پاکستان اور یونان تجارتی و معاشی تعلقات نئے خطوط پر استوار کریں

پاکستان اور یونان تجارتی و معاشی تعلقات نئے خطوط پر استوار کریں

لاہور(پ ر) پاکستان میں یونان کے سفیر پیٹروس ماوروئیڈزنے کہا ہے کہ پاکستان اور یونان کو تجارتی و معاشی تعلقات نئے خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھایا جاسکے۔ وہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورہ کے موقع پر لاہور چیمبر کے صدر انجینئر سہیل لاشاری سے گفتگو کررہے تھے۔ لاہور چیمبر کے نائب صدر کاشف انور ، سابق سینئر نائب صدر ملک طاہر جاوید ، ایگزیکٹو کمیٹی اراکین محمد اسلم چودھری، طلحہ طیب بٹ، راجہ حامد ریاض، میاں زاہد جاوید، محمد اکرم، افتخار بشیر چودھری، ناصر حمیداور خواجہ خاور رشید بھی اس موقع پر موجود تھے۔ یونان کے سفیر نے کہا کہ سولر انرجی سیکٹر میں باہمی تعاون کو فروغ دینا دونوں ممالک کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے، پاکستان اور یونان کے تجارتی حجم بہت کم ہے جسے بڑھانے کے لیے دونوں ممالک کو ٹھوس کوششیں کرنا ہونگی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر کے صدر انجینئر سہیل لاشاری نے کہا کہ یونان پاکستان کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ وہاں رہنے والے تیس ہزار کے لگ بھگ پاکستانی نہ صرف یونانی بلکہ رقوم وطن بھجواکر پاکستانی معیشت کے استحکام میں بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی وفود کا تبادلہ ، مشترکل کلچرل شوز کا انعقاد اور دونوں ممالک کے تاجروں کے درمیان براہِ راست روابط دوطرفہ تجارت کو تسلی بخش سطح پر لانے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کمیونیکیشن، کنسٹرکشن، آٹوموبائل پارٹس، فوڈ پراسیسنگ، فشریز، ایگریکلچر، ہوٹل انڈسٹری اور ریئل سٹیٹ کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم صرف تہتر ملین ڈالر کے لگ بھگ ہے ۔ اگرچہ تجارت کا توازن پاکستان کے حق میں ہے دوطرفہ تجارت بالکل بھی تسلی بخش نہیں لہذا اُن شعبوں میں مل کر کام کیا جائے جو نظر انداز ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوںممالک کے تاجروں کے لیے تجارتی معلومات کی عدم دستیابی بھی تجارت کے فروغ کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ہے لہذا انہیں اس کے لیے بھی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یونان کی ضروریات پوری کرنے کی بھرپور اہلیت رکھتا ہے لہذا یونان کو فوڈ آئٹمز، گوشت، ڈیری پروڈکٹس، الیکٹریکل مصنوعات، فینسی فرنیچر اور فیشن انڈسٹری مصنوعات کی درآمد کے سلسلے میں پاکستان کو ترجیح دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ یونان کے سفارتخانے کے تعاون سے دونوں ممالک کے چیمبرز آف کامرس تجارتی وفود کے تبادلے سمیت بہت سے مفید اقدامات اٹھاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونان کے سرمایہ کارپاکستان کے انرجی ، آئل اینڈ گیس، انفراسٹرکچر اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری سے وسیع فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔

مزید : کامرس