دنیا بھر میں کورونا سے قرضوں میں 24ہزار ارب ڈالر کا اضافہ: عالمی معیشت ڈول گئی 

دنیا بھر میں کورونا سے قرضوں میں 24ہزار ارب ڈالر کا اضافہ: عالمی معیشت ڈول گئی 

  

 اسلام آباد(این این آئی) کورونا وائرس کے باعث عالمی قرضوں میں 24ہزار ارب ڈالر کا اضافہ ہوگیا جس کے بعد عالمی قرضوں کی مجموعی مالیت 281ہزار ارب ڈالر کی تاریخی سطح پر پہنچ گئی جو دنیا بھر کی جی ڈی پی کے 355فیصد کے مساوی ہے۔بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کے دوران دنیا بھر کے ممالک نے جو مالی سپورٹ کے پروگرام شروع کیے تھے اس سے عالمی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔دنیا بھر کی کمپنیوں کے قرضوں میں 5ہزار 400ارب ڈالر کا اضافہ ہوچکا ہے۔ بینکوں کے قرضے 3ہزار 900ارب ڈالر جبکہ کنزیومر فنانسنگ 2ہزار 600ارب ڈالر سے بڑھ چکی ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2008اور 2009کے عالمی مالیاتی بحران میں جی ڈی پی میں قرضوں کی شرح محض 10سے 15فیصد ہی بڑھی تھی تاہم کرونا وائرس کے باعث عالمی قرضے ایک سال میں 35 فیصد بڑھ چکے ہیں۔دوسری جانب انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل فنانس کی رپورٹ کے مطابق رواں سال عالمی معیشت میں استحکام کے امکانات محدود ہیں۔ رواں سال بھی بیشتر ممالک کرونا وائرس کی عالمی وبا سے پہلے والی صورتحال سے دوچار رہیں گے اور قرضوں کا حصول بھی غیر معمولی رہے گا کیونکہ ابھی معیشتوں کی بحالی میں کافی عرصہ لگے گا۔آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس سال حکومتوں کے قرضوں میں مزید 10ہزار ارب ڈالر اضافے کی توقع ہے جس کے بعد دنیا بھر کے ممالک کے حکومتی قرضوں کا حجم 92ہزار ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گا۔

عالمی قرضے

مزید :

صفحہ آخر -