پی ایس ایل کو بکیز کے جال سے بچانے کیلئے پلان تیار کر لیا گیا

پی ایس ایل کو بکیز کے جال سے بچانے کیلئے پلان تیار کر لیا گیا
پی ایس ایل کو بکیز کے جال سے بچانے کیلئے پلان تیار کر لیا گیا
سورس: Twitter

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چھٹے ایڈیشن کو بکیز کے جال سے بچانے کا پلان تیار کر لیا ہے اور ٹورنامنٹ کی ہر ٹیم کے ساتھ ایک اینٹیگرٹی آفیسر سائے کی طرح موجود ہے جبکہ آفیشلز کیساتھ ساتھ کھلاڑیوں کو بھی اینٹی کرپشن کا سبق یاد دلایا جائے گا۔ 

تفصیلات کے مطابق گزشتہ سال پی ایس ایل کا سیزن شروع ہونے سے قبل ہی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے عمراکمل کو مشکوک افراد سے روابط کے الزام پر معطل کر دیا گیا تھا اور بعد ازاں جرم ثابت ہونے پر وہ تین سالہ پابندی کی زد میں آئے جس پر انہوں نے اپیل کی تو سزا کا دورانیہ 18 ماہ کر دیا گیا، اس پر انہوں نے عالمی ثالثی عدالت سے سزا میں مزید کمی اور پی سی بی نے اضافے کیلئے رابطہ کیا جس پر فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد ابھی نہیں سنایاگیا ہے تاہم اس مرتبہ بورڈ کی کوشش ہے کہ ایسا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے اور اس مقصد کیلئے کیلئے سخت اقدامات کر لئے گئے ہیں۔ 

ڈائریکٹر سیکیورٹی اینڈ اینٹی کرپشن لیفٹیننٹ کرنل (ر) آصف محمود نے نجی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آفیشلز کو تو بریفنگ دی جا چکی، اب کھلاڑیوں کو بھی اینٹی کرپشن کا سبق یاد دلایا جائے گا، انہیں آئی سی سی کی جانب سے ارسال کردہ مشکوک افرادکی تصاویر وغیرہ دکھائی جائیں گی،ہم اپنے ریڈار میں موجود لوگوں کے بارے میں بھی بتائیں گے کہ ان سے بچ کر رہنا ہے، اس کے باوجود اگر کوئی مشکوک رابطہ ہو تو فوراً ہمیں بتائیں۔ 

انہوں نے کہا کہ ٹیم کے ساتھ ہوٹل فلور میں ایک، ایک اینٹیگریٹی آفیسر موجود ہے، زوم میٹنگز بھی تواتر سے ہو رہی ہیں،قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہمارا رابطہ ہے، ضرورت پڑنے پر ان سے بھی مدد لی جا سکے گی، چونکہ پی ایس ایل پاکستان کا ڈومیسٹک ایونٹ ہے اس لئے آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کے آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی، پہلے بطور مبصر انہیں بلاتے تھے لیکن اب کوویڈ کی وجہ سے شاید ایسا ممکن نہیں ہو سکے گا۔

جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ گزشتہ سال پی ایس ایل سے قبل ہی عمر اکمل کیس کا سامنے آنا اینٹی کرپشن یونٹ کی ناکامی نہیں تھی؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں ہے، ہم ہر وقت الرٹ ہوتے ہیں لیکن صرف معلومات پر کارروائی نہیں کی جا سکتی، کئی بار ثبوت کا انتظار کرنا پڑتا ہے، ہم نے بھی انتظار کیا پھر عمر اکمل کو بلا کر مشکوک میٹنگز کا پوچھا، اسی دوران انہوں نے 2 آفرز ملنے کا اعتراف کر لیا، ہم ہر انٹرویو کا ریکارڈ رکھتے ہیں اور اس وجہ سے عمر اکمل کے اعترافی بیان کی بھی ویڈیو ریکارڈنگ موجود ہے، اس کے بعد ایونٹ میں دوسرا کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا۔ 

مزید :

کھیل -