مصرمیںریفرنڈم کے بعد پرتشدد مظاہرے شروع ،ایک ہلاک ،بیسیوں گرفتار

مصرمیںریفرنڈم کے بعد پرتشدد مظاہرے شروع ،ایک ہلاک ،بیسیوں گرفتار

قاہرہ(ثناءنیوز)مصر کے برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں اور اخوان المسلمون کے کارکنان نے فوج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت اور نئے آئین کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔اس دوران سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو ہلاک کردیا ہے۔اخوان المسلمون کے حامیوں نے دارالحکومت قاہرہ کے علاقوں جیزہ ،الحرم ،الف مسکان،نصرسٹی اور حلوان اور دوسرے شہروں فایوم اور سویز میں نماز جمعہ کے بعد حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔مصری سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو قاہرہ کے اہم چوکوں، چوراہوں اور مشہور میدان التحریر کی جانب جانے سے روکنے کے لیے راستوں کو گاڑیاں کھڑی کر کے بند کردیا۔

 تھا۔اخوان المسلمون کی قیادت میں اتحاد نے سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے خلاف 2011 میں برپا شدہ انقلاب کی تیسری سالگرہ کے موقع پر مجوزہ آئین کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی تھی لیکن بعض علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کے دوران تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں۔سویز شہر میں بعض مظاہرین تشدد پر اتر آئے اور انھوں نے پولیس کی جانب پٹرول بم پھینکے ،ہوائی فائرنگ کی اور پتھرا کیا جس کے جواب میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس استعمال کی۔مظاہرین نے تین موٹر سائیکلوں کو نذرآتش کردیا۔مصر کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ میں پولیس نے سترہ مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے اور ان سے مصری ساختہ بندوقیں اور پٹرول بم برآمد کیے ہیں۔قاہرہ میں پولیس نے انتالیس مظاہرین کو گرفتار کیا ہے۔درایں اثنا مصری وزارت صحت نے فایوم میں ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔فوری طور یہ واضح نہیں ہوا کہ مرنے والا احتجاجی مظاہرے میں شریک تھا یا عام شہری تھا۔ملک بھر میں تشدد کے واقعات میں پانچ اور افراد زخمی ہوئے ہیں۔اخوان المسلمون کے حامیوں نے حکومت کے خلاف ملک میں نئے آئین پر ریفرینڈم کے انعقاد کے دوروز احتجاجی مظاہرے بعد کیے ہیں۔غیر سرکاری نتائج کے مطابق ریفرینڈم میں 40 فی صد رجسٹرڈ ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے اور ان میں سے 95 فی صد نے نئے آئین کے حق میں ووٹ دیا ہے لیکن فوجی انقلاب مخالف اتحاد کا کہنا ہے کہ ان کے تخمینے کے مطابق صرف گیارہ صد ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔مصر کا الیکشن کمیشن ہفتے کی شام ریفرینڈم کے سرکاری نتائج کا اعلان کررہا ہے۔اس ریفرینڈم کے بعد توقع ہے کہ مصر کے عبوری صدر عدلی منصور مسلح افواج کے پہلے سے وضع کردہ انتقال اقتدار کے منصوبے میں تبدیلی کا اعلان کریں گے اور وہ پارلیمانی انتخابات سے قبل صدارتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کریں گے۔

مزید : عالمی منظر