین موجود ہے، پاکستان کی خوش نصیبی ہے کہ اس کا متفقہ طور پر آئین بنا،آئین کے اندر ہر چیز واضح ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کی مضبوطی کا دارومدار آئین پر ہوتا ہے۔ کسی بھی طریقہ سے آئین میں ترمیم کرنے کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔ آئین میں ترمیم پارلیمنٹ ہی کرسکتی ہے۔ سینیٹ الیکشن میں شو آف ہینڈ کے معاملے پر آئین میں چھیڑ چھاڑ نہیں ہونی چاہئے۔انہوں نے کہاکہ سینیٹ الیکشن ہورہے ہیں، اس وقت پی ڈی ایم کی ریلی نکالنا عقل کی بات نہیں ہوگی۔ پی ڈی ایم اپنی انرجی لانگ مارچ پر لگائے۔ ابھی تک عمران خان کو نہیں پتا پارلیمنٹ کیا ہے۔ وزیر اعلی سندھ کی دس سیٹوں کی بات خوف زدہ کرنے کی بات ہوتی ہے۔خورشید نے کہا کہ حلیم عادل شیخ کو وزیر اعلی نے نہیں چیف الیکشن کمیشن کے حکم پر گرفتار کیا گیا۔ حکومت سندھ اپوزیشن کو گرفتار کرنا اچھا نہیں سمجھتی۔ الیکشن والے دن سارے انتظامات الیکشن کمیشن کے پاس ہوتے ہیں۔ مرحوم مشاہدہ اللہ نڈر قسم کے سیاسی ورکر تھے۔

مزید :

صفحہ اول -