ماں کی دعا……؟

      ماں کی دعا……؟
      ماں کی دعا……؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  آج کل بعض کاروں کی عقبی سکرین پر ایک سٹکر لگا ہوا دیکھا جا سکتا ہے جو جلی حروف میں لکھا ہوتا ہے۔اس کی عبارت یہ ہوتی ہے: ”یہ سب میرے ماں باپ کی دعا ہے“۔…… کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا اس سٹکر کی عبارت یہ ہوتی تھی: ”یہ سب میری ماں کی دعا ہے“۔ لوگ اس سٹکر کو پڑھتے تھے اور تنقید کیا کرتے تھے کہ کیا صرف اکیلی ماں کی دعا ہی بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت پاتی ہے اور کیا اس میں باپ کا کوئی حصہ نہیں ہوتا؟ قیاس کیا جاتا ہے کہ اسی تنقید کے پیشِ نظر، سٹکر سازوں نے اس عبارت کو  تبدیل کر دیا ہوگا اور اسے (یعنی کار کی عطائیگی کو) ماں باپ کی ’مشترکہ دعا‘ کاحاصل بنا دیا ہوگا۔ اب معلوم ہوتا ہے کہ یہ عبارت دیکھ کر ماں باپ دونوں خوش ہوتے ہوں گے کہ متعلقہ گاڑی اُن کی دعاؤں کا حاصل ہے اور اکیلی ماں ہی اس ’عطا‘ کی ٹھیکے دار نہیں۔

یہاں یہ سوال بھی ذہن میں اٹھتا ہے کہ کیا ماں اپنے کسی بچے کو بددعا بھی دے سکتی ہے؟ مزید یہ کہ پیدل چلتے لوگ کیا یہ سمجھنے میں حق بجانب  نہیں کہ اگر کار، کسی ماں باپ کی دعا کا نتیجہ ہے تو ان کی اس گاڑی سے محرومی کیا والدین کی کسی بددعا کا نتیجہ ہے؟…… یہ سوال کافی بجا اور حق بجانب معلوم ہوتا ہے۔ بعض قارئین شاید یہ سوال بھی کرتے ہوں گے کہ یہ گاڑیاں اور دوسری متحرک (Mobile) یا ساکن (Static) جائیدادیں کیا صرف دعاؤں کی وجہ سے کسی انسان کا مقدر بنتی ہیں یا اس انسان کی کوئی اپنی محنت بھی ان عطاؤں کی سزاوار ہوتی ہے؟ میرے خیال میں یہ دونوں ضروری ہیں۔ والدین کی دعائیں بے شک اپنی اولاد کے لئے ضروری ہیں لیکن جب تک کسی اولاد کی اپنی محنت مشقت کسی جائیدادکا حصہ نہ بنے اس وقت تک اُس عطا کا باعثِ برکت یا وجہِ رسوائی بننا ایک سوالیہ نشان ہی بنا رہتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں پیروں فقیروں اور ولی اولیاؤں کی گدیاں یا شاہانِ وقت کی عطا کردہ جاگیریں بہت جلد گدی کے جانشینوں اور جاگیرداروں کی اولادوں کو ناخلف بنا دیتی ہیں۔ ان کی مائیں اور ان کے باپ لاکھ دعائیں مانگتے رہے ہوں لیکن اولاد کی جب تک ذاتی کوشش و کاوش کسی جائیداد کے دائمی حصول میں شامل نہ ہو، وہ جائیداد زیادہ  دیر تک باقی نہیں رہتی…… اس  جائیداد میں دس مرلہ زمین کا ٹکڑا بھی شامل ہے اور ہفت اقلیم کی شہنشاہی بھی…… کسی ویران محل یا سنسان حویلی کو دیکھ کر یہ حکم نہیں لگایا جا سکتا کہ یہ ویرانی یا سنسانی کسی ماں یا باپ کی بددعاؤں کا نتیجہ ہے…… قصہ مختصر یہ کہ کوئی ’کار‘کسی ماں باپ کی دعاؤں کا حاصل نہیں ہوتی۔ یہاں مجھے ایک برطانوی جنرل کی ایک خود نوشت یاد آ رہی ہے۔ اس کا ذکر اکثر قارئین کے لئے وجہِ استغراق ہو سکتا ہے۔ میری مراد فیلڈ مارشل منٹگمری سے ہے۔

فیلڈ مارشل منٹگمری (Montgomery) 1887ء میں لندن کے ایک مضافاتی علاقے میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ ایک گرجا گھر میں پادری تھا۔ پاکستانی مولوی صاحبان کی طرح برطانوی مسیحی عبادت گاہوں کے امام بھی کثیر العیال ہوتے ہیں۔ منٹگمری کے 8بہن بھائی اور بھی تھے۔ برطانیہ میں کلیساؤں کا انتظام و انصرام خود وہاں کی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ گرجا گھروں کے پادریوں کی تقرریاں اور تبادلے ایک معمول کی بات ہے۔1889ء میں جب منٹگمری کی عمر ابھی دو سال تھی تو اس کے باپ کو تسمانیہ (آسٹریلیا)بھیج دیا گیا۔ وہ ایک عام پادری سے پرموٹ ہو کر تسمانیہ کا بشپ بن گیا۔ منٹگمری کا بچپن اور لڑکپن وہیں تسمانیہ کے ایک بڑے شہر ہوبرٹ (Hobart) میں گزرا۔1901ء میں یہ خاندان انگلستان واپس آ گیا۔

منٹگمری نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی خود نوشت، یادداشتوں (Memoirs) کے نام سے لکھی۔ اس خودنوشت کے صفحہء اول کا دوسرا پیراگراف قابلِ توجہ ہے۔ وہ لکھتاہے: ”یقینا میرا بچپن کوئی ایسا خوشگوار نہ تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ والدہ کے ساتھ میرااکثر جھگڑا لگا رہتا تھا۔ دوسرے لفظوں میں میری زندگی کے ابتدائی برس شدید اور گھمسان کی خانگی لڑائیوں اور جھگڑوں میں گزرے جن میں ہمیشہ والدہ ہی ”فتح یاب“ ہوتی تھیں۔ اگر میں کہیں نظر نہ آتا تو وہ کسی کو فرماتیں: ’جاؤ دیکھو حرامزادہ منٹگمری کیا کررہا ہے۔ وہ جو کچھ بھی کر رہا ہو، اسے کہو بند کرے اور فوراً گھر واپس آئے‘۔ مجھے اکثر بید کی چھڑی سے مار پڑا کرتی تھی۔ لیکن ان مسلسل شکستوں اور سزاؤں سے میں کبھی خوفزدہ یا بددل نہ ہوا۔ مجھے اپنے دو بڑے بھائیوں سے بھی ہمدردی کے کوئی دو بول سننے کو نہیں ملتے تھے۔ وہ دونوں بڑے دبکو اور تابعِ فرمان قسم کے لڑکے تھے اور ناگزیر کو ہونی شدنی سمجھ کر قبول کر لیتے تھے۔ البتہ میری بڑی بہن میری غمگسار اور ہمدرد تھی۔ لیکن مصیبت تو مجھ پر ہی وارد ہوا کرتی تھی اور مجھے ہی برداشت کرنا پڑتی تھی۔ میں کئی غلطیاں کیا کرتا تھا لیکن کبھی جھوٹ نہیں بولتا تھا۔ اس صدق گوئی کے لئے ہر سزا قبول کرلیتا تھا۔ قصور ”دونوں فریقوں“ کا ہوتا تھا۔ اگرچہ زندگی کے ابتدائی ایام ہی میں مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ خوف کیا چیز ہوتی ہے لیکن اس کا احساس آخر کار میرے لئے سود مند ثابت ہوا۔ اگر اس ابتدائی زندگی میں میری ضد اور میرے ہٹیلے پن کو والدہ کی طرح کا کوئی بندہ لگام نہ دیتا تو اس کے نتائج شاید اس سے بھی زیادہ ناقابلِ برداشت ہوتے جن کی نشاندہی میرے ناقدین نے آگے چل کر میری شخصیت کے بارے میں کی۔ میں اس امر کا فیصلہ بھی نہیں کر سکتا کہ آیا والدہ کا یہ تلخ اور بے رحمانہ سلوک میرے لئے بہتر تھا یا نہیں تھا…… اور آج تک بھی میں اس بات کا فیصلہ نہیں کر سکا ہوں“۔

جیسا کہ اوپر لکھ چکا ہوں فیلڈ مارشل کی اس خودنوشت کے صفحہء اول کا یہ دوسرا پیراگراف ہے۔ یہ خود نوشت 1958ء میں شائع ہوئی تھی جب منٹگمری کی عمر 71سال تھی۔ لیکن اس کتاب کا پہلا پیراگراف اس دوسرے پیراگراف سے بھی زیادہ چشم کشا ہے اور وہ پیراگراف یہ ہے:

”سرونسٹن چرچل نے اپنی ایک کتاب ”مارل برو…… ان کی زندگی اور ان کا عہد“ میں بعض لوگوں کے ناخوشگوار بچپن کے بارے میں جو توجیہہ پیش کی ہے وہ کچھ اس طرح ہے: ”حالات کی سنگدلی کا جبر…… غربت و افلاس کی خلش…… بچپن کی بے عزتیاں اور طعن و تشنیع…… یہ سب کچھ کسی عظیم مقصد کے استحکام اور عقلِ سلیم کو بیدار کرنے کے لئے از بس ضروری ہوتا ہے کہ جس کے بغیر کوئی بھی عظیم کارنامہ سرانجام نہیں دیا جا سکتا“۔

منٹگمری کے بچپن میں یہ تینوں محرومیاں ہمیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اس نے غربت میں آنکھ کھولی۔ باپ ایک معمولی سا پادری تھا۔ نو(9) بہن بھائی تھے۔ والدہ کی گالیاں، جھڑکیاں، بدنی سزائیں اور بددعائیں ایک معمول تھیں۔ اس کی شکل و صورت بھی بس واجبی سی تھی۔ اس کی تصاویر دیکھ کر کبھی یہ گمان نہیں گزر سکتا کہ یہ منحنی سا انسان ایک عظیم فیلڈ مارشل بھی ہو سکتا ہے۔ وہ پڑھائی میں بھی کچھ زیادہ ذہین و فطین نہ تھا۔ شاید والدہ کی زیادتیوں اور مار کٹائی کے سبب اسے عورت ذات سے کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی۔ اس کے دوست کہا کرتے کہ فوج ہی اس کی بیوی ہے اور وہی اس کی محبوبہ ہے۔ اس نے 40برس کے بعد کہیں جا کر شادی کی اور وہ بھی ایک بیوہ کے ساتھ جس کے پہلے شوہر سے دو بیٹے تھے۔ یہ محبت کی شادی تھی۔شاید منٹگمری کی بڑی بہن کی ہمدردی اس کا سبب ہوگی، کچھ کہا نہیں جا سکتا!

فیلڈ مارشل کی یہ Memoirs پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں …… میں عرض یہ کررہا تھا کہ آیا ماں کی دعا یا بددعا کسی عطا کا باعث ہو سکتی ہے یا نہیں؟ بات بہت دور نکل گئی۔ عظیم لوگوں کی سوانح اور خود نوشتیں پڑھیں تو ان سے قاری کو بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ صرف دعا ہی کسی عظیم بخشیش کا سبب نہیں ہوتی خواہ وہ ماں کی دعا ہو یا باپ کی۔ ہاں ماں کی دعا کے حصول میں بھی ویسی ہی محنت و مشقت کی ضرورت ہوتی ہے جیسی کسی عظیم مقصد کی طلب میں سعی و کوشش کی۔ ماں اپنی اولاد کو دل سے کبھی بددعا نہیں دے سکتی۔ اولاد اس کے جسم کا حصہ ہوتی ہے، اس کی رگ رگ میں سمائی ہوتی ہے اور اس کی روح میں بسی ہوتی ہے۔ اگر کوئی بیٹا یا بیٹی ان باتوں کا احساس نہیں کرتی تو اس دنیا میں وہ شاید اس کی سزا نہ پائے، لیکن اگلی دنیا میں یہ سزا مبرم اور یقینی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -