ہائی ایل ٹی ٹیوڈ پورٹرز اور شہادت

ہائی ایل ٹی ٹیوڈ پورٹرز اور شہادت
ہائی ایل ٹی ٹیوڈ پورٹرز اور شہادت

  

تحریر، فہیم نقوی

رزق حلال عین عبادت ہے اور خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کا ذاتی شوق ان کا پروفشن بھی بن جاتا ہے اور خاص کر  جب انسان کا پروفیشن  اس کے ملک کا نام بھی روشن کرتا  ہو تو کیا ذہنی سکون اور خوشی ملتی ہے اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔   کوہ پیمائی ایک شوق بھی ہے، کھیل بھی اور اکثر کے لئے پیشہ بھی۔  ہمارے ملک کے  پورٹرز ان کوہ پیماؤں/سیاحوں کا 25/25 کلو تک کا سامان اٹھا کر کافی دنوں کی مسافت طے کر کے K2  بیس کیمپ تک پہنچاتے ہیں اور اپنے اور اپنے بچوں کے لئے حلال رزق کماتے ہیں۔اگر دیکھا جائے تو یہ کام کوہ پیماؤں سے بھی زیادہ مشکل اور سخت ترین ہوتا ہے۔کیونکہ کوہ پیما صرف آگے بڑھنا چاہتے ہیں جب کہ پورٹر اس کا سارا وزن اٹھا کے اسے اس مقام تک پہنچاتا ہے جہاں جاکے وہ اپنا پرچم بلند کرتا ہے، شہرت کماتا ہے اور اس کا پورٹر گمنام ہی رہ جاتا ہے۔ اس دوران ان جوانوں کا ایک ایک قدم اور سانس عبادت شمار ہوتا ہے اور اگر اس دوران راستے کی دشواریوں کی وجہ سے  جان گنوا بیٹھیں تو  بیشک رزق حلال کی خاطر گھروں سے نکلے یہ تمام جوان شہید ہی شمار ہوں گے۔ 

 علی سدپارہ جیسے مضبوط دل اور اعصاب کے مالک اکثر پورٹرز ان کوہ پیماؤں کا سامان اوپر  پہاڑوں کی چوٹیوں تک بھی لے جاتے ہیں، انکے لئے رسیاں لگاتے ہیں، راستے بناتے ہیں، کیمپ لگاتے ہیں اور اگر مزید ہمت کر کے چوٹی تک پہنچ جائیں تو وہ بھی اپنے ملک پاکستان کا پرچم وہاں لہراتے ہیں اور ریکارڈ قائم کرتے ہیں۔  ایسا ہی کرتے کرتے علی سدپارہ اب مکمل خودمختار کوہ پیما بن کر سامنے آ چکے تھے اور پاکستان کی طرف سے 14 میں سے 8 بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنے کا ریکارڈ رکھتے تھے۔  

جان سنوری نے K2 کی حالیہ مہم کے لئے علی سدپارہ کی خدمات عام سیزن کے مقابلے میں دوگناہ زیادہ معاوضہ پر   حاصل ضرور کی تھیں مگر بلا شبہ یہ جوان بھی اپنے شوق کے ساتھ ساتھ  سردی کے اس موسم میں پہلی مرتبہ K2  پر اپنے ملک کا پرچم لہرانے، دنیا کو پاکستان اور اس کی  سیر و سیاحت کی طرف متوجہ کرنے اور اپنے خاندان کے رزق کے حصول کی خاطر اپنی جان کا  خطرہ مول لے رہا تھا۔  وہ یہ بخوبی جانتا تھا کہ اوپر صرف دو ہی راستے ہیں، زندگی یا موت۔ بلاشبہ علی سدپارہ کی یہ موت رزق حلال کی تلاش میں شہادت کی موت ہے۔  (واللہ اعلم)  خدا علی سدپارہ کے درجات بلند فرماۓ ۔ آمین ۔وہ مر کے بھی امر ہوگئے مرے کہاں وہ ہمارے دلوں میں زندہ ہیں وہ ہیرو کی زندگی جیے اور ہیرو کی طرح رخصت ہوئے۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -