سینیٹر مشاہد اللہ خان کے انتقال پر مسلم لیگ ن امارات کے رہنماﺅں کی تعزیت

سینیٹر مشاہد اللہ خان کے انتقال پر مسلم لیگ ن امارات کے رہنماﺅں کی تعزیت
سینیٹر مشاہد اللہ خان کے انتقال پر مسلم لیگ ن امارات کے رہنماﺅں کی تعزیت

  

دبئی (طاہر منیر طاہر) سینیٹر مشاہد اللہ خان کے انتقال کی خبر امارات میں موجود پاکستانیوں میں بڑے غم اور دکھ کے ساتھ سنی گئی۔ ایم این اے چودھری نورالحسن تنویر جنرل سیکرٹری پاکستان مسلم لیگ ن انٹرنیشنل افیئرز نے مرحوم مشاہد اللہ خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک نڈر، بے باک، باکمال، مخلص، انسان دوست، مسلم لیگ ن اور قیادت کے ساتھ مخلص تھے۔ مشاہد اللہ خان نے ہر موقع پر پاکستانی عوام اور ان کو درپیش مسائل کی صحیح ترجمانی کی، وہ ایک بہترین دوست بھی تھے جن کی خدمات کبھی فراموش نہ کی جاسکیں گی۔

چودھری نورالحسن تنویر نے کہا کہ مشاہد اللہ خان جب سینیٹ میں بولتے تھے تو ان کی آواز اور لہجہ میں دبدبہ ہوتا تھا، سب ان کی بات بڑی غور سے سنتے تھے۔ وہ طبیعت کے سادہ لیکن ہنس مکھ انسان تھے وہ جس بھی محفل میں ہوتے اس محفل کو کشت زعفران بنا دیتے تھے۔ ان کی شاعری بھی دل کو چھو لینے والی ہوتی تھی، انہوں نے اپنی شاعری میں پاکستان کے موجودہ حکمرانوں پر شدید تنقید کے نشتر چلائے ہیں، ان کے اشعار ”زمین بیچ ڈالی، زمین بیچ ڈالی، لہو بیچ ڈالا“ بہت مشہور ہوئی جس میں عصر حاضر کی بہترین ترجمانی کی گئی ہے۔

سینیٹر مشاہد لالہ خان کے انتقال پر ملال کے موقع پر شارجہ میں بھی ایک تعزیتی ریفرنس ہوا جس میں مسلم لیگ ن امارات کے جنرل سیکرٹری محمد شہزاد بٹ، صدر پی ایم ایل این دبئی عامر سہیل گھمن، نائب صدر میاں غلام محی الدین، جان قادر صدر منیارٹی ونگ، وقاص گھمن انفارمیشن سیکرٹری، محمد رزاق وائس پریذیڈنٹ اور محمد اشرف ایگزیکٹو ممبر مسلم لیگ ن دبئی کے علاوہ حاجی محمد یونس اور رانا شہزادہ انیس نے بھی شرکت کی۔

پی ایم ایل این کے متذکرہ رہنماﺅں نے مشاہد اللہ خان کی پارٹی کے لئے خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے سینیٹ میں پارٹی اور پاکستان کی عوام کی بہترین ترجمانی کی ہے اور صاف ستھری سیاست کا حق ادا کردیا ہے۔ متذکرہ رہنماﺅں نے اجتماعی دعا میں مشاہد اللہ خان کے جنت میں درجنات کی بلندی کی دعا کی اور کہا کہ مشاہد اللہ خان کا انتقال مسلم لیگ ن کے لیے ایک بہت بڑا صدمہ ہے، ان کے انتقال سے جو سیاسی خلا پیدا ہوا ہے اس کی تلافی مستقبل قریب میں ناممکن ہے۔

مزید :

عرب دنیا -تارکین پاکستان -