بھارت میں خواتین کے لیے ایک نئی پستول متعارف کروادی گئی

بھارت میں خواتین کے لیے ایک نئی پستول متعارف کروادی گئی

نئی دہلی (ثناءنیوز)بھارت میں خواتین کے لیے ایک نئی پستول متعارف کروائی گئی ہے جس کا نام گذشتہ سال دلی میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو جانے والی طالبہ کے نام پر رکھا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس پستول سے خواتین کو اپنے تحفظ میں مدد ملے گی جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ متاثرہ لڑکی کی یاد کی توہین ہے۔بھارت میں اسلحہ بنانے والی ایک ریاستی فیکٹری میں تیارہ کردہ اس پستول کا وزن صرف پانچ سو گرام ہے اور یہ 32 بور کا ریوالور ہے۔فیکٹری کے جنرل مینجر عبد الحمید نے بتایا کہ یہ پستول پندرہ فٹ تک اپنے ہدف پر درست نشانہ لگا سکتی ہے اور اس کا نام نربیک رکھا گیا ہے۔اگرچہ مرد بھی اسے استعمال کر سکتے ہیں، خواتین کو اس کی طرف راغب کرنے کے لیے اس کے ساتھ آپ ایک جولری کیس بھی خرید سکتے ہیں۔

لفظ نربیک نربھایا کا مترادف ہے جو کہ بھارتی پریس نے بطور متاثرہ لڑکی کے نام کے استعمال کیا تھا۔ بھارتی قوانین کے تحت اس لڑکی کا نام ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔ ان دونوں الفاظ کا ہندی زبان میں مطلب بے خوف ہوتا ہے۔پستولوں سے منسلک تشدد پر کام کرنے والی ایک تنظیم کی نیپرام کا کہنا ہے کہ پستول ہونے سے آپ زیادہ محفوظ نہیں ہوتے بلکہ آپ کو لاحق خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تنظیم کی تحقیق کے مطابق ایک مسلح انسان کے ہلاک ہونے کا امکان بارہ گنا زیادہ ہے۔اگرچہ خواتین کے لیے ہلکے وزن کی پستول پر کام پہلے سے ہو رہا تھا لیکن گذشتہ سال کے واقعے کے بعد اس کام میں تیزی آئی ہے۔ 23 سالہ لڑکی کو جنسی زیادتی کے بعد لوہے کے ایک ڈنڈے سے مارا گیا اور پھر چلتی بس سے پھینک دیا گیا تھا۔اس پستول کی قیمت سوا ایک لاکھ بھارتی روپے کے قریب ہے۔ اس کے باوجود عبد الحمید کہتے ہیں کہ اس کی کافی مانگ ہے۔اس پستول کے متعارف کرنے کے بعد سے بھارت میں بحث شروع ہو گئی ہے کہ کیا اس سے خواتین زیادہ محفوظ ہوں گی کہ نہیں۔کانپر کے چنف آف پولیس رام کرشنا چتروردی کہتے ہیں کہ اس سے خواتین زیادہ محفوظ ہوں گی۔وہ کہتی ہیں کہ یہ بالکل ایک اچھا خیال ہے۔ اگر آپ کے پاس قانونی ہتھیار ہو تو آپ کی خود اعتمادی بھی بڑھتی ہے اور مجرموں کو خوف بھی آتا ہے۔اس پستول کو خریدنے کی خواہش مند کانپور کی طالبہ پراتھیبا گپتہ کہتی ہیں کہ اگرچہ اس سے خواتین کو طاقت ضرور ملتی ہے مگر یہ بہت مہنگی ہے اور لائسنس لینا کافی مشکل کام ہے۔میرے سامنے والے کو اگر پتہ ہو کہ اس کہ پاس پستول ہے تو ڈرے گا۔ یہ پستول میری حامی، میری دوست اور میری طاقت ہوگی۔دلی ریپ کے بعد ملک میں اس معاملے پر کافی غم و غصہ دیکھا گیا اور بھارتی حکومت نے جنسی زیادتی کے بارے میں سخت تر قوانین متعارف کیے۔اس واقعے کے بعد خواتین نے دفاعی کلاسوں جیسی مختلف حفاظتی تدابیر کیں۔تاہم حیران کن حد تک خوفناک واقعات اب بھی اخباروں کی سرخیاں بن رہے ہیں۔دوسری جانب پستولوں کے ناقدین اس نئے انداز سے حیران ہیں۔غیر سرکاری تنظیم ویمن گن سروائیورز نیٹ ورک کی بانی بینا لکشمی نیپرام کہتی ہیں میں اس سے غصہ، خوفزدہ اور حیران ہوں۔وہ کہتی ہیں کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ریاست خواتین کو مسلح کرنے کی بات کر رہی ہے۔ حکام یہ کہہ رہے ہیں کہ خواتین آئیں، یہ لیں پستول۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی ناکامی کا اعتراف کر رہے ہیں۔پستولوں سے منسلک تشدد پر کام کرنے والی ایک تنظیم کی نیپرام کا کہنا ہے کہ پستول ہونے سے آپ زیادہ محفوظ نہیں ہوتے بلکہ آپ کو لاحق خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تنظیم کی تحقیق کے مطابق ایک مسلح انسان کے ہلاک ہونے کا امکان بارہ گنا زیادہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں زیادہ تر لوگوں کی سالانہ آمدنی اس پستول کی قیمت سے زیادہ ہے تو یہ کیسے خواتین کو محفوظ بنائے گی۔

مزید : عالمی منظر