ہر سیاسی جماعت کی عددی تعداد کے مطابق سینیٹ میں نمائندگی ہونی چاہیے:سپریم کورٹ

ہر سیاسی جماعت کی عددی تعداد کے مطابق سینیٹ میں نمائندگی ہونی چاہیے:سپریم ...
ہر سیاسی جماعت کی عددی تعداد کے مطابق سینیٹ میں نمائندگی ہونی چاہیے:سپریم کورٹ

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سپریم کورٹ میں اوپن بیلٹ سے سینیٹ انتخابات کروانے کر صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ سینیٹ کو قائم کرنے کا مقصد متناسب نمائندگی دینا ہے، چھوٹی جماعتوں کو بھی سینیٹ میں نمائندگی ملتی ہے، سیاسی جماعتوں کی متناسب نمائندگی قانون سازوں کے ذہن میں تھی۔

سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت جاری ہے جس دوران رضا ربانی پیش ہوئے اور انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ کی تشکیل کا بنیادی مقصد فیڈریشن ہے،قائداعظم محمد علی جناح کے 14 نکات میں فیڈریشن اہم نکتہ تھا،سینیٹ کو قائم کرنے کا مقصد متناسب نمائندگی دینا ہے، چھوٹی جماعتوں کو بھی سینیٹ میں نمائندگی ملتی ہے، سیاسی جماعتوں کی متناسب نمائندگی قانون سازوں کے ذہن میں تھی، متناسب نمائندگی کے نظام کے نیچے بھی 3 مختلف نظام موجود ہیں، ہر آرٹیکل میں الگ نظام سے متعلق بتایا گیا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ضروری نہیں سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ حکمران جماعت کیخلاف جائے،اتحادی جماعتوں کی اپنی طاقت ہو سکتی ہے، ہر سیاسی جماعت کی عددی تعداد کے مطابق سینیٹ میں نمائندگی ہونی چاہیے۔ جسٹس اعجاز الھسن نے ریمارکس دیئے کہ ووٹ سیکرٹ رکھنے کے پیچھے کیا منطق تھی؟ رضا ربانی نے کہا کہ شاید خفیہ اس لیے رکھا گیا کہ کسی سیاسی جماعت کاصحیح تناسب نہ آسکے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کسی کے2ممبرہوں وہ حلیف جماعتوں سے اتحاد قائم کرسکتی ہے؟ آپ ہمیں متناسب نمائندگی سے متعلق بتا دیں، آپ انفرادی حیثیت میں لارجر بنچ کے سامنے پیش ہورہے ہیں،رضا ربانی نے کہا کہ ہمیں آئین سازوں کے دماغ کو سمجھنا ہوگا،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ متناسب نمائندگی کا لفظ آرٹیکل 59 اور 51 میں موجود ہے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -